وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر نے مظفر آباد میں یوم دفاع پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 5لاکھ لوگوں کو غیر قانونی طور پر شہریت دیدی ہے جبکہ اس نے مقبوضہ وادی میں 15لاکھ لوگوں کو شہریت دینے کا منصوبہ بنا رکھا ہے‘ اس میں اب کوئی شبہ نہیں رہا کہ بھارت کی ہندو انتہا پسند مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کا تشخص ختم کر کے وہاں ہندوئوں کو بسانے کے مذموم منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال 5اگست کوکشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کے اپنے ناپاک منصوبے کا آغاز کر کے اس کی بنیاد رکھ دی تھی اور اس کے بعد سے اب تک قریباً 5لاکھ ہندوئوں کو وہاں آباد کر چکا ہے۔مودی حکومت مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کے ساتھ وہی کچھ کر رہی ہے جو اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کر رہا ہے تاکہ کشمیریوں کی مذہبی‘ تاریخی اور ثقافتی شناخت ختم اور ڈیمو گرافی تبدیل کر کے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے‘ اور رہے گا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور کشمیریوں کی آزادی تک وہ ان کی اخلاقی مدد کرتا رہے گا۔ اقوام عالم کو چاہیے کہ وہ بھارت کے کشمیریوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کو روکیں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ان کو استصواب رائے کا حق دیا جائے تاکہ کشمیری اپنا فیصلہ خود کر کے آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزار
کشمیر کی شناخت ختم کرنے کا بھارتی منصوبہ
