ڈاکٹر جمیل احمد میر
چنانچہ جموں اور سری نگر کے سیاسی زعماء نے باہمی مشاورت سے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے پارٹی کا نام آل جموں اینڈ کشمیر مسلم کانفرنس تجویز کیا اور اس کے منشور کا مسودہ بھی تیار کیا۔ 14، 51 اور 16 اکتوبر کو اس جماعت کے افتتاحی اجلاس سری نگر کی تاریخی ’پتھر مسجد‘ میں منعقد ہوئے اور پارٹی کا اجراء کر دیا گیا۔ میر واعظ یوسف شاہ بھی ان اجلاسوں میں شریک ہوئے، اگرچہ انہوں نے فوراً ہی بعد اپنی راہیں جدا کر لیں۔ شیخ عبداللہ صدر اور چوہدری غلام عباس جنرل سیکریٹری اور مولوی عبدالرحیم سیکریٹری منتخب ہوئے۔
جلد ہی شیخ عبداللہ کا طوطی پوری ریاست میں بولنے لگا، اب وہ شہرت کی بلندیوں پر تھے۔ بلکہ ان کی شہرت ریاست کی حدود سے باہر ہندوستان تک جا پہنچی۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے دل میں اس خواہش نے انگڑائی لی ہو کہ ریاست کی تنگ فضاء سے نکل کر ہندوستان کی قدرے وسیع فضاء میں سیاسی پرواز کی جائے۔ مسلم لیگ ان دنوں دھڑے بندیوں کی وجہ سے نقاہت کا شکار تھی۔ مسلمانوں میں سے علماء اور مذہبی جماعتوں کے راہنماؤں کی اکثریت، موہن داس کرم چند گاندھی کی کرشماتی شخصیت کے سحر میں گرفتار تھی۔
البتہ آل انڈیا کانگریس سیکولرازم کے لبادے میں گاندھی ہی کی پہلے سربراہی اور پھر پیشوائی میں ایک مربوط اور مضبوط سیاسی جماعت بن چکی تھی۔ اس جماعت نے، مسلمانوں کو لبھانے، رجھانے اور مسلم لیگ سے برگشتہ کرنے اور محض دکھاوے کے طور پر ہی سہی، لادینیت کا پیراہن زیب تن کر رکھا تھا۔ گاندھی جی کی لنگوٹی بھی اسی لباس منافقت کا حصہ تھی۔ مولانا عبدالکلام آزاد، جیسے عالم فاضل لوگ جنہیں اسلامی علوم، فقہ، تفسیر، منطق اور فلسفہ پر دسترس حاصل تھی اور جو اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے، کانگرس کی زینت بنے بیٹھے تھے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ اس وقت ہندوستان کے تقریباً سبھی جانے پہچانے علماء اور زعماء تقسیم ہند کے خلاف (عدم تقسیم پر) کانگریس کے ہمنوا تھے۔ ان میں مولانا حسین احمد مدنی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، علامہ عنایت اللہ مشرقی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور خان عبدالغفار قابل ذکر ہیں۔
ہم نے تقسیم ہند کے بعد، کسی بھی مشہور شخصیت کی تعظیم، توقیر اور تذلیل کا پیمانہ، صرف قیام پاکستان کی حمایت یا مخالفت کو بنا رکھا ہے۔ ہم ان مشاہیر کو ان کی ذاتی خوبیوں، خامیوں اور کمزوریوں کی بنا پر جانچنے اور پرکھنے اور معروضی حالات میں ان کے نظریات کا تجزیہ کرنے اور سیاسی قد کاٹھ کو دیکھنے کے بعد ان کی تاریخی حیثیت طے کرنے کی بجائے، انہیں اپنے ملی جذبات کی سان پر چڑھا کر ان پر وطن دشمنی کے فتوے تھوپ دیتے ہیں۔
یہاں میں واشگاف الفاظ میں کہوں گا کہ ان نامور شخصیات کے ذکر کا مقصد، ان کی تضحیک، توہین یا تحقیر نہیں بلکہ صرف حقائق کی نشان دہی کرنا ہے۔ مولانا عبدالکلام آزاد کا خیال تھا کہ ہند کی تقسیم سے ایک تو خون ریزی ہو گی، دوسرے ہندوستان میں مسلمان کمزور ہو جائیں گے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس تقسیم کے نتیجے میں ساڑھے تین کروڑ مسلمان، پورے ہندوستان میں چھوٹی اقلیت کی شکل میں بکھر کر اپنے ہی ملک میں غریب الوطن ہو جائیں گے۔ مسلمان صنعت کاری اور تجارت میں اور تعلیمی اور معاشی لحاظ سے پسماندہ ہونے کی وجہ سے، ہندوستان میں خالص ہندو راج کی صورت میں ان کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ دوسری طرف مسلمانوں کی حالت پاکستان میں بھی غیر محفوظ اور کمزور ہو گی۔ ان پر اشرافیہ حکمرانی کریں گے، عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ پاکستان بیرونی قوتوں کا آلہ کار بن جائے گا اور بالآخر ان کا دست نگر۔ مولانا نے تو رام گڑھ میں کانگرس کے صدر کی حیثیت میں خطاب کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر ایک فرشتہ آزادی کا تحفہ لے کر قطب مینار پر آ کر یہ اعلان کرے کہ ہندوستان آج سے آزاد ہے تو میں ایسی آزادی کو قبول نہیں کروں گا جب تک اس میں ہندو اور مسلمان اکٹھے نہیں ہوں گے۔
مولانا حسین احمد مدنی گاندھی اور کانگریس کی سیاست سے متاثر اور سیاسی لحاظ سے ان کے قریب تھے۔ وہ اور ان کی جماعت جمعیت علماء ہند تقسیم ہند کے خلاف تھی۔ وہ اسلامی قومیت کی بجائے مخلوط ہندو مسلم قومیت کے داعی تھے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجلس احرار الاسلام کے امیر تھے۔ یہ بھی گاندھی اور کانگریس سے قربت رکھتے تھے، بلکہ کچھ عرصہ کانگریس کے جلو میں شامل بھی رہے اور ان کے جلسوں کو اپنی تقاریر سے گرماتے رہے اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ 1928ء میں ’(موتی لعل ) نہرو رپورٹ‘ کے منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس سے علیحدگی اختیار کی اور 1929ء میں اپنی جماعت بنا لی۔ عطاء اللہ شاہ بخاری تقسیم ہند کے مخالف تھے اور پاکستان کے قیام کو اور وہ بھی قائد اعظم کی سربراہی میں، جو ان کے نزدیک اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ تھے، بے فائدہ سمجھتے تھے۔
علامہ عنایت اللہ مشرقی انتہائی پڑھے لکھے قابل اور زیرک مگر اپنی ہی طرز کے انسان تھے۔ کانگریس سے کوئی قربت نہیں تھی۔ ہاں البتہ یہ بھی تقسیم ہند کے مخالف تھے اور کانگریس کی طرح یہ بھی تقسیم کو انگریزوں کی سازش سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر ہندو اور مسلمان صدیوں سے اکٹھے رہتے چلے آرہے ہیں تو وہ ایک آزاد ہندوستان میں بھی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کی علیحدگی کی صورت میں دونوں اطراف میں بنیاد پرستی اور انتہا پسندی جنم لے سکتی ہے۔ مسلمان رہنما صرف سیاسی شہرت کے حصول اور ذاتی حکمرانی کی خواہش کے زیر اثر نادانستہ طور پر انگریزوں کے آلۂ کار بن گئے ہیں۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی بھی ابتداء میں دوسرے ہم عصر علماء کی طرح کرم چند گاندھی کی شخصیت سے متاثر ہوئے، اگرچہ انہوں نے انڈین نیشنل کانگرس میں کبھی شمولیت اختیار نہیں کی، البتہ ایک زمانہ میں وہ جمعیت علماء ہند کے قریب رہے (ندیم فاروق پراچہ۔ ڈان، یکم جنوری 2015 ) ۔ مولانا ایک وقت میں تقسیم ہند کے خلاف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ تقسیم، نظریہ امت اسلامیہ سے متصادم ہے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کا دو حصوں میں بٹ جانا، اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے (Irene Oh۔ The rights of God) ۔ خان عبدالغفار خان تو گاندھی کے رنگ میں اس حد تک رنگے گئے تھے کہ سرحدی گاندھی کہلاتے تھے۔ وہ بھی بڑی شدومد سے عدم تشدد کے نظریہ پر عمل پیرا، تقسیم ہند کے خلاف تھے۔
شیخ عبداللہ ’آتش چنار‘ میں رقم طراز ہیں کہ گاندھی کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی شخصیت میں سادگی دل کو بھاتی تھی۔ ان حالات میں شیخ عبداللہ نومبر 1934ء میں ہندوستان گئے اور پنڈت جواہر لعل نہرو سے ملاقات کی۔ نہرو ایک کشمیری پنڈت ہی نہیں تھے، وہ ایک منجھے ہوئے، ذی فہم اور چالاک ’ہندو‘ سیاستدان تھے۔ کرم چند گاندھی کے کانگریس کی پیشوائی پر اکتفا کر لینے کے بعد، بحیثیت صدر کانگریس کی باگ ڈور اب نہرو کے ہاتھ میں تھی۔
شیخ عبداللہ ہندوستان کی سیاست کی زمام ایک بڑے سیاسی رہنما کے طور پر نہرو کے ہاتھ میں دیکھتے ہوئے ان سے ملنے گئے تھے۔ ادھر پنڈت نہرو کے نزدیک، ریاست کشمیر کی حیثیت، مہاراجہ کے زیر تسلط ایک آزاد راجدھانی ہونے کے باوجود، برصغیر پاک و ہند کی انگوٹھی میں جڑے ہوئے ایک نگینے کی مانند تھی۔ ایسے میں شیخ عبداللہ کی کشمیر کی فضاء میں، ریاست کے مسلمانوں کے رہنما کے طور پر تنہا پرواز مستقبل کے تناظر میں نہرو کے لئے خوش آئند یا سود مند نہیں سکتی تھی۔ چنانچہ اس ملاقات میں پنڈت نہرو نے شیخ عبداللہ پر جانے کیا سحر پھونکا کہ واپس جا کر ان کی سیاست کا ڈھرا ہی تبدیل ہو گیا۔
( جاری ہے۔۔۔)
