تحریر شہزادعلی
کشمیری عوام کے لیے آزادی کے لیے کون سا نظریہ یا آپشن ایک بہترین رستہ ہو سکتا ہے؟ اکثر و بیشتر اس سوال کے اردگرد کشمیری عوام کی تحریکی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کشمیری نقطہ نظر سے اقوام متحدہ کی مسلمہ قراردادوں کے تحت حق خودارادیت کا حصول ہی ایک بہترین رستہ ہے جن پر نہ صرف بھارت اور پاکستان دونوں نے دستخط کئے ہوئے ہیں بلکہ ان کی انٹرنیشنل برادری بھی ضامن ہے اسی لیے جو حلقے یہ کہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادیں ہی ٹھوس بنیاد ہیں ان کی رائے میں وزن ہے۔ بھارتی آئین کے تحت داخلی خودمختاری، کسی بین الاقوامی دباؤ کے ذریعے کنٹرول لائن کو مستقل بنیادوں پر تسلیم کرنا، ریاست کی جبری تقسیم، حصے بخرے کرکے اسے مستقل حل کے طور پر بزور جبر تسلیم کرانا یہ مسئلہ کا حل ہر گز نہیں اور بھارت دنیا کے بعض َسیکٹرز میں جو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد زیادہ سے زیادہ داخلی خود مختاری کے لیے ہے یہ سراسر خلاف حقائق ہے۔کشمیر کے مسئلے کا کوئی بھی حل پائیدار اور مستقل نہیں ہوگا جب تک کہ کشمیری عوام کو ان کے پیدائشی حق خودارادیت کا موقع نہیں دیا جاتا۔ کشمیر کے تمام معاملات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہی دیکھنے میں کشمیری عوام، بھارت اور پاکستان کا بھی فائدہ ہے اور اگر آج بھی بھارت ہٹ دھرمی ترک کرکے کشمیری عوام کو اس عالمی فورم میں طے شدہ اصولوں کے تحت رائے شماری کا حق دے دے، اور کشمیری عوام آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں تو جنوبی ایشیائی خطے کے عوام سکھ اور چین کی زندگی بسر کر سکنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ایک آزاد اور غیر مشروط حق خودارادیت، استصواب رائے،رائے شماری یا کسی بھی طرح کے دباؤ سے پاک ریفرنڈم کا حق اگر کشمیری عوام کو مل جائے جو عالمی ادارے کے فریم ورک کے تحت ہوتو پھر کشمیری عوام جو بھی فیصلہ کریں وہ تمام سٹیک ہولڈرز تسلیم کرلیں یہی اس مسئلے کا حل ہے۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال 5 اگست سے جوغیر آئینی تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ اقوام متحدہ کی قراردوں کی خلاف ورزی ہے اور ان کو حتیٰ کہ بھارت نواز کشمیری جماعتوں نے بھی غیر آئینی اقدام سے تعبیر کرتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور ان کے خلاف قانونی لڑائی لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاہم بھارت نواز کشمیری اس صورت حال کو بھارتی سپریم کورٹ تک محدود کرر ہے ہیں اور وہ بجائے یہ واضح کرتے کہ بھارت کے ایسے اقدامات اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردوں کی بھی خلاف ورزی ہے وہ ان کو بھارتی آئین کے تحت خلاف ورزی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس معاملے میں مودی سرکار نے اپنے آئین کی بھی خود ہی دھجیاں اڑا دیں اور کسی حکمت عملی کے تحت بھارت کے عوام کو یہ بھی باور کرانا ضروری ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی شقوں کے خاتمے سے آپ کی قیادت جو رسمی تعلق تھا مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ وہ بھی توڑ دیا ہے مگر بین الاقوامی معاہدوں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، 22 اگست کو سری نگر میں پرو انڈیا لیڈر شپ نے ایک گپکار اعلامیہ Gupkar Declaration جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 کو جو اقدامات کئے گئے تھے وہ غیر قانونی ہیں۔ اس اعلامیہ کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر نے جاری کیا ہے اس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کے مطالبے کو سر فہرست رکھاگیاہےاس ڈیکلریشن کو گزشتہ سال 4اگست کو جاری کیا جانا تھا اس وقت ان جماعتوں کی قیادت کو آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے منصوبے کا علم ہوا تھا لیکن حکومت نے انہیں اعلامیہ جاری کرنے کی مہلت ہی نہیں دی۔ ان سب لیڈروں کو گرفتار کر کے محصور کر دیا تھا اس مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر کی 4اگست 2019 کی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کی اہمیت کے پیش نظر گزشتہ پیر کے روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 6 جماعتوں کے مشترکہ اعلامیہ سے وادی کشمیر کی جدوجہد کو ایک نئی جہت ملی ہے وزیر خارجہ کی یہ پریس کانفرنس ان کے حالیہ دورہ چین کے تناظر میں اہم تصور کی جاتی ہے جس میں انہوں نے گپکار ڈیکلریشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس میں مقبوضہ کشمیر کی 4 اگست 2019 کی حیثیت کی بحالی کا اہم مطالبہ کو شناخت کیا وزیر خارجہ کا چین کے متعلق کہنا تھا کہ چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ 5اگست 2019کے بھارتی اقدامات یک طرفہ ہیں اور چین انہیں مسترد کرتا ہے تاہم اس کے بعد یہ اعلامیہ مختلف سطح پر زیر بحث ہے اور کشمیر کے وہ حلقے جو بھارت کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں وہ حکومت پاکستان کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ پاکستان کو بھارت نواز مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں کے کسی اعلامیہ پر ردعمل معاملہ کے ہر پہلو کا جائزہ لے کر دینا چاہئے تھا کیونکہ جو مقبوضہ کشمیری لیڈر جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ سمجھ کر انتخابی عمل میں حصہ لینے پر یقین رکھتے ہیں اور صرف مقبوضہ کشمیر کی داخلی خودمختاری کے مطالبے پیش کرنے کے لیے معروف ہیں اور بھارتی آئین کے تحت کشمیر کے معاملے دیکھتے ہیں ان کے ڈیکلریشن کو اہمیت دیبا پاکستان کے قومی موقف کو کمزور کر دے گا۔ پاکستانی قومی موقف کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کیا جائے رہا ہے اور گزشتہ سال 5 اگست کے بھارتی اقدامات کو بھی اقوام متحدہ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا جبکہ بھارت نواز کشمیری جماعتوں کے اعلامیہ پر پاکستانی وزیر خارجہ کے خیالات پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہیں تنازع کشمیر اور اس سے جڑے عوامل کا شاید درست ادراک نہیں یا یہ کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی ہی تبدیل ہوگئی ہے، اگرچہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان بدستور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی مسلمہ قراردادوں کے تحت اٹھانے کے لیے کمیٹیڈ ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ وزیرخارجہ اور ان کی ٹیم کشمیر پر کوئی کنفیوژن پیدا نہ ہونے دےاور کسی بھی پیش رفت پر جیسا کہ مذکورہ اعلامیہ ہے پر ردعمل دیتے ہوئے اس کے اچھے اور منفی تمام پہلوؤں کو سامنے رکھے تاکہ پاکستان کے متعلق کشمیری آزادی پسند حلقوں میں کوئی منفی تاثر نہ ابھرے ۔ اس تناظر بعض کشمیری یہ نقطہ اٹھا رہے ہیں کہ یہ میژرز ( آرٹیکل 370 اور 35 اے) اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں 122 اور 126 کی خلاف ورزی ہیں جن کو 24 جنوری 1957 اور 2 دسمبر 1957 کو اختیار کیا گیا تھا مگر اعلامیہ میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نشاندہی نہیں کی گئی جس سے بھی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی پرو انڈین جماعتوں کی قیادت بھارت کے اتنے مظالم، حتیٰ کہ خود بھارت نواز لیڈروں کے خلاف بھی اقدامات سے گریز نہ کرنے کے باوجود ان کا کشمیر کے معاملات کو بھارتی آیین کے تحت دیکھنا یہ ان کی ریاست جموں و کشمیر کے وسیع عوام کے مطالبات سے بے خبری ہے یا اقتدار کی ہوس لیکن مسئلہ کشمیر کا حل داخلی خودمختاری سے اور آئین ہند کے تحت نہیں نکالا جاسکتا اس کے لیے ٹھوس بنیادیں اقوام متحدہ کی قراردادیں ہی پیش کر سکتی ہیں، اور حق خودارادیت ہی وہ مطالبہ ہے جو پوری کشمیری قوم کا مشترکہ بیان قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ تاثر قطعی طور پر غلط ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد مقبوضہ کشمیر کی اٹانومی، انڈین یونین کے انڈر سیلف گورنس وغیرہ کے لیے ہے بلکہ یہ ایک قوم کی آزادی کا مسئلہ ہے۔تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ اب بھارت نواز مقبوضہ کشمیر کے لیڈر بھی یہ تسلیم کر رہے ہیں اور وہ بھی اس پر آواز بلند کر رہے ہیں کہ بھارت کے گزشتہ سال کے اقدامات کا مقصد وادی کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے، تاہم اس لیڈرشپ کو چاہیے کہ وہ اب قومی کشمیری دھارے میں شامل ہو جائیں اور ریاست جموں وکشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کا مشترکہ مطالبہ پیش کرنے کیلئے کمربستہ ہوں ۔ اسی طرح بعض سیکٹرز کی طرف سے گاہےبگاہے لائن آف کنٹرول کو مستقل انٹرنیشنل بارڈر میں تبدیل کرنے کی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں، اس متعلق بھی یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسی کوئی کوشش بھی کشمیری عوام کی مرضی و منشاء کے خلاف تصور کی جائے گی۔ اسی طرح بعض حلقوں میں مشرف فارمولا کو کشمیر کے حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ہم دیانتداری کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے قضیے کا کوئی بھی حل اقوام متحدہ کے فریم ورک کے اندر ہی تلاش کیا جانا ہی تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفاد میں ہوگا۔
