Input your search keywords and press Enter.

سی بی آئی نے جموں و کشمیر میں زمین ہڑپنے کے تین معاملے درج کئے

جموں و کشمیر میں سرکاری افسروں کی ساز باز سے مبینہ طور پر زمین ہڑپنے کے تین الگ الگ معاملے درج کئے گئے ہیں۔  یہ معاملے سی بی آئی نے درج کئے ہیں۔

اِس سے پہلے ریاستی وجیلینس آرگنائزیشن کی طرف سے اِن معاملوں کی جانچ کی گئی تھی، لیکن سی بی آئی نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے احکامات پر جانچ اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔

اِن معاملوں کا تعلق جموں اور سامبا ضلعوں میں مبینہ طور پر زمین ہڑپنے سے متعلق ہے۔ سی بی آئی ترجمان نے بتایا کہ جموں ضلعے کے رِوینیو محکمے کے افسروں نے روشنی، قانون اور ضابطوں کی شقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اِرادتاً ریاست کی زمین پر غیر قانونی طور سے قبضہ کرنے والوں کو بے جا فائدے پہنچائے تھے۔

سی بی آئی نے کہا ہے کہ ریاستی زمین کی ملکیت کے حقوق اُن مخصوص غیرمستحق افراد کو دئے گئے تھے، جنھوں نے ریاست کے سرکاری خزانے کو بہت بڑا مالی نقصان پہنچایا تھا۔ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ غیر مستحق عناصر کی جانب سے زمین ہڑپنے سے جموں و کشمیر کے اراضی کے قانون 2001 کے مقصد کو نقصان پہنچا ہے،جس کا مقصد ترقیاتی کاموں کو انجام دے کر آمدنی پیدا کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے