Input your search keywords and press Enter.

۵ اگست منانے کی اہمیت

منظوم ولایتی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔یہ قول دراصل قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کا کشمیر کے متعلق دو ٹوک موقف ہے۔ یہ موقف اس لئے بھی ناقابلِ تردید ہے چونکہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ ایک مضبوط نظریاتی پسِ منظر ہے۔تقسیم ہند کے وقت کشمیر کی اکثریتی آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی جو پاکستان کا حصہ بن بننا چاہتی تھی۔ ان کا یہ تقاضا فطری اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ مسلمانوں کی باہمی محبت ایمان کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے۔یہ ایمان کا جوہر ہی دراصل دو قومی نظریہ بن کر مسلمانوں کیلئے ایک جداگانہ مملکت کا باعث بنا تھا۔اہل کشمیر بھی اسی نظریے کی بدولت خود کو ہندوں سے ایک الگ قوم سمجھتے ہیں اور کشمیری بھی لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر ملت واحدہ کا جزولاینفک ہیں۔چنانچہ گزشتہ چوہتر سالوں میں جب بھی مقبوضہ کشمیر میں انہتے عوام پر ظلم کی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو ہرپاکستانی تڑپ اٹھتا ہے۔ یہی وہ رشتہ اخوت ہے جس کے متعلق مولانا ظفرعلی خان نے کیا خوب کہا تھا:
اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو دلی کا ہر پیرو جواں بےتاب ہوجائے!

تاہم یہ بات ہمیں نسل در نسل آگے منتقل کرنی چاہیے کہ سرزمینی کشمیر کن اسباب و عوام کی وجہ سے ایک غلام سرزمین بن گئی؟ اس حوالے سے پاکستان کے معروف کالم نگار مصطفی کامل پاشا ، کشمیر ہمارا ہے سارا کا سارا ہے، کے عنوان سے یوں رقمطراز ہیں: تقسیم ہند کے منصوبے کے مطابق دو مملکتیں ہندوستان اور پاکستان تخلیق کی گئیں اور ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ ان دو میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر لیں جو ریاستیں جغرافیائی طور پر ہندوستان کے اندر واقع تھیں ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں تھا کہ وہ بھارت کے علاوہ کسی اور کے ساتھ الحاق کر سکتیں اور ایسی ہی کچھ ریاستیں پاکستان میں تھیں جن کے پاس پاکستان کے سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا۔ لیکن ریاست جونا گڑھ اور کشمیر کا معاملہ اس کے برعکس تھا کشمیر میں مسلم آبادی زیادہ لیکن حکمران ہندو جبکہ جونا گڑھ میں ہندو آبادی زیادہ اور حکمران مسلمان تھا۔ جونا گڑھ کے نواب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا لیکن کانگریسی حکمرانوں نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ کیونکہ یہاں ہندو اکثریت ہے اس لئے اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ نہیں ہو سکتا،ہندوستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر ولبھ بھاٹی نے بزور طاقت اس ریاست کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کر دیا پھر دسمبر کے مہینے میں ریفرنڈم کرایا تاکہ ریاستی باشندوں کی رائے لی جائے ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 99 فیصد باشندوں نے الحاق ہندوستان کے حق میں ووٹ دیا۔
دوسری طرف 19 جولائی 1947ء کو کشمیری عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے فیصلے کا اعلان کیا۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی کشمیر پاکستانی تھا اور ہے لیکن ڈوگرہ راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جسے ہندوستانی حکمرانوں نے قبول کرتے ہوئے سرینگر میں فوجیں اُتارنا شروع کر دیں۔ اس دن سے آج 73 سال گزرنے کو ہیں ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں اربوں نہیں کھربوں اور نجانے کتنے کھربوں ڈالرز کے وسائل اسلحے کی خریداری کی نذر ہو چکے ہیں دونوں ممالک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا،کشمیریوں نے 19 جولائی 1947ء کو جو فیصلہ کیا تھا وہ آج بھی اس پر قائم ہیں کشمیریوں کے دل بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان کی سوچ خالصتاً پاکستانی ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بھارت نے قیامِ پاکستان سے اب تک ہماری آزادی کو تسلیم نہیں کیا ہے۔بھارت کشمیر کی طرح پاکستان کو بھی اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے۔ بھارت کیلئے کشمیر میں انسانی حقوق کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ ۵ اگست ۲۰۱۹ تو بھارتی استعمار نے ظلم کی انتہا کر دی۔ یہ وہ دن ہے کہ جب ہندوستانی آرئینی آرٹیکل370 اور آرٹیکل A_35کو لغو کر کے ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر ڈالی۔بہر حال کشمیری مسلمان اور دنیا کے آزاد منش انسان بھارتی آئین کے پابند نہیں ہیں۔ دنیا کا ہر منصف مزاج انسان ، انسانی آزادی اور انسانی حقوق کا طرف دار ہے۔ بھارت ان حربوں سے تحریکِ آزادی کشمیر کو کوئی زِک نہیں پہنچا سکتا تاہم ہمیں ۵ اگست کو بھرپور طریقے سے یومِ سیاہ کے طور پر منانا چاہیے۔ اس روز اپنے بچوں کو مختلف انداز میں کشمیری کی تاریخ ازبر کرانی چاہیے۔ ہمارے بچے ہمارا بھی اور کشمیر کا بھی مستقبل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے