ماورائے عدالت قتل، دوران حراست تشدد ،جبری گمشدگیاں اور اسیری معمول ،رواں سال 57بے گناہ کشمیری قتل ، اقوام متحدہ انکوائری کمیشن کے ذریعے بھارتی مظالم کی تحقیقات کرائے ، کشمیریوں کا تحفظ یقینی بنائے ،ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان نے کہا ہے کہ عالمی برادری بھارت کو کشمیر میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے لئے جوابدہ بنائے ۔جمعہ کومقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع کولگام میں ایک اور بے گناہ 17سالہ نہتے کشمیری کے ماورائے عدالت قتل پر پاکستان نے رد عمل اور شدید مذمت کا اظہار کیا ہے ۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق نوعمر کرکٹر کو بھارتی قابض فورسز نے گولی مار کر ہلاک کرنے سے پہلے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا، کشمیریوں کو دبانے کے لئے ماورائے عدالت قتل، حراست کے دوران تشدد ،جبری گمشدگیاں اور اسیری مقبوضہ جموں کشمیر میں ایک معمول بن گیا ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے کہا کہ رواں سال کے دوران بھارتی قابض فورسز نے 57بے گناہ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا ہے ، 350 کشمیریوں کو من چاہے قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا، 58 مکانات کو تباہ کیا گیا۔ بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کسی بھی طرح کی بربریت سے کشمیریوں کو محکوم نہیں رکھ سکتا ہے ، اور وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کے عزم کو جبر کے ذریعہ کمزور نہیں بنا سکتا ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف دفاع کی صلاحیت سے محروم کشمیریوں کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داری کو پورا کرے ۔بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات ناگزیر ہیں۔اقوام متحدہ کمیشن آف انکوائری کے ذریعے بھارتی مظالم کی تحقیقات کرے ۔مظالم کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے ۔عالمی برادری معصوم کشمیریوں کا تحفظ یقینی بنائے ۔
