Input your search keywords and press Enter.

بھارت مقبوضہ کشمیر کے اسلامی تشخیص کو مٹا کر دوسرا اسرائیل بنانا چاہتا ہے:سردار مسعود خان

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ انسانوں کے معاشی حقوق چھین کر انہیں بھوک سے مارنے پر تُل گیا ہے، بھارتی حکومت مقبوضہ ریاست میں تمام ترقیاتی اور کاروباری منصوبوں کے ٹھیکے کشمیریوں سے چھین کر بھارتی ہندوؤں کو الاٹ کر رہی ہے تاکہ کشمیریوں کو روزی روٹی کی فکر میں مبتلا کر کے آزادی کی تحریک سے لا تعلق کر دیا جائے۔ یہ بات انہوں نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی برادری کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال پر تشویش اور مذمت کے باوجود بے خوفی سے یکطرفہ اقدامات کر کے متنازعہ علاقے پر اپنے غیر قانونی قبضہ کو مستحکم کرنے میں مصروف ہے اور ریاست کے اسلامی وتاریخی تشخص کو مٹانے کے لئے وہاں ہزاروں مندروں کی تعمیر، اردو اور کشمیری زبان کی جگہ ہندی اور دیگر زبانوں کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر کشمیریوں کی تہذیب و ثقافت اور انہیں ان کے ماضی سے کاٹنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل کر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بالفور ڈکلا ریشن کی طرز پر بھارت مقبوضہ کشمیر کو دوسرا اسرائیل بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس موقع پر سراج الحق نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے حق خودارادیت کے مطالبے کی حمایت میں متحد اور یکسو ہے۔کشمیریوں کی آزادی اور اُن کے حقوق کی جدوجہد اُس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کشمیری اپنا یہ بنیادی اور قانونی حق حاصل نہیں کر لیتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے