میاں سبطین انصاری
ہم ایک فراموش کار قوم ہیں۔ ہم اپنے ہی مسائل بھلا بیٹھے ہیں۔ ہمارے کشمیری بہن بھائی ہمیں مدد کیلئے پکار رہے ہیں لیکن ہم نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے فراموش کر دیا ہے۔ مسلم دنیا میں اگر کوئی چھوٹا سا مسئلہ ہو یا کسی خاتون پر ظلم ہو تو دنیا بھر کی این جی اوز سامنے آجاتی ہیں اور واویلا شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن کیا کشمیر، فلسطین اور یمن میں ظلم نہیں ہورہا۔؟ کیا بچے نہیں مارے جارہے ؟کیا عصمتیں پامال نہیں ہورہیں ؟ کیا وہاں پر انسانوں کے حقوق نہیں ہیں؟ جن کے سامنے ان کے بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کے سہاگ اجاڑے جا رہے ہیں۔ ماؤں کو بیٹوں کی مسخ شدہ لاشیں اور بیٹیوں کی لٹی ہوئی عصمتوں کی لاشیں روزانہ دی جارہی ہیں۔ کیا ان پر بھی کوئی بولنے اور لکھنے والا بھی ہے۔؟
گزشتہ کئی سالوں سے کشمیر کو فتح کیا جا رہا ہے۔ اسے مختلف علاقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ باقی خطوں کے لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی کردار نظر نہیں آ رہا ہے۔
اپنی اسی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوۓ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے تحت چھٹے انٹرنیشنل آنلائن سیشن کا اہتمام ہوا۔ جس میں میزبانی کے فرائض نذر حافی صاحب نے انجام دیئے۔ مولانا مقصود علی ڈومکی صوبائی صدر مجلس وحدت مسلمین بلوچستان اور معروف صحافی، ادیب اور سابق بیوروکریٹ جناب اکرم سہیل صاحب اس سیشن کے مہمانان خصوصی اور سپیکرز تھے۔
پہلی گفتگو میں مولانا ڈومکی صاحب نے کشمیر کے متعلق اپنی اور پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ بالعموم دنیا ئے اسلام اور بالخصوص پاکستان کا مسئلہ ہے۔ جدو جہد آزادی میں ہزاروں شہدا نے شہادت کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس جدوجہد کے اصل فریق ہمارے کشمیری بھائی ہیں۔ ان کو اپنے مقدر کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ قائداعظم کے فرمان پر سب کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ پاکستان کا بچہ بچہ اس تحریک کے ساتھ ہے۔ پاکستان کی عوام نے ہر موقع پر کشمیری عوام کا پہلے بھی بھرپور ساتھ دیاہے اور آئندہ بھی دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ بھی فلسطین کی طرح ہے۔ جس طرح وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں کشمیری بھی لڑ رہے ہیں۔ جس طرح اسرائیل غاصب ہے اسی طرح انڈیا بھی غاصب ہے۔ جس طرح ان کو حمایت کی ضرورت ہے اسی طرح کشمیریوں کو بھی حمایت کی ضرورت ہے۔ امت مسلمہ کے خائن حکمرانوں نے ہمیشہ کشمیر اور فلسطین کے ساتھ خیانت کی ہے۔
امام خمینی کا اہم کارنامہ یہ تھا کہ جب عرب حکمرانوں کی خیانت کی وجہ سے مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالا جارہا تھا تو انہوں نے یوم القدس کا دن منانے کا حکم دیا۔ اب یہ غاصب حکمرانوں کی میز کے بجائے امت مسلمہ کا مسئلہ بن گیا ہے اب وہ اس کی حفاظت کرے گی۔ اسی طرح امت مسلمہ کو یوم القدس کی مانند یوم کشمیر کا اعلان بھی کرنا چاہیے۔ اس طرح مسئلہ کشمیر کی اہمیت پوری دنیا میں بڑھ جاۓ گی۔ اسی طرح کشمیری مجاہدین کو بھی اپنے قوت بازو پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ دوسری دنیا ان پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کی بجائے ان کے ساتھ تعاون کرے۔ کشمیری باصلاحیت لوگ ہیں، ان کو اپنے مقدر کے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے اس طرح کار کردگی نہیں دکھائی جس طرح دکھانی چاہیے تھی۔ کشمیر کمیٹی بنائی گئی ہے لیکن اس کا کوئی کام نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کشمیر کمیٹی کی عدمِ فعالیت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کو کانفرنسز کرنی چاہیے اور مختلف ممالک میں وفود بھیجنے چاہئے۔ مسلم ممالک کا ایک ہی ادارہ او آئی سی رہ گیا ہے وہ بھی ناکارہ ہے۔ اس سے امید لگانا فضول ہے۔ ا سکے ساتھ ساتھ عمران خان صاحب نے ٹرمپ اور باقی عرب حکمرانوں سے جو امیدیں لگائی ہیں وہ بھی احمقانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی دنیا کے ہر ملک میں پھیلے ہوئے ہیں وہ کشمیریوں کی بھرپور آوز بنیں۔ اس طرح کافی حد تک مسئلہ کشمیر و فلسطین کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔
اس کے بعد دوسرے سیشن کے مقرر معروف سابق بیوروکریٹ اور دانشورجناب اکرم سہیل صاحب نے خطاب کیا۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ انہوں نے پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا کہ ہر مشکل وقت میں وہ کشمیریوں کی مدد سے پیچھے نہیں ہٹے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کمزور ممالک اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتے اور دوسروں سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں کہ ان کے مسائل حل کریں۔اس کے ساتھ ہی ہماری کچھ غلط پالیسیاں بھی ہیں۔ ہم تین جنگیں کر چکے ہیں لیکن مسئلے کا حل نہیں نکلا۔ اب ہمیں مذاکرت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے۔ کم سے کم گفتگو اور ڈائیلاگ کا رستہ تو کھلا رکھنا چاہیے۔ ماضی میں بہت سے ایسے مواقع آۓ کہ جب مسئلہ کشمیر کا باعزت طریقے سے حل نکل سکتا تھا۔ ان میں سے ایک موقع وہ تھا کہ جب واجپائی پاکستان آۓ اور چناب فارمولہ پیش کیا گیا تو کارگل کا مسئلہ کھڑا کر اسے سبوتاژ کر دیا گیا۔
پھر بعد ازاں خود جنرل مشرف اسی رستے پر چلتے نظر آۓ لیکن پیچیدہ طریقے سے۔ انہوں نے جو چار نکاتی حل پیش کیا تھا، وہ بھی قابل غور تھا۔ خورشید محمود قصوری نے کہا تھا کہ اگر مشرف چھ مہینے اور باقی رہ جاتے تو یہ لاگو ہو جانا تھا۔ سب فریقین کی میزوں پر اس کی کاپی موجود تھی اور صرف سائن ہونے باقی تھےلیکن پھر نام نہاد عوامی وکلا انقلاب کے ذریعے پرویز مشرف کو چلتا کر دیا گیا۔ اس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل تھے۔
اب جب سے مودی آیا ہے صورتحال گھمبیر ہو گئ ہے۔ ہماری اپنی زبانیں خاموش ہیں تو دوسروں نے کیا آواز اٹھانی تھی۔ جب او آئی سی کے وزراء خارجہ کا اجلاس عرب امارات میں ہوا تو اس وقت ششما سوراج بھارتی وزیر خارجہ کو مہمان بنایا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ اب ضرور ی ہے کہ ہم اپنی پچھلی ستر سالہ پالیسیوں پر غور کریں اور عظیم مکالمے اور ڈائلاگ کا اہتمام کریں۔ آج ہم ستر سال پہلے والی پوزیشن سے بھی ڈیڑھ سو سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ اب کشمیریوں پر ظلم کی انتہا ہو گئی ہے۔ اندرونی صورتحال بہت خراب ہے۔ پیلٹ گنوں سے معصوم بچوں کی بینائی چھین لی گئی ہے۔ہمارے پاس بھارت کو ظالم ثابت کرنے کےلیے موثر دلیل موجود نہیں ہے۔ جب تک ہمارے پاس موثر دلیل نہیں ہوگی دنیا ہماری بات نہیں سنے گی۔ مکمل ہوم ورک کر کے دنیا کے سامنے جانا ہوگا اور مختلف فورمز پر آواز اٹھانا ہوگی۔کشمیر کے مسئلے کو سرحدی مسئلے کی بجائے کشمیری عوام کا مسئلہ پیش کرنا ہوگا۔
اس موقع پر احمد میر صاحب بھی شریکِ گفتگو ہوئے، انہوں نے کہا کہ وہاں پر ڈیموگرافی تبدیل کی جارہی ہے اور یہ بھی بتایا کہ اب وہاں شیعہ سنی کی تقسیم کر کے فرقہ واریت پھیلائی جنے والی ہے تو اس کا سدباب کیسے ہوگا۔
سہیل اکرم صاحب نے جواب میں کہا کہ یہ الارمنگ صورتحال ہے۔ اس کے حل کےلیے انہوں نے مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ کشمیر کی تحریک کو تحریک حریت کے طور پر چلایا جائے ۔ جس طرح میثاق مدینہ کر کے پیغمبر اکرم ص نے مدینے کی حفاظت کا پیمان سب یہود اور باقی قبائل سے لیا۔ اسی طرح یہاں پر بھی سب بسنے والوں سے معاہدہ کر کے مشترکہ طور پر جدوجہد کی جاتی تو زیادہ فائدہ ہوتا۔ جب کہ اس کے برعکس کرکے وہاں کے رہنے والوں کو انڈیا کا ہمنوا بنا دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو ہندوؤں کا دشمن بنا دیا گیا۔ اور اب فرقہ واریت کے ذریعے تحریک آزادی کو کمزور کیا جارہا ہے۔ ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا ہوگا ۔ اسی طرح کشمیری عوام کو بھی ایک ہو کر سوچنا ہوگا کیونکہ کشمیر اُن سب کا ہے۔ کشمیریوں کو مکمل نمائندگی کے ساتھ پاکستان اور ہندوستان کے مذاکرات میں شامل کیا جا نا چاہیے۔ انہوں نے کہا ایک عظیم ڈائیلاگ سے ہی اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکتا ہے۔
