اسلام آباد (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ سو اختلافات کے باوجود کشمیر پر یکسو ہے،کشمیر کے حوالے سے سیاسی دوکان نہیں چمکانا چاہیے، پاکستان کا ہر شہری کشمیری کشمیریوں کی وکالت کررہا ہے اور کرتا رہے گا ،مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کے حوالے سے کردار ادا کرنے کا جتنا موقع ملا شاید ہی کسی اور کو ملا ہو ، وہ ایسا کردار ادا نہیں کر پائے جو کیا جا سکتا تھا،شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو خطوط کشمیر کے حوالے سے مشاورت کی دعوت دی، افسوس میرے خطوط کا جواب نہیں ملا ،عالمی برادری کا کشمیریوں سے 5 جنوری کو کیا گیا وعدہ ایفا نہ ہوا، عالمی دنیا کو واضح پیغام دینا ہے ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل تک آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔منگل کو سینیٹ کااجلاس چیئرمین محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ میں معزز ممبران سینٹ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے 5 جنوری کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ انہوںنے کہاکہ خوش آئند بات یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پوری قوم یکساں موقف رکھتی ہے،وہ اہم دن ہے جب بہتر سال قبل اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے ساتھ ایک وعدہ کیا،کشمیری ظلم و استبداد کے باوجود اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد کو کچلنے کیلئے 9 لاکھ سے زیادہ فوج تعینات کر رکھی ہے لیکن کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے،پوری کشمیری قوم دلی کی سرکار کی ہندوتوا پالیسیوں کے سبب ان سے نالاں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سید علی گیلانی کی قربانی سے کون واقف نہیں انہوں نے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں،عمران خان صاحب کی حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ ہم نے سید علی گیلانی صاحب کو پاکستان کا سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازا اور انہوں نے قبول کیا۔ انہوںنے کہاکہ کشمیریوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم حق خود ارادیت کی اس جدوجہد میں آپ کے ساتھ ہیں،پاکستان کا ہر شہری آپ کی وکالت کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذکر سینیٹر شیریں رحمن صاحب نے بجا طور پر ذکر کیا۔ انہوںنے کہاکہ جے بائیڈن اس خطے کی صورت حال اور مسئلہ کشمیر سے واقف ہیں انہوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائی،ہمیں توقع ہے کہ نئے امریکی صدر منصب سنبھالنے کے بعد بھی اس موقف کی پاسداری کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ محترمہ شیریں رحمان صاحبہ نے بھٹو صاحب کی تقریر کا بجا طور پر حوالہ دیا جس میں انہوں نے ہزار سال تک جنگ لڑنے کی بات کی کاش ان کے جانشین بھی اس پر عمل پیرا ہوتے،میں نے سراج الحق صاحب، سمیت بہت سے رہنماو¿ں کو دعوت دی کہ آئیں مل کر کشمیر کے حوالے سے لائحہ عمل بناتے ہیں،غفور حیدری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوںنے کہاکہ مولانا فضل الرحمن اور جے یو آئی کی قیادت کو کشمیر کے حوالے سے کردار ادا کرنے کا جتنا موقع ملا شاید ہی کسی اور کو ملا ہو لیکن وہ ایسا کردار ادا نہیں کر پائے جو کیا جا سکتا تھا۔ انہوںنے کہاکہ گذشتہ بہتر سالوں میں کیا باقی جماعتوں کو اقتدار نہیں ملا انہوں نے اپنے ادوار میں کشمیر کے حوالے سے کیا کیا؟ کشمیر کے حوالے سے سیاسی دوکان نہیں چمکانا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ میں دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کیونکہ انہوں نے امریکہ اور یورپ کے دارالحکومتوں میں کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں کے حق میں احتجاج کیے۔ انہوںنے کہاکہ 2019 میں وزیر اعظم عمران خان جب اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف پیش کرنے کیلئے گئے تو امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے اقوام متحدہ کے باہر فقیدالمثال اجتماع کیا اور کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی، مجھے بتائیں کیا کسی اور جماعت نے ایسے اجتماعات کیے؟ ۔ انہوںنے کہاکہ وزارتِ خارجہ کی سابق ترجمان تسلیم اسلم صاحبہ نے بھی اس حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا وہ ریکارڈ پر موجود ہے، بین الاقوامی میڈیا نے جس طرح مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے لکھا ہے اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا،یورپی یونین اور یو ایس کانگریس میں جس طرح کشمیر کے حوالے سے بات ہوئی پہلے کبھی نہیں ہوئی،یہ ایک جہد مسلسل ہے سراج الحق صاحب نے کشمیر کے حوالے سے انٹرنیشنل کانفرنس اور مشترکہ لائحہ عمل کی بات کی میں تمام جماعتوں کے قائدین کو دعوت دیتا ہوں کہ کشمیر کے حوالے سے آپ جب وزارتِ خارجہ آنا چاہیں ہمارے دروازے آپ کیلئے کھلے ہیں،میں نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف صاحب کو اور بلاول بھٹو زرداری صاحب کو خطوط لکھے اور انہیں کشمیر کے حوالے سے مشاورت کی دعوت دی،مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میرے خطوط کا جواب تک نہیں ملا۔ انہوںنے کہاکہ نئے سیاسی نقشے میں ہم نے قومی اتفاق رائے سے پاکستان کے لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کی۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں بین الاقوامی برادری اور کشمیری بھائیوں کو آج واضح پیغام دینا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل تک آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق نے کہاکہ کسی پاکستان میں کسی ایک مسئلے پر یکجہتی ہے تو وہ مسئلہ کشمیر ہے،پوری قوم کشمیر کے معاملے پر یک زبان ہے،یو این او کے چارٹر کا مقصد جن علاقوں میں حق خود ارادیت نہیں ان کو یہ حق دینا تھا،بھارت نے نہرو کے بعد کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کیا،مسئلہ کشمیر پر فیصلے کا اختیار کشمیریوں کو حاصل ہے،کشمیریوں نے جو دلیری دکھائی ہے شاید ہی کسی نے دکھائی ہو،جو کردار او آئی سی کو کرنا چاہئے تھا بدقسمتی سے نہیں کیا گیا۔ راجہ ظفر الحق نے کہاکہ وزیرخارجہ کی ذمہ داریاں دوسرے وزراءسے زیادہ بنتی ہیں ،ابھی کشمیر کے حوالے سے کریڈٹ لینے کا وقت نہیں آیا ،مسئلہ کشمیر کو مقامی مسئلہ یا سیاسی مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہاکہ شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر میں پولیٹیکل اسکورنگ کی ، شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے بارے حکومت کی حکمت عملی نہیں بتائی ،حکومت پی ڈی ایم سے خوفزدہ ہے ،سیاسی کارکنوں پر مقدمات اور گرفتاریاں معمول بن گئی ہیں ،قائدحزب اختلاف شہباز شریف سو دن سے قید ہیں ، انہوںنے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما گرفتار اور قید ہیں ،حکومت بتائے کتنے لوگوں کو گرفتار کرے گی۔ قبل ازیں شیری رحمن نے کہاکہ پانچ جنوری کا دن عالمی دنیا کو کشمیریوں سے کئے گئے وعدےکو دہرانے کا دن ہے،ہمارے پاس انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی کشمیر میں غیر انسانی سلوک سے متعلق رپورٹس ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے،بچوں اور عورتوں پر مظالم کی انتہا کی جا رہی ہے،عورتوں کی عزت پامال کی جا رہی ہے،پوری دنیا نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آنکھیں پھیر لیں ہیں،کشمیر میں دن بہ دن مظالم بڑھتے جا رہے ہیں،کشمیریوں کی آواز کو سننا ہو گا،کشمیری سخت ترین لاک ڈاو¿ن کا شکار ہیں،امریکہ کی کانگریس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق خصوصی سماعت ہونی چاہئے۔سینیٹر رانا مقبول احمد نے کہاہک لگتا ہے حکومت نے کشمیر ایشو اور مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو پس پشت ڈال دیا ہے،صرف باتوں سے کچھ نہیں ہو گا،اتنے بڑے ظلم پر عالم اسلام کو جگانا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کو مودی کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ آف کرائمز میں جانا ہو گا۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ مودی نے انتخابی مہم میں اعلان کیا کہ انتخابات جیتنے کے بعد کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کریں گے،ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان کو کشمیر پر بات نہ کرنے کو کہا،ٹرمپ نے صرف قراردادوں کی حد تک رہبنے اور جنگ نہ کرنے کا کہا،کشمیر میں جو کچھ ہوا وہ اچانک نہیں ہوا،پوری منصوبہ بندی شامل ہے،فلسطین کو اسرائیل کے حوالے کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں،ہم انڈیا اور کسی اور کو گلہ نہیں کر سکتے،یہ ہمارے اپنے کیے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے،کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے،کشمیر میں اس وقت 23ہزار نواجوانوں کو اغوا کیا گیا،کشمیرکے حوالے سے ہماری جدوجہد میں کمی کی ہے،جنرل گریسی کے بعد موجودہ وزیر اعظم نے کشمیریوں کی مدد کیلئے جانے والوں کو غدار قرار دیا،وزیر اعظم نے تو کشمیر کا سفیر بننے کا اعلان کیا تھا،کشمیر کیلئے ایک نائب وزیر خارجہ ہونا چاہیے،کشمیر کی وحدت کو نہ توڑا جائے۔
ہماری پارلیمنٹ سو اختلافات کے باوجود کشمیر پر یکسو ہے،شاہ محمود قریشی
