Input your search keywords and press Enter.

خصوصی پوزیشن کی بحالی

محمد ارشد چوہان

ایک شخص کے پاس ایک خوبصورت گھوڑی تھی – ایک دوسرا ٹھگ قسم کا شخص آیا اور گھوڑی والے سے پوچھا کہ کیا اسکو بیچ رہے ہو۔ گھوڑی مالک نے کہا جی حضور ۔ ٹھگ خریدار نے کہا چیک کرنے کے لئے مجھے دو تاکہ تھوڑا سا چلا کے دیکھ لوں۔ گھوڑی مالک نے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے۔ ٹھگ خریدار نے اپنا نام ‘اپنی’ بتایا اور چیک کرنے کے بہا نے گھوڑی لیکر تھوڑا آگے گیا اور یوں گھوڑی سمیت فرار ہو گیا۔ گھوڑی مالک جب اس بابت پولیس اسٹیشن رپورٹ درج کروانے پہنچا تو دوران تفتیش داروغہ جی نے گھوڑی مالک سے پوچھا کہ جو شخص گھوڑی لے کر بھاگا ہے اسکا کیا نام ہے ، گھوڑی مالک نے جواب دیا کہ جناب داروغہ جی "اپنی گھوڑی لے کر بھاگ گیا” ۔ تھانے دار کو کچھ سمجھ نہ آیا اور سوال دہرایا کہ گھوڑی لے کر بھاگنے والے کا کیا نام ہے، کس کیخلاف رپورٹ درج کریں ۔گھوڑی مالک نے پھر وہی جواب دیا "صاحب اپنی گھوڑی لے کے بھاگ گیا” ۔ تیسری بار پھر اسی سوال پر یہی جواب ملا۔ داروغہ جی نے کہا ارے وہ ہے کون اور گھوڑی بھی اسکی اپنی تھی تو پھر تجھے کیا پریشانی ہوئی ہے، وہ اپنی ہی گھوڑی لے کر تو بھاگا ہے۔ یہ سن کر گھوڑی مالک نے کہا کہ وہ میری گھوڑی لے کر بھاگا ہے اور اپنا نام” اپنی” بتا رہا تھا۔ سمجھ آنے پر تھانے دار کے کمرے میں موجود سب لوگ ہنسنے لگے ۔

سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر و پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے غیر قانونی و غیر معینہ حراست کیخلاف عدالت عظمیٰ میں حبس بیجا  عرضی جمع کروا رکھی تھی۔ 29 ستمبر کو سپریم کورٹ کی سنجے کشن کول کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اس پر سنوائی کی۔ عدالت نے حکومت سے سوال پوچھا کہ محبوبہ کب تک قید رہیں گی اور ہمیشہ کے لئے کسی کو حراست میں تو نہیں رکھا جا سکتا ۔اب اگلی سنوائی 15 اکتوبر کو ہونی تھی لیکن عدالت کی سر زنش کے ڈر سے حکومت کو پہلے ہی رہا کرنا پڑا۔ 13 اکتوبر کو 9 بج کر 17 منٹ پر گورنر انتظامیہ کے ترجمان روہت کنسل کا ٹویٹ آیا کہ محبوبہ کو آزاد کر دیا ہے۔ ساڑھے چودہ ماہ کی طویل مدت کے بعد سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر و پی ڈی پی چیف محترمہ محبوبہ مفتی صاحبہ سپریم کورٹ کے آرڈر پر رہا ہوئی ہیں۔ رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر انکا 1 منٹ 23 سیکنڈز کا ایک آڈیو پیغام آیا جس میں وہ بہت پر عزم نظر آئیں۔ محبوبہ مفتی کا عزم جموں و کشمیر کی خواتین کے لیے بھی ایک مشعل راہ ثابت ہو سکتا ہے کہ خواتین بھی دھرتی کے تحفظ کے لئے کمر بستہ ہوں ۔ 05 اگست 2019 والے اقدام کو دو ٹوک الفاظ میں نہ صرف مسترد کیا بلکہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ واپس دلانے تک لڑنے کا بھی اعادہ کیا ۔ یہ آواز ڈوبتے کو تنکے کا سہارا دینے کے مترادف ہے۔ ویسے بھی مین اسٹریم سیاسی قائدین کے پاس کھونے کو اب کچھ نہیں بچا ہے۔ محبوبہ مفتی کی تو پارٹی بھی "اپنی” لے کر بھاگ گیا۔ سب موسمی پرندے اپنے شخصی مفادات کی خاطر "اپنی” کے پیچھے ہو لیے۔نیشنل کانفرنس کی طرف سے محبوبہ مفتی کی رہائی پر انکے گھر جانا بھی اچھا سگنل ہے۔ جموں و کشمیر کے تمام سیاسی عمائدین ایک قلب کثیر جان ہوں یہی وقت کا تقاضا بھی ہے اور عوام کے مفاد میں بھی۔ جموں و کشمیر کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے لئے یہ آخری موقع ہے کہ وہ مزاحمتی و قانونی دونوں محاذ پر لڑیں۔سٹریٹ پاور کا مظاہرہ بھی بہت ضروری ہے، اس سے ایشو پر رائے عامہ بنانے میں خاصی مدد ملے گی۔یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر اب نہیں تو کبھی بھی نہیں۔ اسوقت اگر سر نگوں ہو گئے تو آنے والے دس برسوں بعد جموں و کشمیر کا پورا حلیہ ہی تبدیل ہو چکا ہو گا۔ جموں و کشمیر کی زمینیں بچانے کے لئے اور یہاں کی آبادی کا تناسب جوں کا توں رکھنے کے لئے 370 یا اسکے برابر کا درجہ بہت ضروری ہے ورنہ نہ خدا ہی ملے گا نہ وصال صنم۔

 باقی شروع میں جس ’اپنی‘ سے بات کا آغاز کیا تھا وہ کہانی جموں و کشمیر میں اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود مسئلہ جموں و کشمیر ۔سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور نیشنل کانفرنس کو جموں و کشمیر کے مستقبل کا اعادہ بھی کرنا ہے اور آئندہ اپنی سے بھی بچنا ہے۔ موسمی پرندوں سے بچنے کا واحد زریعہ اپنی پارٹیوں کے اندر نظریات کی پرورش کرنا ہے۔جموں و کشمیر کے لئے خصوصی پوزیشن کی منزل مشکل تو ہے لیکن نا ممکن نہیں ۔ مشکل اس لئے ہے کہ ہر کسی کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا ۔ ایسا نہیں چلے گا جیسا کہ دوسرے پر تنقید کر لی لیکن خود کو معصوم سمجھنے لگو ۔ یہ ہدف حاصل کرنا ناممکن اسلئے نہیں  ہے کیونکہ یہ ایشو ابھی عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ 370 و 35 اے کو اتنا آسانی سے ہٹایا نہیں جا سکتا اس میں کافی قانونی پیچیدگیاں ہیں۔قانونی پہلو تبھی کارآمد ثابت ہوں گے جب جموں و کشمیر کے اندر ایک پر امن سیاسی بیانیہ تشکیل پائے گا۔لاطینی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ "لوگوں کی آواز خدا کی آواز ہوتی ہے” ۔ یہ بات تب بنے گی جب جموں و کشمیر کا ہر شہری اپنے کو خطے کا محافظ سمجھے گا۔آخر میں چند ان بھولے بھٹکے لوگوں سے کہوں گا کہ جس طرح سے سوشل میڈیا پر مین اسٹریم کیخلاف کسی اور کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں یہ طریقہ بھی صحیح نہیں ہے۔کچھ پڑھے لکھے نوجوان تو گالی گلوچ سے بھی کام لیتے ہیں اور اختلافات کی تمام حدیں عبور کر جاتے ہیں ۔دراصل ہمیں ہر اس بیانیے سے عملدرآمد یا اسکی سوشل میڈیا وغیرہ پر اشاعت سے گریز کرنا چاہیے جو تیسرا شخص ہم سے چاہتا ہے۔ایک دوسرے کے سیاسی اختلافات کا احترام کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے وسیع تر مفاد میں ایک ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

(کالم نگار کاتعلق پونچھ جموںوکشمیر سے ہے اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ سکالر ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے