یک طرف پاکستان، ترکی ایران، ملیشیا، چین اور روس کے مراسم قائم ہو رہے ہیں وہیں بھارت، امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، جاپان اور آسٹریلیا ایک نیا بلاک بنانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ اس پس منظر میں جب کشمیر کے مسئلے کی عالمی حمایت کے حصول پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک بات کو ذہن نشین کرنا لازمی بن جاتا ہے کہ پاکستان کے موقف کی حمایت محض چند مسلم ممالک تک محدود ہے حالانکہ نئے بلاک میں چین سمیت دوسرے ملکوں کی حمایت کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ چین، روس یا دوسرے ممالک پاکستانی موقف کی حمایت نہیں کرتے؟ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے تئیں غیر مسلم دنیا کی سیاسی سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ میڈیا کو بظاہر اسلامی دہشت گردی کی تشہیر کرنے کی ہدایات ملیں اور ہر جائز تحریک کو دہشت گردی سے گردانا گیا وہ چاہیے کشمیر کی تحریک ہو یا فلسطین کی۔ حتی کہ ان تحریکوں سے منسلک پرامن لیڈرشپ کو بھی دہشت گردی کے زمرے میں ڈالنے کا عمل شروع کرایا گیا۔ 1988میں کشمیر میں مسلم متحدہ محاذ کی جیت کو شکست میں تبدیل کر کے انتخابی امیدواروں کو بندوق اُٹھانے پر مجبور کر دیا گیا۔ طالبان تب تک جہادی تھے جب تک روس نشانے پر تھا، مگر جب انہوں نے امریکی فوج کے خلاف افغانستان چھوڑنے کی مہم شروع کی تو اسلامی دہشت گرد کہلانے لگے۔ یہ چند مثالیں جمہوری دنیا کی نظریاتی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ کشمیر کے بارے میں یہی سوچ قائم ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے اقوام عالم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ کشمیر کو اپنے طریقے سے نبھانی گی جس کیلئے کسی حد تک عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ سال پانچ اگست کے فیصلے پر بڑی طاقتوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا حالانکہ عالمی میڈیا نے پہلی بار کشمیر کی حقیقی صورتحال بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ برطانیہ آج بھی کشمیر کو ہندوستان سے الگ نہیں دیکھنا چاہتا جو اس کی تھنک ٹینکس کے تجزیاتی مطالعوں میں واضح لکھا ہے۔ ظاہرہے کہ برطانیہ کی پالیسی امریکی پالیسی کی نقل ہوتی ہے وہ چاہیے فلسطین ہو، کشمیر ہو، افغانستان ہو یا عراق ہو۔ امریکی اور یورپی تھنک ٹینکس کی رپورٹوں کے مطابق جو چیز عالمی برادری کو سب سے زیادہ پریشان کررہی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کشمیر کو آزادی دی جاتی ہے تو اس کے انتہا پسندوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بننے کا خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر تھنک ٹینکس کشمیر کیلئے کسی نہ کسی حل کیلئے ہندوستانی آئین کے دائرہ کار میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ہندوستانی موقف کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ آرٹیکل 370کو ہٹانے کی وجہ بھی صحیح سمجھتے ہیں کیونکہ بھارت نے ان پر واضح کیا ہے کہ مسلم ریاست رہنے سے بھی اس خطے میں اسلامی دہشتگردی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی تصدیق کیلئے وہ روزانہ اینکاؤنٹرز میں مارے جانیوالے دہشتگردوں کی لسٹیں فراہم کرتا رہا ہے۔ چین بھی جموں و کشمیر کو آزاد مملکت کے روپ میں دیکھنے کا حامی نہیں ہے لیکن ریاست کی اندرونی خودمختاری ختم کرنے کا بالکل حامی نہیں ہے جس کی بڑی وجہ لداخ کیساتھ ملنے والی اس کی سرحد ہے اور دوسری وجہ آزاد کشمیر میں سی پیک کا اس کا منصوبہ۔ چین سمجھتا ہے کہ لداخ کے یونین ٹیریٹری بننے سے بھارت ایک تو سرحدی کشیدگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گا دوسرا وہ تبت میں نئی شورش کی وجہ بن سکتا ہے اور پھر شمالی پاکستان کے علاقوں سے گزرنے والی سی پیک راہداری بھارت کی فوجی ترجیحات میں سر فہرست رہے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی برادری کو بتایا گیا ہے کہ آزادی کی تحریک صرف وادی کے مسلم علاقوں تک محدود ہے جہاں بیشتر مسلح تنظیمیں ایک ماڈل اسلامی ریاست کے قیام کے حق کا مطالبہ کر رہی ہیں جس کی عالمی طاقتیں مخالف ہیں کیونکہ یہ طاقتیں افغانستان اور پاکستان میں اسلامی عناصر کو پسماندہ کرنے کی بھر پور کوشش کرر ی ہیں تاکہ بقول ان کے یہ خطے القاعدہ یا طالبان جیسے انتہا پسندوں کے ٹھکانے نہ بن جائیں۔ خیال ہے کہ جموں کو بھی الگ صوبہ بنا کر کشمیر کو محض وادی تک محدود رکھا جائیگا تاکہ دہشت گردی کی آڑ میں ایک تو تحریک آزادی کو ختم کیا جا سکے اور دوسرا وادی کے مسلم کردار پر شب خون مارنے میں آسانی پیدا کی جا سکے۔ عالمی سفارت کاری اور نظریاتی سوچ کے اس پس منظر میں کشمیر کی آزادی کیلئے حمایت کیسے حاصل ہو، اس پر کشمیریوں، پاکستان اور حامی ملکوں کو شاید ایک نئی اور مربوط حکمت عملی ترتیب دینی ہو گی۔
کشمیر پر عالمی توجہ کیوں نہیں؟
