Input your search keywords and press Enter.

  جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات 1

نذر حافی

مسائل کسی کو پسند نہیں، اس کے باوجود انسانی زندگی اور مسائل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ انسانی زندگی کی بقا کا انحصار مسائل کی درست شناخت اور ان کے حل پر ہے۔ جسے مسائل  کی درست شناخت نہیں، وہ مسائل کے حل کیلئے کوئی ٹھوس حل بھی نہیں تجویز کر سکتا۔ یعنی بیماری کی صحیح تشخیص کے بعد ہی اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات کی یاد آوری، ان مسائل کی صحیح تشخیص اور ان کے حل کیلئے تجاویز کے حوالے سے سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کی آن لائن نشستیں میرے جیسے طالب علم کیلئے بہت مفید ہیں۔ یہ نشستیں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اس انسان کی حالت کیسے بہتر ہو سکتی ہے کہ جسے اپنی بیماری کا  کچھ پتہ ہی نہ ہو اور وہ مختلف دوائیاں استعمال کرتا چلا جائے۔

مانا کہ ساری دوائیاں مفید ہوتی ہیں لیکن ساری دوائیاں سارے مریضوں کو نہیں کھلائی جاتیں۔ اسی طرح سیاسی و اقتصادی  نیز سماجی و معاشرتی مسائل بھی جسمانی بیماریوں کی طرح مختلف اقسام کے ہوتے ہیں اور ان کے حل کیلئے بھی متخصص ماہرین اور تجربہ کار دانشمندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کوئی بھی شخص سماجی و سیاسی اور اقتصادی مسائل کا متخصص اور ماہر اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ کسی مسئلے کے تمام پہلوؤں سے آگاہ نہیں ہوتا۔ آگاہی کا یہ سفر اشتراکِ فکر، مکالمے اور مباحثے سے انجام پاتا ہے۔  ہمارے ہاں اشتراکِ فکر اور مکالمے  و مباحثے کیلئے جس وسعتِ قلبی کی اشد ضرورت ہے وہ خال خال ہی نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں مسائل کے حل کیلئے مشترکہ راہوں کی تلاش، مل کر سوچنے کی ریت، اجتماعی فعالیت، تنقید سے مثبت پہلو نکالنا، خامیوں کو اصلاح کے ساتھ دور کرنا اور فراخدلی کے ساتھ دوسرے کو اپنے پہلو میں جگہ دینا یہ سب کچھ نہ ہونے کے برابر ہے۔

اجتماعی سوچ اور آفاقی شعور کی کمی اور فقدان کے باعث ہمارے ہاں انانیت اور انفرادیت کا دور دورہ ہے۔ ظاہر ہے ایسے میں اجتماعی مفادات کو انفرادی فیصلوں پر قربان کر دینے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ جہاں پر اجتماعی مفادات کو انفرادی تجزیات اور شخصی آرا کی بھینٹ چڑھا دینا معمول ہو وہاں نئے افکار کی تولید اور نئے زاویوں کی تلاش نہیں کی جا سکتی۔ ہم وہ لوگ ہیں جو نوآوری اور اختلاف رائے کا دروازہ بند کر کے اندھی تقلید کے اندھے کنویں میں چھلانگ لگا چکے ہیں۔ ہمیں نہ ہی تو مخالفت کرنے کے آداب آتے ہیں اور نہ ہی مخالفت کو برداشت کرنے کا ہنر ہمارے پاس  ہے۔ پس ہمارا معاشرہ خصوصاً مشرقی معاشرہ ان دو بنیادی خوبیوں سے یکسر طور پر عاری ہے۔ یہ انٹرنیشنل فورم ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ہم ہر صبح کو ٹرک کی ایک نئی بتی کے پیچھے  کیوں دوڑنے لگتے ہیں۔ اس دوڑ میں بھی ہمیں اپنی انفرادیت اور انا کا خاص طور پر خیال رہتا ہے۔

چنانچہ اس بھیڑ چال میں بھی ہم دوسروں کو پیچھے چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اب اس بھاگم بھاگ میں ہم یہ بھی بھول چکے ہیں کہ ہم اصل میں کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں ؟ کہاں کو دوڑ رہے ہیں؟ ہمارے پاؤں کیوں زخمی ہیں؟ ہمارے گریبان کیوں پھٹے ہوئے ہیں؟

ہم نے آستینیں کیوں چڑھا رکھی ہیں؟ ہماری بھنویں کیوں تنی ہوئی ہیں؟ ہماری ہر صبح و شام کا آغاز ایک نئی دوڑ اور ایک نئی لڑائی سے کیوں ہوتا ہے؟

ہم آخر کس قبیلے کے لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے ہی دین کو بدنام کر دیا ہے؟ ہم آخر کس قماش کے انسان ہیں کہ جنہوں نے اپنے ہی بچوں کا حال اور مستقبل تاریک کر دیا ہے؟ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے دنیا بھر میں اتنے مسلمانوں کو قتل کیا ہے کہ جہانِ اسلام میں  بیواؤں اور یتیموں کی  گنتی کسی کے بس میں نہیں۔ کہنے کو تو ہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں لیکن ہمارے وسائل ہمارے کسی کام کے نہیں، ہمارے ہاں کپڑے سینے والی ایک سوئی کے اوپر بھی میڈ اِن جاپان لکھا ہوتا ہے۔

ہم آج بھی غیروں کیلئے بیساکھی کا کام دیتے ہیں اور ہم دل و جان راضی ہیں کہ کل کو ہماری نسلیں بھی اغیار کے شکم کا ایندھن بنیں۔ اب مسلمانوں کے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو اسی بھیڑچال میں دوڑتے چلے جائیں، اپنے سوا باقی سب کو غلط، باقی سب کا منہ بند، باقی سب کی تکفیر، باقی سب باطل، باقی سب واجب القتل، باقی سب گمراہ  اور یا پھر اختلافِ رائے کا دروازہ کھولیں، سطحی اور عامیانہ باتوں کی بجائے تعلیم، تحقیقات اور مطالعات کی طرف آئیں، میں، انا اور انفرادیت کے بجائے، مکالمے، اصلاح، مدد اور تکمیل کا آغاز کریں اور  سب سے بڑھ کر  اپنے اندر دوسروں کو سننے اور سمجھنے  کا حوصلہ پیدا کریں۔ 

مسئلہ کشمیر پر دوسروں  کو  سننے اور سمجھنے کے حوالے سے تین پروگرام  ہو چکے ہیں۔سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم کے  پہلے   آنلائن سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلیمن کے سیکرٹری برائے امورِ خارجہ  ڈاکٹر شفقت حسین  شیرازی﴿ایران﴾ نے کہا کہ  ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہم اس مسئلے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے ساتھ دینی تعلق کے علاوہ  ہمارا جغرافیائی، علاقائی اور آئندہ نسلوں کی سلامتی اور ترقی کا تعلق بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں جو مرضی ہے کرتی رہیں ہمیں انسانی، اسلامی اور عوامی سطح پر اس مسئلے کے حل کیلئے آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔  یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ ہم ساری ذمہ داری حکمرانوں پر ڈال کر اپنی جان نہیں چھڑوا سکتے۔
اس سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے  پاکستان جمہوری اتحاد پارٹی کے چئیرمین ڈاکٹر حفیظ الرحمان ﴿پاکستان﴾نے اس مسئلے پر اپنی پارٹی کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ  ہٹ دھرمی اور ضد کا جواب بھی اگر ہٹ دھرمی اور ضد سے دیا جائے گا تو اس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔ انہوں مسئلہ کشمیرکے سارے فریقوں کو لچک دکھانے کا احساس دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی، کشمیری اور ہندوستانی مساوی طور پر اس مسئلے کو اپنا ایک اہم مسئلہ تسلیم کریں اور اس کوحل کرنے کیلئے ہر طرف سے ممکنہ نرمی دکھائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بچپن سے اب تک عالمِ اسلام اور خصوصا اس منطقے کی جو حالت دیکھی ہے اگر ہم وہی اپنی آئندہ نسلوں کو منقتل کرنا چاہتے ہیں تو یہ انتہائی کم فہمی اور زیادتی ہے۔
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم کا دوسرا آنلائن سیشن ۱۲ نومبر۲۰۲۰ کو ہوا۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے  معروف محقق اور کالم نگار محترم طاہر یسین طاہر ﴿پاکستان﴾نے کہا کہ مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں اپنے حقیقی مسائل کی خبر ہی نہیں۔اس موقع پر انہوں نے مسلمانوں میں پائی جانے والی نرگسیت خود پسندی اور پدرم سلطان بود جیسی کیفیت کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تو ہمیں خواہ مخواہ کی خود پسندی اور انانیت  سے پیچھا چھڑانا چاہیے۔ اب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں کہ مسلمانوں کا ماضی بہت شاندار تھا بلکہ اب یہ  دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اپنے ماضی اور اسلاف سے علم و فن میں کتنی میراث پائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام کی قدرومنزلت ان کے علم و فن کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اغیار کی اندھی تقلید سے مسلمانوں کے سیاسی و اقتصادی مسائل حل ہونے والے نہیں۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی مظلومیت کی انتہا یہ ہے کہ آج کے جدید عہد میں وہاں میڈیا پر پابندیاں لگا کر انسانوں پر بدترین ظلم کیا جا رہا ہے۔ اور اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ مظلومین کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مظلومیت اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے کہ جب جہانِ اسلام کے قدآور ممالک بھی کشمیریوں کے بجائے ہندوستان کے ساتھ کندھا ملاکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سے بھی بڑا مسئلہ اقتصادی لالچ اور انسانی بے حسی کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ہمیں مادی و اقتصادی لالچ کے بجائے انسانی اقدار کو اجاگر کرنا چاہیے اور عالمی برادری میں موجود بے حسی کے خاتمے کے حوالے سے سوچ بچار کرنی چاہیے۔اس موقع پر انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج چین میں بھی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ہمیں اس سے بھی آگاہ رہنا چاہیے۔
دوسرے سیشن کے دوسرے مقرر جناب عبدالمناف غِلزئی ﴿جرمنی﴾مدیر مجلہ  پیغامِ نجات  نے کہا کہ دینِ اسلام کو قبول کرنے کے بعد ہر مسلمان کو اپنے مسائل حل کرنے کیلئے قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی پیچیدگی کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے باوجود اس مسئلے کو  غیرمسلموں کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں اور اسی طرح اس کا حل بھی چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی معنوں سے دینی اسلام کی بالادستی کی قبولیت اور نفاذ میں ہی ہمارے سارے مسائل کا حل ہے۔ اگر ہم  اپنے اوپر اور اپنی سوچ کے اوپر دینِ اسلام کے نفاذ  کی بات نہیں کرتے تو یہ مسائل حل ہونے والے نہیں۔ان کی گفتگو کا خلاصہ یہی ہے کہ دینِ اسلام سے بڑھ کر ہمارے دکھوں کی دوا کسی اور کے پاس نہیں لہذا ہم جتنے اسلامی تر ہوتے جائیں گے اتنے ہی ہمارے مسائل حل ہوتے جائیں گے۔  اس سلسلے کا تیسرا سیشن ۱۹ نومبر ۲۰۲۰ کو ہوا جس کی روداد عنقریب  اگلی قسط میں بیان کی جائے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے