شوپیاں اور پلوامہ اضلاع کے آٹھ علاقوں میں 65.5 ایکڑ زمین پربھارتی پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے نئے کیمپ بنائے جائیں گے ۔بھارتی حکام نے غلطی سے سرحد پارکرنیوالے مقبوضہ کشمیر کے شہری اسمد علی کو پاکستانی حکام کے حوالے کردیا ،بھارت مخالف سرگرمیوں کا الزام لگا کر مزید 47سرکاری ملازمی کی برطرفی کا عمل شروع کردیا جن میں 19سرکاری افسر بھی شامل ہیں، بھارتی پولیس نے ضلع اسلام آباد میں ایک غیر کشمیری پرویزسلمانی کو پستول اور میگزین سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔تفصیلا ت کے مطابق بھارتی پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس نے بھارتی وزارت داخلہ سے مقبوضہ علاقے میں حال ہی میں الاٹ کی گئی 65.5 ایکڑ اراضی کی منتقلی میں تیزی لانے اورمزید اراضی الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ سی آر پی ایف نے تقریبا دو ہفتے قبل بھارتی وزرات داخلہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ا سے فنڈز فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی تاکہ وہ مذکورہ زمین کے لئے جموں وکشمیر انتظامیہ کورقم اداکرسکے اور فورسز اہلکاروں کے لیے مخصوص رہائش کی تعمیر شروع کرسکے ۔بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سی آر پی ایف سے مزید زمین کی درخواست موصول ہوئی ہے اور اس پر غور کیا جا رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق سی آر پی ایف کے ایک سینئر افسرنے بتایا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال کی وجہ سے سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی کو دیکھتے ہوئے پیرا ملٹری فورس نے مزید زمین مانگی ہے ۔دریں اثنا بھارتی اخبار کے مطابق بھارتی فو ج نے لائن آف کنٹرول کو عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے والے آزاد کشمیر کے نوجوان کو واپس آزاد کشمیر بھیج دیا ہے ۔ اسمد علی نامی نوجوان پونچھ کے گلپور سیکٹر میں واقع بھارتی فوج کی چوکی چھبیلا پوسٹ میں لائن آف کنٹرول کے قریب سے پکڑا گیا تھابتایا گیا ہے کہ اسمد علی ولد محمد بنارس تیتر ی نوٹ ضلع راولاکوٹ کا رہنے والا تھاجمعرات کی دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب گرفتاری کے بعد اسمد علی کوپولیس سٹیشن پونچھ منتقل کیا گیا،پوچھ گچھ کے بعد اسمد علی کو گلپور سیکٹر میں پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔ مزید براں بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے مزید47 سرکاری ملازمین کی برطرفی کا عمل شروع کر دیا ہے ۔اس سے قبل دو درجن سے زیادہ کشمیری سرکاری ملازمین کو بھارتی سلامتی کے مفاد میں برطرف کیا گیا ہے ۔ بھارتی اخبار ایکسلسیر کی رپورٹ کے مطابق ان میں19 سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔ بھارتی خفیہ اداروں نے ان ملازمین کو برطرفی کے لیے شارٹ لسٹ کر دیا ہے ۔ یاد رہے اس سال جن ملازمین کو ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے انہیں اپنا دفاع کرنے یا اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا ہے ۔ملازمین کی برطرفی کے لیے بھارتی آئین کی دفعہ 311 کی ذیلی شق 2 (سی) کا سہارا لیا گیا ہے جس کے تحت بھارت کے صدر یا ریاست کے گورنر تحقیقات کے بغیر کسی بھی سرکاری ملازم کو ملک کی سلامتی کے مفاد میں ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں۔پانچ اگست 2019 کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی اس سے قبل بھارتی آئین کی دفعہ 311 کا کشمیر پر اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ 2 مئی 2021کو سرکار نے 3سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کردیا تھا جن میں کرالہ پورہ کپوارہ سے تعلق رکھنے والے استادادریس جان،پلوامہ میں تعینات نائب تحصیلدار نذیر احمد وانی اور گورنمنٹ کالج ادھمپور کے شعبہ جغرافیہ کے اسسٹنٹ پروفسر ڈاکٹر عبدالباری نائک شامل تھے ۔10جولائی کو بھی حکومت نے اسی جرم میں11ملازمین کو برطرف کیا تھا۔ان میں حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے 2بیٹے سید احمد شکیل اور شاہد یوسف کے علاوہ کانسٹیبل عبدالرشید شگن، محکمہ صحت کے ملازم ناز محمد الائی، محکمہ بجلی کے انسپکٹر شاہین احمد لون بھی شامل تھے ۔
مقبوضہ کشمیر :65ایکڑ اراضی بھارتی فوج کو منتقل،مزید 47ملازم برطرف
