بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتی جنتا پارٹی(BJP)کو ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریا سیوا سنگھ (RSS) کا سیاسی ونگ تصور کیا جاتا ہے جوہندو قوم پرستی کے احیاء پر مبنی ” ہندوتوا فلاسفی ” پر عمل پیرا ہو کر بھارت کو ایک "ہندو راشٹرا” بنانا چاہتی ہے۔ بھارت کی ہندوانتہا پسند قوتوں نے RSSکے جھنڈے تلے جس انداز میں انتہاپسندی کے فروغ میں اپنا مذموم کردار ادا کیا ہے اس نے کئی سانحات کو جنم دیا ہے ۔ بھارت نے انسانیت کے خلاف اپنے ان جرائم کو چھپانے کیلئے ممبئی حملوں کا ڈرامہ رچایا اور ہیمنت کرکرے کو بھارتی انتہا پسندی کا پردہ فاش کرنے کی پاداش میں ان حملوں کی آڑ میں قتل کردیا جبکہ بھارتی فوج کے حاضر سروس کرنل شری کانت پروہت جیسے ریاستی انتہا پسند اور دہشتگرد عناصر کو کھلی چھوٹ دیدی گئی کہ انکے کسی جرم کی کوئی بازپرس اور سزا نہیںہٹلر اور اسکے فاشسٹ نظریے کو اپنا رول ماڈل بنانیوالے مودی کی انتہا پسندی اور مسلمان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیںرہی۔ اسکے برسرِاقتدارآتے ہی ایک طرف ہندو انتہا پسندوں کو کھلی آزادی مل گئی کہ وہ بلا روک ٹوک اپنے انتہا پسند اور متشدد ایجنڈے اور فلسفے کو طاقت کے زور پر عوام پر مسلط کردیں ، دوسری طرف ماضی کے تلخ تجربات کے پیشِ نظر مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں پر مبنی بھارت کی مذہبی اقلیتوںمیں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ آنیوالے سالوں میں رونما ہونیوالے واقعات نے ان خدشات کوبالکل درست ثابت کیااور عدم برداشت اور عدم رواداری کی کئی مثالیں سامنے آئیں۔گائے کے ذبیحہ اور گائے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کردی گئی اور محض شبہ میں کئی افراد کو قتل کردیا گیا۔ گائے کے پیشاب کو دوائیوں میں استعمال کیا گیا۔ بھارت میں تعلیمی نصاب کو بھی ہندوتوا فلاسفی کے مطابق ترتیب دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بھارت کی تاریخ کو بھی ہندوتوا فلاسفی کی روشنی میں از سرِ نو لکھنے کا منصوبہ جاری ہے جس میں بھارت کی اسلامی شناخت اور تشخص کو مجروح کیا جارہا ہے۔ شدھی جیسی تحریکوں کے احیاء کے ذریعے غیر ہندو آبادی کو زبردستی ہندو بنانے کی کاوشیں کی جارہی ہیں۔ مسلمانوں کیساتھ امتیازی سلوک تو معمول کی بات ہے مگر اس میں بھی بہت شدت آئی کہ بھارت کے سیکولر چہرے کی بدنمائی میں مزید اضافہ ہو ا اور وہاں کے لبرل اورسیکولر طبقے تشویش میں مبتلاء ہوگئے۔ کئی ممتاز دانشوروں اورلکھاریوں نے احتجاجاً قومی اعزازات اور میڈل حکومت کو واپس کردئیے۔بھارتی وزیرِ اعظم اپنی مدت اقتدار میں سے نصف گزار چکے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ انتہا پسند مودی کی تمام پالیسیاںاسکی انتہا پسندی کی نذر ہوچکی ہیں۔ حال ہی میںبھارت میں Demonetizationکی پالیسی کے تحت 1000اور 500کے نوٹوں کو اچانک بند کردیا گیا۔ کرنسی نوٹوں کی بندش کا معاملہ بھی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کی ایک بہت بڑی ناکامی ثابت ہوا ہے ۔ ملک کی 86فیصد کرنسی کے غیر فعال ہونے سے پیدا ہونیوالی صورت حال سے نمٹنے کیلئے موٗثر اقدامات کی عدم موجودگی کو بڑی شدت کیساتھ محسوس کیا گیا۔ اس بندش سے مسائل نے ملک میں بحران کی کیفیت پیدا کی، اور اس تاثر کو تقویت ملی کہ مودی حکومت کی اس پالیسی سے غریب عوام کی زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوئی جنکے حالات پہلے ہی دگرگوںہیں جبکہ کالے دھن اوردہشتگردی سمیت کالے دھن سے پروان چڑھنے والی سماجی برائیوں کا خاتمہ محض دیوانے کا خواب ثابت ہوا۔ مودی کی اس پالیسی کو بھارت کی معاشی ترقی کیلئے اتنے خطرناک اور نقصان دہ نتائج کا حامل قرار دیا جارہا ہے جیسے کسی تیز رفتار گاڑی کے پہیوں کو فائرنگ سے نشانہ بنانے سے ہو سکتے ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر بھی بھارتی انتہا پسندی کی بھینٹ چکا ہے۔ انتہا پسند عناصرکے کشمیریوں پر حملوں میں تیزی آگئی ہے۔ بھارت کی مختلف یونیورسٹیوں میں کشمیری طلباء پر حملے ہورہے ہیں اور انکے حق میں آواز اٹھانے والوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی مذہبی بنیادوں پر تفریق اور فرقہ واریت کو ہوا دی جارہی ہے تاکہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور آزادی کی تحریک کو کمزور کیا جاسکے۔ کشمیرکے موجودہ حالات و واقعات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 2016ء مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اور انسانی حقوق کی پامالیاں پاکستان اور بھارت کے درمیان خراب تعلقات اور دشمنی کی بنیادی وجوہات ہیں۔پاک۔ بھارت تعلقات اورامن مذاکرات کا جہاں تک تعلق ہے تو ہندو انتہا پسندی کے شکار مودی کا جنگی جنون اور پاکستان دشمنی راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امن مذاکرات کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں۔ 2016 میںبھارتی دہشتگرد اور جاسوس کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری اور اعترافِ جرم کے بعدبھارت کی پاکستان میں دہشتگردی کیلئے مزید کسی ثبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔پاکستان اور بھارت دو جوہری ریاستیں ہیں اور انکے ناخوشگوار تعلقات اور روایتی دشمنی میں اضافہ خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کیطرف سے کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل اور امن مذاکرات کی دعوت کو بھی درخورِاعتناء نہیں سمجھا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارت میں مودی سرکار کے سائے میں پروان چڑھنے والی انتہا پسندی نہ صرف اس خطے کے امن کیلئے بلکہ خود بھارت کے اپنے وجود کیلئے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ہمسایہ ممالک پر اپنی چوہدراہٹ اور علاقائی حا کمیت کے خبط نے بھارت کے تمام ہمسایہ ممالک کو پریشانی میں مبتلاء کررکھا ہے۔خطے کی ترقی و خوشحالی اور پائیدار امن و استحکام کا انحصار اس امر پر ہے کہ بھارت اس جنونی کیفیت سے باہر آئے جس نے اسے ہندو انتہا پسند ریاست بنا دیا ہے۔
نواے وقت
