Input your search keywords and press Enter.

عالمی برادری کشمیر میں جاری انسانی بحران کی طرف توجہ دے، مقررین

جنیوا۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 02 اکتوبر2020ء) : جینوا میں ایک پریس کانفرنس کے مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں جاری انسانی بحران کی طرف فوری توجہ دے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقررین نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے سائیڈلائنز پر پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کشمیر میں ایک برس سے زائد عرصے سے جاری بھارتی محاصرہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

پریس کانفرنس میں تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی شریک تھے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سابق صدر Mr Morgan Lykketoft اورکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ انہوں نے بھارتی محاصرے کے باعث کشمیریوںکی روزمرہ زندگی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محاصرہ نہ صرف لوگوں کی نفسیات پر تباہ کن اثرات کا باعث بنا ہے بلکہ اس سے علاقے کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ اسکے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبے میں زبوں حالی کا شکار ہوئے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ بھارتی حکام نے پانچ اگست 2019کے باعث قریباً اسی لاکھ نفوس کی زندگیوں کو مفلوج بنا دیا ، علاقے میں تمام مواصلاتی ذرائع منقطع کر دیے اور پورے کشمیرکا بیرونی دنیا سے رابطہ کاٹ دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ جس میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیر میں جاری انسانی حقو ق کی بدترین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کو کشمیر کے دورے کی اجازت دی جائے۔

پر یس کانفرنس کے مقررین نے بھارتی حکام کے ہاتھوں سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں پر ظلم وستم اور ان پر تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے حامی سیاسی رہنما?ں ، کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو ہراساں کیا جارہاہے ، انکی تذلیل کی جارہی ہے اور کالے قوانین کے تحت انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنما?ں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی آواز کو دبانے کیلئے گرفتاریاں، حراستی مراکز میں قید کرنا جیسے جیسے نوآبادیاتی حربے استعمال کر رہا ہے۔

انہوںنے تنازعہ کشمیر کے ایک فوری اور منصفانہ حل پر زور دیتے کہا کہ مسئلے کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت کے اصو ل کے تحت حل تک خطے میں دیر پاامن کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے