وقت گزرنے کے ساتھ ہی مقامی لوگ اور چاروں افراد کے اہل خانہ نے پولیس پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس واقعے میں چار افراد جاں بحق ہوئے تھے، جس میں دو مقامی تاجر اور ایک مزدور بھی شامل ہے۔ جس عمارت میں یہ واقعہ پیش آيا، اس کے مالک الطاف حسین کی دوکان بھی وہیں تھی جبکہ ایک ڈاکٹر مدثر گل بھی اس عمارت سے اپنا کاروبار چلا رہے تھے۔ یہ دونوں بھی اس فرضی انکاؤنٹر میں مارے گئے۔ پولیس کے مطابق اس تصادم میں ایک پاکستانی شدت پسند اپنے مقامی عسکریت پسند عامر کے ساتھ ہلاک ہوا۔ تاہم متاثرین کے اہل خانہ کے بیانات اور پولیس کے متضاد بیانات سے جہاں اس پر سوال اٹھ رہے ہیں، وہیں اس واقعے کی دیگر تفصیلات بھی سامنے آتی جا رہی ہیں۔
متاثرین کے اہل خانہ نے آج دن بھر پریس کالونی میں آکر احتجاج کیا اور پولیس کے ان تمام بیانات کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں تاجروں کو بھارتی فورسز نے بے گناہ مار ڈالا ہے۔ اہل خانہ نے پولیس سے متاثرین کی لاشیں واپس دینے کا مطالبہ کیا، تاہم بھارتی فورسز نے وہ بھی دینے سے انکار کر دیا اور شہر سے سو کلومیٹر دور ہندوارہ میں فوج نے انہیں لواحقین کو اطلاع دیئے بغیر ہی دفن کر دیا۔ الطاف بٹ کی بھتیجی صائمہ بٹ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ’’تم نے میرے بے گناہ چچا محمد الطاف بٹ کو بے رحمی سے قتل کر دیا، تم نے انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور اب کہہ رہے ہو کہ وہ شدت پسندوں کے حامی تھے، ان کا جسد خاکی تو ہمیں واپس کر دو۔‘‘
اہل خانہ کی تمام کوششوں اور احتجاج کے باوجود پولیس نے ابھی تک ان کی لاشوں کو گھر والوں کے حوالے نہیں کیا۔ ڈاکٹر مدثر کے بھی اہل خانہ نے پولیس کے اس بیان کو جھوٹ بتایا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے لئے کام کرتے تھے۔ ادھر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے حیدر پورہ انکاؤنٹر میں جاں بحق ہونے والے الطاف احمد اور مدثر گل کی لاشیں لواحقین کو واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو شمالی کشمیر میں زبردستی دفن کرنا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ درایں اثناء پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں اس لئے احتجاج کر رہی ہوں، کیونکہ یہ حکومت ملی ٹنسی کے نام پر لوگوں کو مار رہی ہے۔
رپورٹ جاوید عباس رضوی
