Input your search keywords and press Enter.

کشمیر میں بربریت اور حق خود ارادیت

ریاست جموں کشمیر کی جغرافیائی پوزیشن سے انکار ممکن نہیں ہے گورداسپور کی غیر منصفانہ تقسیم سے کشمیر کی ہندوستان سے راہ تو منسلک کردی گئی تھی لیکن ملک کی اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہاں تھی جو کہ تین جون 1947ء کے منصوبے کا شاخسانہ تھا کہ اکثریتی علاقوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ جس کے ساتھ چاہے الحاق کرسکتے ہیں وہاں کی اکثریت پاکستان سے الحاق چاہتی تھی دوسری طرف کشمیر کے راستے بھی پاکستان سے متصل تھے جو پاکستان کو وادی جہلم سے ہوکر جاتے تھے۔ بیرونی علاقوں سے بھی کشمیر کا راستہ سیالکوٹ سے تھا۔ ڈاک اور تار کا نظام بھی پاکستان سے منسلک تھا کشمیر کے راجہ نے عوام کے احساسات کا خیال کئے بغیر ہندوؤں کے مفادات کا خیال رکھا اور بھارت کی مدد کی اور بھارت نے فوجیں بھیج کر الحاق کرلیا 1948ء کے حکومت ہند کے قرطاس ابیض میں یہ بات شامل تھی کہ یہ الحاق عارضی ہے کشمیر کے متعلق قطعی فیصلہ استصواب سے ہوگا مہاتما گاندھی نے بھی عارضی الحاق کے متعلق اپنا اعلان کیا اور ہندوستان کے نمائندے گوپالا سوامی نے سلامتی کونسل کو یہ یقین دلایا کہ یہ الحاق عارضی ہے اور ریاست میں امن بحال ہوتے ہی اس کے متعلق فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی سے کیا جائے گا۔ بھارت وقت اور مواقع کی تلاش میں تھا نہ تو الحاق عارضی ثابت ہوا نہ آزادانہ ریفرنڈم کے خواب پورے ہوئے پاکستان کے احتجاج پر جب معاملہ سلامتی کونسل میں پہنچا تو ہندوستان نے ایک بار پھر کہا کہ حکمت بھارت نے کشمیریوں سے کمٹ منٹ کر رکھی ہے کہ کشمیریوں کو موقع دیا جائیگا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں کہ وہ ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ اور حالات کے سازگار ہوتے ہی استصواب رائے ہوگا۔ 1953ء میں جب دونوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات ہوئی تو بھارت نے مشترکہ اعلامیے میں اس مسئلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا سکا حل کشمیریوں کی مرضی سے ہوگا۔ پنڈت نہرو نے 1957ء میں ایک جگہ اپنے خطاب میں کہا کہ میں اس کمٹمنٹ سے منحرف ہونے کی بجائے استعفیٰ کو ترجیح دوں گا، جب پاکستان نے امریکہ کے ساتھ فوجی معاہدہ کیا تو جواہر لعل نہرو نے کہا کہ اس فوجی معاہدے نے کشمیر کا سیاق و سباق بدل دیا ہے اور پھر وہ وقت آگیا کہ بھارت نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا اور سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں کو پس پشت ڈال دیا اور یہ کہنا شروع کردیا کہ پاکستان ہمارے اندرونی معاملے میں مداخلت کر رہا ہے۔ 1962ء میں ہندوستان اور چین کی جھڑپیں ہوئیں تو پاکستان چاہتا تو فوجیں کشمیر میں بھیج سکتا تھا لیکن پاکستان نے بیرونی دباؤ قبول یا 1965ء کی جنگ کے بعد اعلان تاشقند میں ایوب خان جیتی ہوئی جنگ کی بازی میز پر ہار آئے۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو اُجاگر ہی نہیں کیا۔ بھارت نے کشمیریوں کا زور توڑنے اورکشمیر پر قبضے کے پیش نظر سات لاکھ فوج کو متعین کیا ہوا اور ان پر دن رات بربریت اور سفاکی کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیری رہنما علی گیلانی نے یورپین یونین سے ان مظالم کو روکنے کی اپیل بھی کی ہے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی مثال نہیں ملتی ہے، امریکہ اور چین کے ثالثی کردار کو بھی بھارت نے مسترد کر دیا ہے۔ ماضی میں بھی اس مسئلہ پر بھارت نے جنگیں مسلط کیں ، دونوں ممالک کے سر پر جنگ کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔ امن پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ کشمیر کا فیصلہ ان کی مرضی اور اُمنگوں سے ہو۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور باغیرت قوم اپنی شہ رگ دشمن کے حوالے نہیں کر سکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے