Input your search keywords and press Enter.

بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں خواتین اور بچے مظالم کا سب سے زیادہ شکار ہیں: کورین اخبار

 غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر جو دنیا کے خوبصورت ترین علاقوںمیں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے ، طویل عرصے سے بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سیول سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار کوریا ٹائمز نے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ان خلاف ورزیوں کے معاملات نہ صرف بہت کم رپورٹ ہورہے ہیں بلکہ عالمی برادری کا ردعمل بھی بہت ہی کمزو ر ہے۔

جنوبی کوریا کے قدیم ترین انگریزی اخبارمیں شائع ہونے والے رخسانہ شماء کے مضمون میں غیرقانونی طورپربھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر اور آزادکشمیر کا موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آزادکشمیر بڑی حد تک اندر ونی طوپر پرامن ہے جبکہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نہ صرف بھارتی فورسز بہت بڑی تعداد میں تعینات ہیں بلکہ سات لاکھ سے زائد فوجی طاقت کا وحشیانہ استعمال بھی کررہے ہیںاور اوسطاً ہر14 کشمیریوں کے لئے ایک فوجی تعینات ہے۔

اگست 2019 میں اچانک بھارت نے علاقے میں اپنے فوجیوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا اور سیاحوں اور یاتریوں کو زبردستی وادی سے نکالا۔ صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب پوری وادی کابیرونی دنیا کے ساتھ ہر طرح کا مواصلاتی رابطہ منقطع کیاگیا۔ اخبار نے مزید کہا کہ دو سابق وزرائے اعلیٰ سمیت سیکڑوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوںکو نظربند کردیا گیا اور بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کردیا گیا۔

کوریا ٹائمز نے کہا کہ اس اقدام کو وادی کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جارہا ہے جہاں ابھی تک مسلمانوں کی اکثریت ہے۔اخبار میں مزید کہا گیا کہ امریکہ نے بھی بھارتی آئین میں تبدیلی کی مذمت کی ہے اورکشمیر میں انسانی حقوق کی پہلے سے خراب صوتحال مزید بدتر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں خواتین اور بچے مظالم کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔

اخبار نے لکھا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز بے حرمتی ، فائرنگ ، بچوں اور نوجوانوں کے اغوا کے ساتھ ساتھ تشدد کو نہ صرف خوف ودہشت قائم کرنے بلکہ علاقے پر اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کررہی ہیں۔مضمون میں 2005 ء میں میڈیسن فرنٹیئرز کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ کشمیری خواتین دنیا میں سب سے زیادہ جنسی تشدد کا شکار ہیں۔

1989 ء سے جب کشمیر میں بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا ، کشمیر میں خواتین مستقل طور پر تشدد کا شکار رہی ہیں۔اخبار نے لکھاکہ اقوام متحدہ کے 52 ویں کمیشن برائے انسانی حقوق میں پروفیسر ولیم بیکر نے ثبوت پیش کئے کہ کشمیر میں عصمت دری محض نظم وضبط توڑنے والے فوجیوں کے منفرد واقعات کا معاملہ نہیں بلکہ بھارتی فورسز کشمیریوں کے خلاف عصمت دری اور تذلیل کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کررہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے