Input your search keywords and press Enter.

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مباحثہ کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کو شدید ندامت کا سامنا

اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک مباحثہ کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کو شدید ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے زیر اہتمام مذاکرہ میں انسانی حقوق کے معروف بین الاقوامی گروپس کے مابین مذاکرہ کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بی جے پی کی بھارتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مذاکرہ کے شرکاءنے یو این ایچ سی آر پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکومت پر دباﺅ ڈالے کہ غیر قانونی مقبوضہ بھارتی کشمیر میں تشدد، بلا جواز قید و بند اور معصوم اور نہتے شہریوں کے قتل اور ان کو لاپتہ کرنے کے سنگین انسانی حقوق میں ملوث بھارتی سیکورٹی فورسز کو قابل احتساب بنائے۔ جنیوا سے موصولہ بیان کے مطابق مذاکرہ میں حصہ لیتے ہوئے انٹرنیشنل مسلم وومن یونین (آئی ایم ڈبلیو یو)، ورلڈ مسلم کانگریس (ڈبلیو ایم سی)، کمیونٹی ہیومن رائٹس اینڈ ایڈووکیسی سینٹر (سی ایچ آر اینڈ اے سی) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندوں نے متنازعہ وادی میں انسانی و سیاسی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے سی ایچ آر اینڈ اے سی کی نمائندہ ایمان گیلانی نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتے ہوئے متعدد قرارداد پاس کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قراردادوں کو بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندوں نے بھی قبول کیا تھا اس حقیقت کے باوجود بھارت ان قراردادوں پر ہمیشہ سے عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالتا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی وعدوں کے برعکس مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی اور طاقت سے قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں پر 9 لاکھ سے زائد فوجی تعینات کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ وادی دنیا بھر میں کسی علاقہ میں سب سے زیادہ فوج تعینات کئے جانے والی جگہ بن چکی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقہ کی صورتحال پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ بھارتی حکومت پر دباﺅ ڈالا جائے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کرے اور بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں میڈیا بلیک آﺅٹ اور سول سوسائٹی پر ظلم و ستم کے ذریعے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور بھارت نے 10 ماہ سے زیادہ عرصہ سے مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں عوام کو بلا جواز قید کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ وہ اپنی اس خامی پر پردہ ڈال لے گا تو یہ اس کی غلطی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کے زیر قبضہ وہ علاقہ ہے جہاں پر لوگوں کو انصاف سے محروم رکھنے کے علاوہ اطلاعات تک رسائی اور نقل و حمل جیسے بنیادی انسانی حقوق بھی سلب کئے گئے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ڈبلیو ایم سی کے نمائندہ راجہ سعید الزمان نے کہا کہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جھوٹے پولیس مقابلے، لوگوں کو زبردستی غائب کرنا اور کشمیری نوجوانوں کو قید اور ان پر تشدد کے بارے میں آج بھارت کے پاس کیا جواز ہے۔ مذاکرہ کے شرکاءنے کہا کہ سویلین آبادی کو ڈرانا دھمکانا، معصوم اور نہتے کشمیریوں کا قتل اور پیلٹ گنز کا استعمال وادی میں عام ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندہ نے مقبوضہ کشمیر میں تشدد، عدم برداشت، مذہبی انتہا پسندی اور نسل پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس صورتحال سے واقف ہیں اور بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے عوام پر مظالم ڈھا رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور پر امن مظاہرین پر بھی کالے قوانین اور قوت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارتی پولیس کی جانب سے پر امن مظاہرین کی گرفتاریوں اور تشدد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو متنازعہ شہریت ایکٹ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ان کے خلاف طاقت کا استعمال جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے یہ اقدامات زیادہ دیر پس نظر نہیں رہیں گے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی کونسل پر زور دیا کہ وہ بھارت کو انسانی حقوق کی فراہمی اور اس حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کے لئے مجبور کرے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے