فاطمہ اسماعیل بلوچ
جموں و کشمیر پر 1586 ء سے 1751 ء تک مغلوں کا راج رہا اور پھر افغان درانیوں نے 1747 ء میں اپنی حکومت قائم کر لی جو 1819 ء تک قائم رہی۔ 1819 ء سے 1846 ء تک یہ راجہ رنجیت سنگھ کی سکھ سلطنت کے زیر تسلط رہا، تقریباً پانچ سو سال بعد کشمیر پہلی بار غیر مسلم سلطنت کا حصہ بنا تھا۔ راجہ رنجیت سنگھ نے ہی جموں کے ڈوگرہ گلاب سنگھ کو کشمیر کا خودمختار حاکم مقرر کیا تھا۔
آزادی کی تحریک کا آغاز 1925 ء میں اس وقت ہوا تھا جب ہندو راجہ ہری سنگھ 77 فیصد مسلم آبادی کا راجہ بنا تھا۔ 1932 ء میں نوجوان رہنما شیخ محمد عبد اللہ کشمیر کے سیاسی افق پر ابھرے۔ 1931 ء سے لے کر آج تک کشمیری مسلمان ہر طرح ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ان کی تحریک آزادی ابھی تک جاری ہے۔
جموں میں مسلم آبادی کا تناسب کم ہو چکا ہے لیکن مقبوضہ وادی میں تحریک آزادی کو کچلا نہیں جا سکا ہے۔ شاید کشمیری یہ لڑائی جمہوری اور قانونی طریقے سے لڑنا چاہتے ہیں لیکن بھارت ہر طرح سے ان کی آواز دبانا چاہتا ہے۔
مودی سرکار نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 A یک طرفہ طور پر منسوخ کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم تو کر دی ہے لیکن کشمیری مسلمانوں کی طویل تحریک آزادی ایسے اقدامات کرنے اور اسرائیلیوں کی مدد لینے سے ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ کشمیر ہمیشہ ہندوستان سے علیحدہ آزاد اور خودمختار ریاست رہا ہے۔ آج وہاں جو حالات ہیں وہ وہاں رونما ہونے والے تاریخی واقعات کے تسلسل کا نتیجہ ہیں۔ شمس الدین شاہ میر نے پہلی مسلم سلطنت 1339 ء میں سلطان شاہ میر نے قائم کی تھی،
کشمیر کا اسلامی تمدن
صوفیائی کے روشن کردہ اسلام کے چراغ کشمیر میں آج بھی زندہ ہیں اور وہاں کا تہذیب و تمدن ان کی تعلیمات اور فلسفہ کی عکاسی کرتا ہے۔ صوفیائی کی تعلیمات، روایات، عادات، محبت، پیار، رہن سہن کا طریقے سے لوگ بہت متاثر ہوئے اور آج بھی چھ صدیوں کے بعد بھی کشمیریوں کے دلوں میں زندہ ہے کیونکہ کشمیری آج بھی امن اور مساوات کے خواہاں ہیں۔
کشمیریوں کی سامراجی غاصب قوتوں کے خلاف صدیوں پہ مشتمل جد و جہد اور اسلام، قرآن، حضور تاجدار کائنات ﷺ کے پیغام کی سر بلندی کے لیے جدوجہد بھی اس اسلامی تمدن کی عکاس ہے جس طرح صحابہ کرام نے اسلام قبول کرنے کے بعد صعوبتیں برداشت کیں اسی طرح کشمیری بھی اسلام سے محبت اور بلندی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ جس کی مثال ہمیں ایک بہت ہی اہم واقعہ سے ملتی ہے کہ جب مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں کشمیر میں حضور اکرم ﷺ کا ایک بال مبارک لایا گیا وہ جس جگہ رکھا گیا وہ جگہ ”درگاہ حضرت بل“ کے نام سے مشہور ہوئی
مغلیہ دور کے بادشاہ پورے برصغیر میں کشمیر کو سب سے زیادہ پسند کرتے تھے۔ اورنگزیب عالمگیر نے اس کی خوبصورتی سے متاثر ہو کرا سے زمین پر جنت قرار دیا اور بعد میں آنے والے لوگوں نے بادشاہ کے اس فرمان کی تصدیق کرتے ہوئے کشمیر کو زمین پر جنت قرار دیا۔ بادشاہ جہانگیر نے کشمیر میں شالیمار اور نشاط باغ تعمیر کروائے جنہوں نے کشمیر کی خوبصورتی میں خاطر خواہ اضافہ کیا اور یہ مغل بادشاہوں کی کشمیر سے محبت کی زندہ مثال ہے۔
رنجیت سنگھ اور شیر سنگھ کے بعد سکھ اقتدار زوال پذیر ہوا تو فرنگی نے پنجاب پر براہ راست تسلط قائم کرنے کی خاطر سکھوں کو درمیان سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ سکھوں نے مزاحمت کی لیکن بالآخر 1846ء میں پنجاب فرنگی حکومت کے زیر نگین آ گیا۔ سکھوں اور انگریزوں کی اس جنگ میں کشمیر کے گلاب سنگھ نے فرنگی کے ساتھ تعاون کیا جس کے نتیجہ میں فرنگی نے 16 مارچ 1846ء کو ”معاہدۂ امرتسر“ کے ذریعہ 75 لاکھ روپے نقد کے علاوہ ایک گھوڑے، 12 بکریوں اور چھ جوڑے شال پر مشتمل سالانہ خراج کے عوض ریاست جموں و کشمیر مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ بیچ دیا۔ اس طرح کشمیر ڈوگرہ شاہی کے خونیں پنجوں میں جکڑ لیا گیا۔
ڈوگروں نے مسلمانوں کو ستانے اور ان پر ظلم ڈھانے میں پہلے ریکارڈ بھی توڑ دیے۔ شال بافی پر 26 فیصد ٹیکس کو دوگنا کر کے 52 فیصد کر دیا، مساجد مسمار ہونے لگیں، سکھا شاہی میں گاؤ کشی پر پابندی عائد تھی، حتیٰ کہ ایک گائے کے ذبیحہ پر پورے کا پورا خاندان شہید کر دیا جاتا تھا
بیشتر مسلمان ان مظالم کی تاب نہ لاتے ہوئے ہجرت کرتے رہے، وقتاً فوقتاً مزاحمت کی تحریکیں اٹھتی رہیں، لیکن ڈوگرہ شاہی کو چونکہ دولت برطانیہ کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اس لیے ڈوگرہ مظالم میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا چلا گیا
1947ء میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو ریاستوں کو اس بات کی آزادی تھی کہ وہ انڈیا یا پاکستان میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر لیں۔ کشمیر کو مسلم اکثریت کی بنا پر پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا لیکن فرنگی اور اس کے خود کاشتہ پودے قادیانی گروہ نے ایک بار پھر سازش کی، پنجاب کی سرحدات کے تعین کے لیے ریڈ کلف ایوارڈ کے سامنے مسلم لیگ کے قادیانی نمائندے ظفر اللہ خان نے ضلع گورداسپور کے بارے میں مسلمانوں کے موقف کو نقصان پہنچایا۔
ضلع گورداسپور میں قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہوئے اپنا موقف جداگانہ پیش کیا اور قادیان کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ قادیان تو کھلا شہر نہ بن سکا البتہ قادیانیوں کی اس حرکت کے باعث ضلع گورداسپور کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دے کر انڈیا کے حوالے کر دیا گیا جس کی وجہ سے انڈیا کو کشمیر کے لیے راستہ مل گیا۔ یہیں سے کشمیر کو بھارت کے تسلط میں دینے کی سازش کی ابتدائی ہوئی کیونکہ اگر گورداسپور انڈیا کے پاس نہ جاتا تو کشمیر پر انڈیا کے تسلط کی کوئی راہ نہ تھی۔
کشمیر پر قابض لوگوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ جو قوم اپنے نبی کریم کے بال کی خاطر اپنی جان دے سکتی ہے وہ قوم اسلام کی بنیاد پر بننے والی ریاست ﴿پاکستان﴾ اور دو قومی نظریہ ﴿مسلم و ہندو دو الگ قومیں ہیں ﴾کی خاطر اپنی ہزاروں نسلیں قربان کر سکتے ہیں مگر اپنی بنیاد کو نہیں چھوڑ سکتے
