مظفرآباد:(پاک آن لائن نیوز) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے تمام مظالم کے باوجود بھارتی قبضے کو تسلیم نہیں کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اگر موجودہ عالمی نظام مفادات کے بجائے اخلاقی اُصولوں اور ادریشوں، غیر جانبداری اور قانون کی حکمرانی کے عالمی اصولوں کے مطابق چل رہا ہوتا تو وہ لوگ جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی، منظم نسلی تطہیر اور غیر محا رب لوگوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہیں وہ آج نازی جرمنی کے حکمرانوں کی طرح بین الاقوامی ٹر یبونل کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی فاشسٹ حکمران جماعت بی جے پی نے ایک سال قبل ایک ایسے علاقے کے عوام سے اُن کی علیحدہ شناخت، مستقل سکونت، شہریت کا حق، حصول اراضی، ملازمتوں اور تعلیمی وظائف سے متعلق حقوق چھین لیے جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق افواج پاکستان کے جریدے ہلال کے لیے لکھے گئے ایک خصوصی مضمون میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی علیحدہ شناخت ختم کر کے اور اسے بھارت کا حصہ قرار دے کر تنازعہ کشمیر کو جبر کی دبیز تہہ میں دفن کر دے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد آزادی اور حق خود ارادیت کی آواز کی گونج مقبوضہ جموں و کشمیر کی وادیوں اور کوہساروں میں مزید بلند اور توانا ہو گئی ہے، بھارت کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سر زمین پہلے بھی اجنبی تھی اور آئندہ بھی اجنبی رہے گی، کیونکہ اس سر زمین کے باسیوں نے بھارت کی نا جائز رٹ کو پہلے کبھی تسلیم کیا اور نہ آئندہ کبھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے دلوں میں پاکستان سے محبت کا چراغ پہلے سے زیادہ آب و تاب کے ساتھ روشن ہے۔
صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیریوں کے اندر پائی جانے والی آزادی اور حریت کی بے پایاں خواہش کو ختم کرنے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کی انتہا پسند اور متشدد حکومت نے گزشتہ سال آخری حربے کے طور پر مقبوضہ ریاست پر حملہ کر کے قبضہ کرنے ریاست کو مدغم کرنے اور اسے اپنی نو آبادی بنانے پر مجبور کیا اور اس کی نو لاکھ فوج نے کشمیر کی سر زمین پر چڑھائی کی اور خطہ کی پوری آبادی کو محاصرے میں لے کر انہیں اجتماعی سزا دینے کے لیے سیکیورٹی لاک ڈائون نافذ کیا اور دنیا سے اہل کشمیر کا رابطہ منقطع کرنے کے لیے تمام مواصلاتی نظام بند کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب بھارتی حکمرانوں کو ایک با ر پھر احساس ہو چکا ہے کہ ان کے تمام تر جبر و استبداد کے باوجود کشمیری اپنے وطن پر غیر ملکی قبضہ کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں، غیر ملکی قابضین کو یہ بھی معلوم وہو چکا ہے کہ وہ خواہ کتنے ہی کشمیریوں کو ختم کر لیں، کشمیر آزادی اور حریت کی پرورش گاہ کے طور پر باقی رہے گا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھارتی حکمرانوں نے اب نو آباد کاری کی ایک نئی چال چلی ہے جس کے تحت پورے بھارت سے ہندو شہریوں کو کشمیر میں لا کر آباد کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، تاکہ مسلم اکثریتی ریاست کو ہندو اکثریتی ریاست میں بدل دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین کا نفاذ بھارت کا ہندوستان کے شہریوں کو کشمیر کی شہریت آسان بنانے اور کشمیر کے حقیقی باشندوں کو ان کے اپنے وطن کی شہریت سے محروم کرنے کا وہ شیطانی منصوبہ ہے جس پر عمل کرتے ہوئے و ہ ریاست کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانا چاہتا ہے۔
بھارت کے ان غیر قانونی اور غیر انسانی ہتھکنڈوں پر عالمی برادری کی خاموشی پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں مغربی ملکوں کے بلاک اور چین کے درمیان کشیدگی اور کشمکش سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت نے اپنے آپ کو چین کے مقابل قوت کے طور پر مغرب کو اپنی خدمات پیش کی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک بھارت کے ناز نخرے اُٹھانے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔
