Input your search keywords and press Enter.

حریت کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی سازش کو بے نقاب کردیا

سرینگر:(پاک آن لائن نیوز) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے فوجی محاصرے کی آڑ میں غیر مقامی لوگوں میں اندھا دھند طریقے سے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ تقسیم کررہی ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے پیر کو سرینگر میں جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ کشمیری عوام بھارت کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنائیں گے۔

انہوں نے مقبوضہ علاقے میں محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران کشمیری نوجوانوں پر بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم، انہیں ہراساں اور گرفتار کرنے کی شدید مذمت کی۔

ترجمان نے کہا کہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جمائو والا علاقہ ہے جہاں دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے کشمیری عوام کے معمولات زندگی تباہ کردیئے ہیں۔

دریں اثناء کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے انٹرویوز اور تمام عقائد اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کے ردعمل کی بنیاد پر مرتب کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری مودی حکومت کو کسی صورت میں علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت ہندوتوا منصوبے کے تحت مقبوضہ علاقے کے انتخابی حلقوں کی تشکیل نو کر رہی ہے تاکہ ہندو اکثریت والے جموں خطے کو زیادہ نشستیں دیکر کشمیر اسمبلی میں مسلم اکثریت کو ختم کیا جاسکے، تحریک وحدت اسلامی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں مستقبل کی کسی بھی رائے شماری کو متاثر کرنے کے لئے آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے۔

قابض انتظامیہ نے اسلامی تنظیم آزادی کے چیئرمین عبدالصمد انقلابی کو سرینگر سینٹرل جیل سے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے، پارٹی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں عبدالصمد انقلابی کی صحت و سلامتی کے بارے میں سخت تشویش ظاہر کی ہے، جموں و کشمیر ینگ مینز لیگ کے نائب چیئرمین زاہد اشرف نے ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی تازہ لہر کی شدید مذمت کی ہے۔

بھارتی فوجیوں نے ضلع بڈگام میں چاڈورہ کے علاقے خامپورہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی شروع کی ہے، سیول جنوبی کوریا سے شائع ہونے والے انگریزی زبان کے ایک روزنامے کوریا ٹائمز نے اپنے ایک آرٹیکل میں کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر طویل عرصے سے بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار ہے۔

اخبار نے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برداری کی سرد مہری پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اخبار نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر بڑی حد تک پر امن ہے جبکہ مقبوضہ علاقے میں نہ صرف بڑی تعداد میں بھارتی فوجی تعینات ہیں بلکہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال جاری ہے۔

مقبوضہ علاقے میں ہر 14 کشمیریوں کیلئے ایک بھارتی فوجی تعینات ہے، غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی فوجی محاصرے اور ریاستی دہشت گردی کی مذمت کے لئے مظفر آباد میں پاسبان حریت جموں و کشمیر کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ ہوا، اس موقع پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر میں ایک یادداشت بھی پیش کی گئی۔

ایران کے شہر مشہد میں کشمیری اسکالرز اور طلباء نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر پیلٹ گنز کے استعمال کے خلاف پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا۔

 

امریکہ میں مقیم کشمیری دانشور ڈاکٹر غلام نبی فائی نے لیگل فورم فار کشمیر کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ویب نار سے خطاب کرتے ہوئے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے