بھارت کے جبر اور ظلم و ستم کی وجہ سے کشمیری قوم گزشتہ برس جاں گسل آزمائشوں کے ایک نئے دور میں داخل ہوگئی
صدیوں سے بیرونی تسلط اور اپنے جابر حکمرانوں کی ریشہ دوانیوں کا شکار رہنے والی کشمیری قوم ،سالِ گذشتہ مزیدجاں گسل آزمائشوں کے ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے ۔ غلامی کی سفاکیوں کے سامنے اہلِ کشمیر نے جس ذوقِ خود مختاری کا مظاہرہ کیا ہے ، اس کو دیکھتے ہوئے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کہہ اٹھے تھے کہ ؎
جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
کشمیر کی کشمکشِ حیات 1947ء اور اس کے آس پاس کے برسوں میں شروع نہیں ہوئی ۔اس کا آغاز اُس وقت سے ہوگیا تھا جب خود ساختہ مہا راجائوں نے اس علاقے پر قبضہ کیا اور پھر غیر ملکی استعمار کے ساتھ ساز باز کرکے کشمیر پراپنی حکمرانی کوجاری رکھتے رہے۔البتہ1947ء سے جو کہانی شروع ہوئی اور جو آج تک جاری ہے،یہ ایک طرف کشمیر پر بزور تسلط قائم رکھنے اور دوسری طرف کشمیریوں کی اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کی جدوجہد سے عبارت ہے۔گذشتہ 72 برسوں میں کئی سال اور مہینے ایسے آئے جب کشمیر کا قصہ منظر عام پر رہا لیکن پھر برسوں تک یہ نظروں سے اوجھل اور عالمی حافظے سے غائب بھی ہوتا رہا۔
2019ء کا سال جو اب رخصت ہوچکا ہے ،کشمیر کی کہانی کا ایک اہم سال بنا رہے گا۔تقویمِ ماہ و سال کے سفر میں کچھ آگے جاکر جب ہم پیچھے مُڑ کر دیکھیں گے تو اس سال پیش آنے والے واقعات نمایاں ہوکرہمارے سامنے آئیں گے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پچھلے 72برسوں میں یہ کبھی بھی عالمی سطح پر اتنا زیر بحث نہیں رہا تھا ۔جتنا کہ اب زیر بحث آیا ہے۔
5اگست 2019ء کو ہندوستان نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35-Aاور370کو کالعدم کرنے کا فیصلہ کیا۔ہندوستان کے زیر تسلط کشمیر میں داخلی طور پر اس اقدام سے تین بڑے نتائج نکلے ہیں۔اول، ہندوستان نے اپنے آئین میں ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کشمیر کو جو ایک مختلف حیثیت دے رکھی تھی اورجو کشمیریوں کو کسی حد تک یہ احساس فراہم کرتی تھی کہ اُن کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے،اوریہ کہ وہ ہندوستان کی یونین کا حصہ نہیں بن گئے ہیں، مذکورہ آرٹیکلز کے خاتمے سے یہ تکلف ختم ہوگیا ہے۔یہ آرٹیکلز عالمی برادری کو بھی یہ باور کرانے کا ذریعہ بنے تھے کہ کشمیر باقاعدہ اور باضابطہ طور پر ہندوستان کے علاقوں میں شامل نہیں ہے۔
اب ہندوستان نے ان آئینی آرٹیکلز کو ختم کرکے کشمیر کا یہ جداگانہ تشخص ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس کو اپنے مشمولہ علاقوں کا ایک حصّہ قرار دے دیاہے۔اس اقدام کا دوسرا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کشمیر کی داخلی وحدت بھی تار تار کر دی گئی ہے۔
چنانچہ وادی کشمیر کو مرکز کے تحت ایک ایسا یونین علاقہ قرار دیاگیا ہے جس کی اپنی ایک اسمبلی بھی برقرار رہے گی البتہ لدّاخ کو مرکز یا یونین کے تحت ایک علیحدہ علاقے کا درجہ دیا گیاہے، جس کے پاس اپنی کوئی مقننہ بھی نہیں ہوگی۔تیسرا اہم نتیجہ ان آرٹیکلز کو ختم کرنے کا یہ ہے کہ ماضی کے برعکس اب ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے لوگ اعلانیہ طور پر کشمیر میں آباد ہوسکیں گے، وہاں ملازمتیں اور کاروبار بھی کرسکیں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی اپنے سیاسی کیریئر کی شروعات ہی سے آرٹیکل 370کے خلاف زبان کھولتے رہے تھے۔ان کا کہنا تھاکہ جواہر لعل نہرو اور کانگریس کی قیادت نے قومی مفاد کے خلاف کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت دی جس کی وجہ سے یہ دنیا کی نظروں میں متنازعہ علاقہ بنا رہا۔گذشتہ انتخابات میں تو انہوں نے واضح طور پر اعلان کردیا تھا کہ ان کی حکومت کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ہندوستان کے آئین سے خارج کرنے میں زرا دیر نہیں لگائے گی۔
ہندوستان کی بی جے پی سرکار کا کشمیر کو بیک جنشِ قلم ہڑپ کرلینے کا اس کا ارادہ تو بہت پرانا تھا اور اس کے لیے اس کی منصوبہ بندی بھی ایک عرصے سے جاری تھی۔ البتہ اس اقدام کے لیے مناسب ترین وقت کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیاگیا۔داخلی طور پر بی جے پی حکومت تازہ بہ تازہ از سرِ نو انتخاب جیت کر بلکہ پچھلی مدت اقتدار میں حاصل عوام اور لوک سبھا کی حمایت کے مقابلے میں زیادہ بڑی حمایت کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی۔گذشتہ پانچ چھہ برسوں میں بی جے پی کی حکومت نے ہندوستان میں اقتصادی ترقی کا زبردست پروپیگنڈا کیا تھا۔ماہرینِ معاشیات کے خیال میں یہ ترقی اتنی حقیقی نہیں تھی جتنا کہ اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔تاہم بیرونی دنیا میں بھی ہندوستان نے اپنا ایک امیج بنایا۔
ووٹروں کی تعداد کی بنیاد پر یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ تو پہلے ہی تھی،اب کھلی منڈی کی معیشت کو بھرپور طریقے سے قبول کرنے اور بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے اپنے دروازوں کے سارے پٹ کھول دینے سے ،ہندوستان دنیا بھر سے فائدے وصول کررہا تھا۔امریکہ اور چین کے اپنے اختلافات کتنے بھی ہوں ،ہندوستان کو شیشے میں اتارنے میں دونوں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کررہے۔
ہندوستان کی وسیع و عریض مارکیٹ دونوں کو رِجھا رہی ہے۔روس کے تو ہندوستان سے قریبی تعلقات کئی عشروں پر پھیلے ہوئے ہیں۔عالمِ عرب اقتصادی اعتبار سے ہندوستان سے اس وقت جتنا مرعوب اور جتناقریب ہے،اتنا ماضی میں کبھی نہیں تھا۔ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہندوستان نے کشمیر پر یا اس کے ایک بڑے حصے پرقبضہ کرنے کے لیے اُس نے موزوں ترین وقت کا انتخاب کیا۔
ڈاکٹر سید جعفر احمد
جاری ہے۔۔۔
