اپوزیشن ارکان سینیٹ
اسلام آباد (نامہ نگار، اے پی پی،صباح نیوز )سینیٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے کہا کہ ہم بھارت کے مذموم مقاصد کے خلاف متحد ہو کر اور ڈٹ کر کھڑے ہیں، ہم کشمیریوں کے خلاف ہر اقدام پر سیاسی اختلافات بھلا کر اکٹھے ہوں گے ، کشمیر صرف نعروں سے آزاد نہیں ہو گا، مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے قومی ایکشن پلان بنایا جائے ، سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ پاکستان نہیں مودی دنیا میں تنہا ہوچکا ہے ،بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ایوان میں تمام مسائل پر بحث کی جانی چاہیے ۔ ہم بھارت کے مذموم مقاصد کے خلاف متحد ہو کر اور ڈٹ کر کھڑے ہیں، ہم کشمیریوں کے خلاف ہر اقدام پر سیاسی اختلافات بھلا کر اکٹھے ہوں گے ۔ جاوید عباسی نے کہا کہ ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کی ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ سراج الحق نے کہا کہ کشمیری شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، کشمیر صرف نعروں سے آزاد نہیں ہو گا، مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے قومی ایکشن پلان بنایا جائے ۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ صدر کے خطاب میں مسائل کے حل کے لئے تجاویز ہونی چاہئیں تھیں۔ اپوزیشن کا مقصد تنقید برائے اصلاح ہونا چاہیے ،حکومت کو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے ، عثمان کاکڑ نے کہا کہ صدر مملکت پارلیمنٹ کا حصہ ہوتے ہیں، انہیں وفاق کی علامت اور 22 کروڑ عوام کے حقوق کا محافظ ہونا چاہیے ، مشتاق احمد نے کہا کہ ہمیں بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ، صدر کے خطاب پربحث سمیٹتے ہوئے سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ عمران خان بھٹو اور نواز کی طرح آمریت کے پردے سے برآمد نہیں ہوئے ۔ ملک میں دو پارٹی سسٹم کو توڑنا تحریک انصاف کی سب سے پہلی کامیابی ہے ۔وزیراعظم عمران خان کسی بھی صورت اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور مافیاز کو انجام تک پہنچائیں گے ۔ چینی کا ایشو آیا تو انکوائری ہوئی اور ایکشن بھی ہوا۔ ہم نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے ۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہاکہ حکومت آرڈیننس فیکٹری بن گئی ہے ۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے آئین کے آرٹیکل 89کی شق2میں ترمیم اورکووڈ 19آرڈیننس 2020پیش کیا ۔ اپوزیشن نے تاخیر سے آرڈیننس پیش کرنے پر شدید احتجاج کیا ۔صباح نیوز کے مطابق اپوزیشن نے سینیٹ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی مبینہ سہولت کاری کے صدارتی آرڈیننس سے پارلیمنٹ کو لاعلم رکھنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے تفصیلات اور وضاحت طلب کر لی ، اپوزیشن کی طرف سے کہا گیا کہ 60 دنوں میں کلبھوشن یادیو کو نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کی سہولت دی گئی، 20مئی کو یہ آرڈیننس جاری ہوا، 56 دن گزر چکے ہیں ۔ وزارت خارجہ بتائے کیا کوئی درخواست دائر ہوئی ہے ۔ رضا ربانی نے کہاکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی آرڈیننس کو مسترد کردیں، کلبھوشن یادیو کی سہولت کاری سے متعلق آرڈیننس رات کے اندھیرے میں جاری کیاگیا اور آج تک وجوہات کو خفیہ رکھتے ہوئے آرڈیننس کو روشنی تک نہیں دکھائی گئی ۔
