اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ امریکہ سے ماضی جیسے تعلقات نہیں ہیں۔ پاکستان کشمیر پر دنیا کو شرمندہ کرنا چاہتا کہ انسانی اقدار کی باتیں کرنے والے بھارت سے تعلق رکھنے کیلئے مسئلہ کشمیر پر کیوں خاموش ہو جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر اور جی 77 گروپ کے نومنتخب صدر منیر اکرم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین کے ساتھ بہت قریبی تعلقات ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات برے نہیں ہیں۔ چین نے ہمیں امریکہ سے برے تعلقات رکھنے کیلئے نہیں کہا، ہماری کوشش یہی ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات اچھے رہیں۔ کشمیر کا مسئلہ ستر سال پرانا ہے، ہم نے پچاس سال تک مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں نہیں اٹھایا تھا، اب ہم نے سلامتی کونسل میں تین بار مسئلہ کشمیر کو اٹھایا۔ مسئلہ کشمیر پر بہت سے ممالک نے حمایت کی، ہمیں سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور ہیومن رائٹس کونسل میں دبائو رکھنا ہے، کشمیر کے معاملے کو ہر سال عالمی سطح پر اٹھاتے ہیں۔ منیر اکرم نے کہا کہ چین ہمارے ساتھ ہے، چین کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور ہے، چین نے مسئلہ کشمیر پر آواز بلند کر کے صورتحال بدل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے مفادات ایک جیسے ہیں، ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے وہ 400 ملین ڈالر کی رقم منتقل کریں تاکہ ترقی پذیر ممالک کو یہ رقم فراہم کی جاسکے۔
امریکہ سے ماضی جیسے تعلقات نہیں کشمیر پر دنیا کو شرمندہ کرنا چاہتے ہیں پاکستان
