بھارت کلبھوشن یادیو معاملے پر پاکستان کو بند گلی میں دھکیل سکتا نہ ہی ایسا ممکن ہے۔ پاکستا ن نے افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کیااور افغانستان سے ہمیشہ امریکی و غیر ملکی افواج کے ذمہ دارانہ انخلاء کی حمایت کی ہے تاکہ وہاں سکیورٹی خلا پیدا نہ ہو۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچانے والے بیانات سود مند ثابت نہیں ہون گے۔ صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوے انہوں کہا کہا وزیر خار جہ نے 17 اپر یل کو متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا،جس میں انہوں نے اماراتی ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کی اورپاکستان، متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقا ت کے فروغ پر تبادلہ خیال، متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کے کردار کو اجاگر کیا۔ وزیر خارجہ اسوقت ایران کا تین روزہ دورہ پرہیں،جہاں ایرانی ہم منصب،صدر حسن رو حانی اور سپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاتوں میں ایرانی رہنماوں نے وزیر اعظم کے سرحدی مارکیٹیں کھولنے کے اقدام جبکہ وزیر خارجہ نے ایران کی کشمیر یو ں کی مسلسل حمایت اور افغان امن عمل کی حمایت کو سراہا۔ وزیر خارجہ نے افغان وزیر خارجہ حنیف اتمر نے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور افغان ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے ا نہو ں نے قبول کر لیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا اقوام متحدہ میں پاکستان کو تین کمیشنر کی رکنیت دیدی گئی ہے۔ ہمیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورز یو ں پر تشو یش ہے، 5 اگست 2019ء کے بعد سے بھارت کیخلاف کشمیریوں کی نفرت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ کشمیری مسلسل خوف و دہشت کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان نے بارہا بھا ر ت کے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے اقدامات کو جینواء کنونشن اور اقوام متحدہ قوانین و چارٹر کیخلاف قرار دیا ہے۔ عالمی برادری پر مقبوضہ کشمیر میں بھا رتی غیر قانو نی اقدامات ختم کرانے کیلئے دباو ڈالتے رہیں گے۔ پاکستان نے بھارت پر ای یو ڈس انفو لیب، شری واستوا گروپ، ٹی ایل پی کے حالیہ مظاہروں میں بھا ر ت نے منفی پرو پیگنڈہ کو دنیا کے سامنے رکھا ہے، ہم بھارت کیساتھ کشمیر تمام دیرینہ مسائل نتیجہ خیز بات چیت سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان اور چین تمام موسموں کے تزویر اتی شرا کت دار ہیں۔ گلگت بلتستان میں اصلاحات ایک جاری عمل ہے، جن میں قانونی، آئینی، انتظامی، سیاسی اصلاحات شامل ہیں، یہ اصلاحات گلگت بلتستان کے عوام کے دیرینہ مطا لبہ پر کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب طے شدہ ہے۔دورے کی دعوت سعودی ولی عہد نے دی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے،شاہ محمود قریشی
