لوٹن(شہزاد علی) تحریک آزادی کشمیر کو برطانیہ میں خارجی اور سفارتی محاذ پر اجاگر کرنے کے لیے کمیونٹی کی مختلف انداز میں کاوشیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں لوٹن میں ایک منفرد نوعیت کی کار ریلی کا اہتمام کیا گیا اس ریلی کا اختتام ہائیڈ پارک میں ہوا، جبکہ آغاز برمنگھم سے کیا گیا تھا اس ریلی کے منتظم متحرک کشمیری رہنما اور مذہبی شخصیت مفتی خالد محمود اور آصف شریف تھے۔ ریلی میں لوگ اپنے سیاسی اور مذہبی نظریات سے بالا تر ہو کر شریک ہوئے، شرکاء نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں گزشتہ ایک سال سے لاک ڈاؤن ہے اور خاص کر 5 اگست کے بعد مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کا سٹیٹس بدل کر ایک بار پھر اپنا ناجائز غیر قانونی قبضہ جما کر مظالم کی ایک نئ داستان کورقم کیا ہے،بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف برطانیہ میں کشمیری کمیونٹی کا کار ریلی پروگرام مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کی جانب برطانوی عوام کی توجہ دلانے کا ایکعمل
ہے اور کشمیری اس موقع پر ریاست جموں و کشمیر کے حق خودارادیت کے لیے اقوامِ عالم اور اقوام متحدہ کی توجہ دلانے کے خواں ہیں کشمیری دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ایک قوم ہیں اور وہ گزشتہ 72 سالوں سے اپنے حق خود ارادیت کا مطالبہ پیش کرتے چلے آرہے ہیں اور گزشتہ ایک سال سے بھارت کے تازہ اقدامات سے ہمارے مقبوضہ کشمیری بہن بھائی اپنی بنیادی ضروریات زندگی سے بھی محروم کر دیئے گئے ہیں ۔کشمیری گزشتہ ایک سال سے لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں دور حاضر میں بھارت کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ جاری یہ سلوک انسانی استحصال کی مذموم کوشش ہے جو پورے عالمی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے، منتظمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ کار ریلی کشمیر کے حوالے سے ایک اچھی سرگرمی ہے جس کا پیغام مقبوضہ کشمیر میں اچھا جائے گا، بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر تشدد اور مظالم کے خلاف نبرد آزما کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے اتوار کے روز منعقدہ کار ریلی برمنگھم اور لوٹن اور پھر براستہ ہیتھرو ایئرپورٹ سے مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی لندن کے ہائیڈ پارک میں جاکر اختتام پزیر ہوئی، اس کار ریلی کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ شرکاء نے کشمیر کے جھنڈے اور بینرز اپنی گاڑیوں پر آویزاں کیے ہوئے تھے، منتظمین کے مطابق یہاں یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ کشمیری نوجوانوں اور خواتین کے علاوہ سکھ کمیونٹی نے بھی اس کار ریلی میں شرکت کی، ریلی کے شرکا نے برمنگھم موٹر وے پر اپنی گاڑیوں کی رفتار کو آہستہ رکھا تاکہ ریلی کا مقصد واضح ہوسکے، کار ریلی کے منتظمین میں سردار تاشی بھی شامل تھے۔
