ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں مکمل شٹ ڈاؤن کے ذریعے تباہی کو چھپانے کی کوشش کی۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سخت محاصرہ کرتے ہوئے اضافی فوجی تعینات کیے۔ سابق وزرائے اعلیٰ، سیاسی رہنماؤں، کارکنوں، وکلا اور صحافیوں کو بغیر الزام کے نظربند کیا گیا جب کہ مقبوضہ لشمیر میں انٹرنیٹ ،موبائل فون سروس معطل کردی گئی۔ فوجی محاصرے کے باعث کشمیری بدستور مشکلات کا شکار ہیں، کشمیریوں نے انٹرنیٹ کی جزوی بحالی کے بھارتی دعوے کو سختی سے مستردکردیا۔گزشتہ 14مہینوں سے کشمیر عوام ایک اور المیے سے گزر رہے ہیں۔ بھارت کی قابض افواج تمام انسانی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سینکڑوں افراد کو قتل، سینکڑوں کو نابینا بنا چکی ہیں۔ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ خواتین کی بے حرمتی اور عصمت دری کی جاتی ہے۔ مردوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہے۔ پابند سلاسل نوجوانوں کو کسی الزام اور عدالتی کارروائی کے بغیر بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ماورائے عدالت قتل کیے جاتے ہیں۔ بیمار ، مریض اور زخمی کشمیریوں کیلئے علاج معالجے کی سہولیات نہیں۔ انہیں سرکاری ہسپتالوں میں دوا دارو میسر نہیں۔ زیادہ زخمی ہوں تو بمشکل ہسپتال میں داخل کر لیا جاتا ہے مگر کوئی دیکھ بھال کرنے والا ، وقت پر دوا دینے والا یا زخم پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔ ایسے ہی ایک ہسپتال کا منظر پیش ہے کہ ہسپتال میں چیک والے کشمیری لباس میں ایک 30 سالہ شخص خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا ہوا ہے۔ اس نے سر پر اونی ٹوپی اور ہاتھوں دستانے بھی پہن رکھے ہیں اور اس کے ہاتھوں میں ڈپریشن کے علاج کی پرچی ہے جس پر اس کا نام لکھا ہوا ہے۔ تعارف کے بعد جب ان کا حال پوچھا تو انھوں نے آہستہ سے سر اٹھایا تو بڑی گہری آنکھیں اور غم میں ڈوبا ہوا اداس چہرہ نظر آ?ا۔’یہ دیکھو، میری کیا حالت ہو گئی ہے! میں ڈپریشن میں ہوں’۔’کشمیر کے ہر تھانے میں ہمارے بچے قید ہیں‘ اس نے کہا: کیا بتاؤں؟ کہاں سے شروع کروں؟ چلیے آپ کو کل رات کے بارے میں بتاتا ہوں۔ ابھی جو رات گزار کر ہسپتال آیا ہوں۔ دس بجے فوج ہمارے علاقے میں آئی اور محاصرہ کر لیا۔ صبح کی نماز تک تمام مردوں کو کھڑا رکھا۔ پھر وہی تفتیش، وہی تھپڑ۔ ہمارا کوئی قصور نہیں تھا۔ یہ دیکھو، میرا کیا حال ہو گیا ہے! میں ڈپریشن میں ہوں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں ہر 100 میں سے 15 خواتین ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں سات گنا زیادہ خواتین افسردگی کا شکار ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خواتین کا دائرہ نسبتاً محدود ہے۔ اپنی پریشانی کو بتانے اور بانٹنے کے لیے ان کے پاس نسبتاً راستے کم ہیں۔ اور اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہیں۔ ایک اور مریض کا کہنا تھا : ‘میں بجلی کا کام کرتا ہوں۔ میں پلوامہ شہر میں رہتا ہوں، لیکن میرے گاؤں کا نام وشبوک ہے۔ جب سے آرٹیکل 370 کو ہٹایا گیا ہے، میرا کام بہت کم ہو گیا ہے۔ یہاں رہنے والے سبھی لوگوں کا کام اور کاروبار ختم ہوا تو میرا کیونکر بچتا؟ پہلے دو ماہ تک تو کام مکمل طور پر بند رہا۔ میری تو عمر بھی کم ہے، مجھے تو ڈپریشن نہیں ہونی چاہیے تھی! لیکن اب ڈاکٹر کے پاس آیا ہوں کیونکہ میں ڈپریشن میں ہوں۔ سارا دن دل گھبراتا رہتا ہے۔ ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور یاداشت بھی ختم ہونے لگی ہے۔’ جہاں تک مقبوضہ کشمیر میں کرونا سے اموات کی بات ہے تو وادی میں تو کیا پورے بھارت میں ابھی تک کورونا کی پہلی لہر پر ہی قابو نہیں پایا جا سکا تو دوسری لہر کا کیا ہوگا۔مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے 1161 نئے معاملے ظاہر ہوئے ہیں۔ ان ظاہر ہونے والے کیسوں میں 284 وادی کشمیر جبکہ جموں صوبے میں 540 کیس ظاہر ہوئے۔ ان میں 82 مسافر بھی شامل ہیں۔ اس طرح یہاں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 73014 تک پہنچ گئی۔سرینگر ضلع میں 105، بڈگام میں 27، بارہمولہ میں 26، پلوامہ میں 33، اننت ناگ میں 18، بانڈی پورہ میں 9، کپوارہ میں 44، گاندربل میں 13، کولگام میں 1 اور شوپیان میں 8 کیس سامنے آئے۔ جموں ضلع میں آج سب سے زیادہ 337، راجوری میں 52، ادھمپور میں 38، کٹھوعہ میں 37، ڈوڈہ میں 11، سانبہ میں 29، پونچھ میں 10، رام بن میں 1 ریاسی میں 14 اور کشتواڑ میں 11 کورونا کیس سامنے آئے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کو بھی بھارت سے کہنا پڑا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے ماہرین کو کشمیر جانے دے۔سلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی یہی مطالبہ دہرایا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ قراردادوں کے تحت حق خودارادیت دیا جائے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی منظم نسل کشی اور قتل عام جاری ہے ۔نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز کے استعمال، گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمشنر، اقوام متحدہ کے تحت کمیشن آف انکوائری تشکیل دے کربھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی تحقیقات کی جائیں۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا دباؤ بڑھائے اور اپنا حقیقی کردار ادا کرے۔ مقبو ضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی کا کو ئی جواز نہیں ہے۔بے گناہ کشمیریو ں کی شہادت اور مسلسل کرفیو پر عالمی برادری کی خاموشی انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔ ظلم و جبر سے کشمیرعوام کے حق خود ارادیت کو دبا یا نہیں جا سکتا۔کشمیری عوام نے اپنے خون سے تحریک آزادی کو نئی جلا بخشی ہے۔
بھارتی مظالم بارے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ
