سری نگر۔ جنوبی کشمیر کے3 نوجوانوں ذاکر احمد،عبید مشتاق، عادل حسین اور ایک خاتون کوثر ریاض کو بھارتی فوج نے سری نگر میں گولی مار کر شہید کر دیا ہے۔ بھارتی فوج نے شہیدتین نوجوانوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔کے پی آئی کے مطابق شہر سرینگر کے بٹہ مالو علاقے میں جمعرات کی صبح بھارتی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کارروائی کے دوران گولی لگنے سے 45سالہ مقامی خاتون کوثر ریاض سمیت کشمیریوں کو گولیاں لگیں۔ زخمی کوثر ریاض کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ ذاکر احمد پال ساکنہ شوپیاں ،عبید مشتاق بٹ ساکنہ کولگام اور عادل حسین ساکنہ اونتی پورہ دیگر تین نوجوان موقع پر شہید ہو گئے ۔ بھارتی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ جھڑپ ہوئی ہے مارے جانے والے تین عسکریت پسند تھے ۔ سی آر پی ایف 17 بٹالین کا ڈپٹی کمانڈنٹ راہول کمار بھی گولی لگنے سے زخمی ہوگیا ایک دوسرا اہلکار بھی زخمی ہوا ہے ان کو 92بیس اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ادھر بھارتی فوج نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے علاقے میں انٹرنٹ سروس بند کر دی گئی ہے ۔ بٹہ مالو علاقے کی طرف آنے جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ تازہ شہادتوں کے خلاف کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ دریں اثنا شمالی کشمیر کے سوپور قصبے میں دوران حراست 23سالہ عرفان احمد ڈار کے قتل کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں احتجاج کیا گیا ۔تجر شریف میں بھارتی فورسز نے گزشتہ روز تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران 23سالہ عرفان احمد ڈار ولد محمد اکبر ڈار ساکن صدیق کالونی سوپور کو گرفتار کیا تھا۔ بعد میں اسے دوران حراست ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔عرفان کی لاش تجر شریف سے ملی تھی۔23سالہ عرفان احمد ڈار کے قتل کے بعد جمعرات کو بھی سوپور میں حالات کشیدہ رہے ۔ سوپور میں بھی انٹرنٹ سروس بند ہے۔ نوجوان عرفان کے آبائی علاقہ صدیق کالونی سے خواتین نے ایک جلوس نکالا۔ نعرے بازی کرتے ہوئے سب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپورتک مارچ کیاجبکہ اقبال مارکیٹ کے نزدیک بھی کچھ خواتین نے جمع ہوکر احتجاج کیا۔صدیق کالونی کے عقب سے گزرنے والے بائی پاس روڑ پربھی احتجاج کیا گیا۔ سوپورمیں کاروباری سرگرمیوں اورگاڑیوں کی آ مدرفت متاثرہوئی ۔ بدھ کی رات دیر گئے عرفان احمد کی لاش انکے اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئی .
