Input your search keywords and press Enter.

17 لاکھ غیر کشمیریوں کو کشمیر ی شہریت کا پروانہ 

   بھارت، جموں و کشمیر کے عوام سے ان کی شناخت، زمین اور قدرتی وسائل سمیت سب کچھ چھیننے کے درپے ہے۔ اس وقت دنیا کرونا وباء  پر قابو پانے میں  مصروف عمل ہے، جبکہ دوسری طرف بھارتی حکمران کشمیریوں کے حقوق غصب کرنے میں مصروف ہیں۔ کشمیریوں کے شہریت قانون میں تبدیلی سے ایک طرف تو انکی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں تو دوسری طرف انکو ان کے  حق خودارادیت کو دبانے کی خاطر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی  کا مرتکب ہو رہا ہے۔ وادی میں کشمیریوں کی آبادی کم کرنے کی خاطر  کیلئے قانون میں تبدیلی کے ذریعے سے غیر کشمیریوں کو وادی میں لا کر بسانے اور انہیں ووٹ کا حق دلانے کی خاطر مرکزی حکومت نے دن رات ایک کیا ہوا ہے، یوں کشمیر میں مسلم اکثریت، اقلیت بن کر رہ جائے گی۔

جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجرا کے قواعد و ضوابط 2020 میں ترمیم کرتے ہوئے اب تحصیلدار اور  نائب تحصیلدار کو بھی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ شہریت کے اس مجوزہ نوٹیفکیشن کے ضابطہ 5 شق میں ترمیم کے ذریعے تحصیلدار اور نائب تحصیلدار دونوں کو مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ رکھنے والے افراد اور ان کے بچوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر اس کے خلاف اپیل سننے کا مجاز ہو گا۔ اس زمرے کے درخواست دہندگان کو درخواست کے ساتھ پی آر سی سرٹیفکیٹ منسلک کرنا ہو گا، جبکہ ان کے بچوں کو والدین کی پی آر سی اور کسی مجاز اتھارٹی کی طرف سے جاری کیا گیا پیدائشی سرٹیفکیٹ منسلک کرنا کافی گا۔

بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کرشن ریڈی نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تاحال 21 لاکھ 13ہزار 8 سو 79 افراد نے ڈومیسائل کے حصول کیلئے درخواستیں دی تھیں، جن میں سے 16 لاکھ سے زائد کر مذکورہ سرٹیفیکیٹ جاری کردیے گئے ہیں۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی سے کشمیریوں کو سب سے زیادہ تحفظات غیر ریاستی باشندوں کو ان کی زمین خریدنے کی اجازت دیئے جانے پر ہیں، جس کو اب تک مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے تحفظ حاصل تھا۔مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے بھی اسی حوالہ سے بیان دیا کہ کشمیریوں کی شناخت پر سمجھوتے سے مقبوضہ خطے میں افراتفری اور خلا پیدا ہو جائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 35 اے کے تحت اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیری ریاست کو حاصل تھا کہ ریاست کا مستقل باشندہ کون ہے۔ بھارتی آئین کا یہ آرٹیکل کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کے تحفظ کا سب سے بڑا ذریعہ تھا، لیکن اب بھارتی شہری مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور یہاں کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا سکتا ہے۔ یہ بلکل  ویسا ہی منصوبہ ہے، جیسے  اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر قبضے کے لئے اسے استعمال کیا تھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات لاکھوں بھارتی فوجیوں نے پہلے ہی اس متنازعہ علاقے میں زمین کے بڑے بڑے قطعات پر قبضہ کر رکھا ہے۔

یوں تو جموں و کشمیر کے ڈومیسائل کے حامل شہری صرف چھوٹے عہدوں کی نوکریاں کرنے کے اہل قرار دیے گئے تھے، جن کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ ساڑے 25 ہزار روپے ہے، جبکہ بڑے عہدوں کی نوکریوں کے لیے بھارت بھر کے افراد کو اہل قرار دیا گیا تھا۔ اب ترمیم شدہ قانون کے تحت کوئی بھی شخص جو جموں و کشمیر میں 15سال سے مقیم ہے یا 7 سال سے تعلیم حاصل کر رہا ہے اور جموں و کشمیر کی یونین کی حدود میں دسویں اور بارہویں کے امتحانات میں حصہ لے چکا ہے، وہ بھی نوکری پر تقرر کا اہل ہو گا۔ تاہم پناہ گزیں کی حیثیت سے رجسٹر شخص کو بھی ڈومیسائل کا حامل تصور کیا جائے گا، جبکہ مذکورہ علاقے میں 10سال سے سرکاری نوکری کرنے والے افراد بھی اسی زمرے میں شمار کیے جائیں گے۔

مودی سرکار اب تک مسلسل مسلم دشمنی کی پالیسی پر کاربند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے 3 لاکھ غیر مقامی افراد کو مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل جاری کردیے ہیں۔ ڈومیسائل حاصل کرنے والوں میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں ہے۔ آنیوالے دنوں میں مزید 14 لاکھ افراد ڈومیسائل کے حامل ہوسکتے ہیں۔ مودی سرکار کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں تعینات 8 لاکھ بھارتی فوجیوں اور 6 لاکھ دیگر غیر مقامی افراد کو بھی شہریت دی جاسکتی ہے۔ جس پر مقبوضہ کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ حریت قیادت اور کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ فیصلے کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں تعینات آٹھ لاکھ بھارتی فوجیوں اور 6 لاکھ دیگر غیر مقامی افراد کو بھی کشمیری شہریت دی جاسکتی ہے۔ تاکہ مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جاسکے۔

بھارت جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت اور عالمی وعدوں اور فیصلوں کو پا?ں تلے روندتے ہوئے، گزشتہ برس پانچ اگست سے مسلسل غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلے کر رہا ہے، جنہیں کشمیریوں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹک پولیٹیکل موومنٹ نے جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظربند کشمیریوں کی حالت زار پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنے کے لئے جموں، ادھم پور، پونا، دہلی اور دیگر شہروں میں تین دہائیوں سے مقیم کشمیری پنڈتوں کیلئے وادی میں خصوصی ٹاون شپ قائم کیے جائیں گے۔ اسی لئے 1990 سے وادی کشمیر سے باہر رہنے والے پنڈت خاندانوں کی کشمیر واپسی کیلئے بھارتی حکومت نے کوششیں مزید  تیز کر دی ہیں۔ ہندوستان کے انتہا پسند وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی آبادکاری کیلئے دس علیحدہ علاقے مختص کیے ہیں۔ یہ علیحدہ بستیاں وادی کشمیر کے ان 10 اضلاع میں قائم کی جائیں گی۔ ان خصوصی بستیوں میں پنڈت خاندانوں کیلئے مکانات تعمیر کیے جانے کے ساتھ ساتھ ہسپتال، مارکیٹ اور سکول کالج کی سہولیات بھی رکھی جائیں گی۔ نئے کشمیر بلیو پرنٹ کے مطابق مخصوص بستیوں کے نزدیک خصوصی سیکورٹی کے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ اس مقصد کیلئے پولیس اور سیکورٹی فورسز کی مشترکہ چوکیوں کا قیام بھی عمل میں لانے کے قوی امکانات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے