Input your search keywords and press Enter.

میرے کشمیر اے وادی محتشم

ڈاکٹر بابر اعوان پارلیمان میں حکومت کی پالیسی بیان بلکہ ترجمانی کرتے ہیں،’’کشمیر‘‘کے حوالے سے ذاتی ،روحانی،سیاسی اور نظریاتی تعلق زمانہ طالب علمی سے تھا اورہے۔اگر کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ تحریک پاکستان سے خاندانی تعلق ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ان کے والد محترم تحریک پاکستان میں بھی شامل رہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے زمانہ  طالب علمی میں سعودی عرب میں زیر تعلیم تھے تو ایک تاریخ ساز نظم لکھی اور مجاہد اول  کو بھیجی تو سردار عبدالقیوم خان نے وہ نظم مسلم کانفرنس کے مرکزی راہنما تحریک کشمیر کے سرگرم لیڈر  عبدالصمد وانی کو بھیجی جنھوں نے اپنے اخبار میں شائع کی تھی۔ محسوس ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے آج کل کے حالات کی منظر کشی ہے۔موجودہ دور میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے دو سالہ اقتدار میں مسئلہ کشمیر کو پوری دنیا میں روشناس کرایا۔اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں 26 منٹ صرف ’’مسئلہ کشمیر‘‘پر بات کی امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔5 اگست 2020؁ء وزیراعظم عمران خان نے بھارتی جبر اور تسلط کے خلاف بطور ’’یوم استحصال ‘‘منایا،5 اگست 2019 ؁ء کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی آئین سے 370 آرٹیکل کو ختم کیا جو کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے منافی تھا کہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے حوالے سے اور 35-A سٹیزن ایکٹ بھی ختم کیا۔365 دن سے مقبوضہ کشمیر کی ریاست بھارتی فوجیوں کے محاسرے میں ہے،مسلسل کرفیو لگایا ہوا ہے۔کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب ہیں،اس حوالے سے سینیٹ  میں وفاقی مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے حکومتی پالیسی کا اعلان کیا جو کہ کشمیر کے حوالے سے تھی۔ایوان بالا کے اجلاس کے حوالے سے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے میڈیا کو بتایا کہ یوم استحصال کے حوالے

سے سینیٹ میں کوئی سیاسی گفتگو نہ ہو گی،فوکس صرف ’’کشمیرکاز‘‘ہوگا۔جہاں گذشتہ ایک سال کی بربریت کو بے نقاب کیا جائے گا وہاں بھارتی مظالم کو بھی دنیا میں اُجاگر کیا جائے ،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق ’’حق خود ارادیت ‘‘ملنا چاہئے۔سینیٹ میں کشمیر پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نے قراردار پیش کی اور کہا کہ مختصر چار باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔یقینا ڈاکٹر بابر اعوان کی تقریر وفاقی حکومت اور محترم عمران خان کی قومی کشمیر پالیسی پر نقطئہ نظر ہے،پہلی بات کہ ایوان میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنے منشور اور سیاسی نظریات کی البردار ہیں،مگر آج ایوان سے کشمیر کے حوالے سے مشترکہ متفقہ پیغام انٹرنیشنل کمیونٹی کو جانا چاہئے ،بھارت کو پیغام اتحاد کا جانا چاہئے کہ پاکستان میں تمام جماعتیں کشمیر پر ایک سوچ و فکر رکھتی ہیں۔ملک میں کشمیر کاز پر مکمل اتحاد ہے،مقبوضہ کشمیر کی مکمل آزادی تک اس سفر کی حمایت پاکستان کی ریاست عوام اور حکومت جاری رکھیں گے،پاکستان نے جو نیا نقشہ پاکستان کا جاری ہوا جس میں مکمل ریاست جموں کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنایا گیا اس کی سمری پارلیمانی امور کی وزارت سے کابینہ کو گئی ،جس کو کابینہ نے منظور کیا جو کہ پاکستان کی تکمیل کرتا ہے، جس میں تکمیل پاکستان کا ایجنڈا جموں کشمیر پاکستان کا ہے،لداخ پاکستان کا ہے جونا گڑھ جس کے مہاراجہ نے پاکستان سے الحاق کیا بھارت نے قبضہ کیا پاکستان کا ہے۔اس حوالے سے جب جہاں اور جس کے فورم پر بات ہو گی تو پاکستان کے مکمل نقشے کے مطابق ہو گی۔پاکستان کا مضبوط موقف سینیٹ  میں ڈاکٹر بابر اعوان نے پیش کیا ،اس موقع پر اپنی تاریخی نظم کے چند پیش کئے۔

تحریرمحمدخالدقریشی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے