محمد فیصل
بالکل ٹھیک، مگر جب ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں تو ہمیں یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ سارا کشمیر کتنا ہے، اس میں کون کون سے علاقے ہیں اور یہ علاقے کون کونسے ملکوں کے پاس ہیں؟اسی طرح یہ جاننا بھی اہم ہے کہ سارے کشمیر کی آبادی کتنی ہے، اس میں کتنے مسلمان ہیں اور کتنے لوگوں کا تعلق دوسرے مذاہب سے ہے۔
تو آئیے کشمیر کے بارے میں چند بنیادی نوعیت کی ایسی معلومات جانتے ہیں جو اس خطے کے حالات پر کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے جاننا ضروری ہیں۔
کشمیر کتنا بڑا ہے؟
کشمیر کا مجموعی رقبہ قریباً دو لاکھ 22 ہزار 236 مربع کلومیٹر ہے۔اس طرح سائز میں یہ ہمارے پنجاب سے کچھ زیادہ اور دنیا کے 113 ممالک سے بڑا ہے۔
کشمیر صرف جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کا نام نہیں بلکہ گلگت بلتستان، لداخ، اکسائی چن، وادی شاکسگم اور سیاچن گلیشیئر بھی کشمیر کا حصہ ہیں۔ اس طرح کشمیر دراصل تین ممالک یعنی انڈیا، پاکستان اور چین میں منقسم ہے۔
کس ملک کے پاس کتنا کشمیر ہے؟
انڈیا: کشمیر کا سب سے بڑا حصہ انڈیا کے پاس ہے جو مجموعی رقبے کا قریباً 46 فیصد بنتا ہے۔ اس میں وادی کشمیر، جموں اور لداخ شامل ہیں۔ انڈیا کے زیرانتظام اس کشمیر کا رقبہ ایک لاکھ ایک ہزار 1387 مربع کلومیٹر ہے۔
1962ء میں چین کے ساتھ جنگ سے پہلے انڈیا کا کشمیر کے ایک لاکھ 38 ہزار 200 مربع کلومیٹر حصے پر دعویٰ تھا۔تاہم اس جنگ میں انڈیا نے قریباً 36 ہزار 813 مربع کلومیٹر علاقہ کھویا۔
انڈیا کے سرکاری نقشوں اور ریاست جموں و کشمیر کی ویب سائٹ پر اس کا رقبہ دو لاکھ 22 ہزار 236 مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہے جو درست نہیں ہے۔
اس وقت انڈیا کے زیراہتمام وادی کشمیر کا رقبہ قریباً 15 ہزار 948 مربع کلومیٹر، جموں کا رقبہ قریباً 26 ہزار 293 مربع کلومیٹر اور لداخ کا رقبہ قریباً 59 ہزار 146مربع کلومیٹر ہے۔
تقسیم برصغیر کے موقع پر ماؤنٹ بیٹن اور نہرو نے کشمیری مہاراجہ کے ریاستی اقتدار کو تحفظ دینے کے بدلے اس سے انڈیا کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کرا لیے تھے۔اس طرح وادی کشمیر، جموں اور لداخ پر انڈیا کا اقتدار قائم ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: مسئلہ کشمیر کیسے حل ہو سکتا ہے؟
پاکستان: کشمیر کا قریباً 38 فیصد علاقہ پاکستان کے پاس ہے جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔یوں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا مجموعی رقبہ قریباً 84 ہزار 100 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔اس میں گلگت بلتستان کا رقبہ قریباً 82 ہزار 420 جبکہ آزاد کشمیر کا رقبہ ایک ہزار 680 مربع کلومیٹر ہے۔
تقسیم برصغیر کے موقع پر جب کشمیر کا انڈیا سے الحاق کرایا جانے لگا تو چند کشمیری گروہوں نے پاکستانی رضاکاروں، صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کے قبائلیوں اور فوج کی مدد سے کشمیر کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا جو اب آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔
گلگت بلتستان تاریخی طور پر تین ریاستوں یعنی ہنزہ، نگر اور گلگلت پر مشتمل رہا ہے۔ 1848ء میں کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے ان علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں اپنی ریاست میں شامل کر لیا تھا۔ 1947ء اور 1948ء میں ان علاقوں کے مقامی لوگوں نے گلگت سکاؤٹس کے تعاون سے آزادی کی جنگ لڑی اور یہ علاقے ریاست کشمیر سے آزاد کرا لیے۔گلگت بلتستان 17 روز تک ’آزاد‘ رہا جس کے بعد اس کا انتظام پاکستان نے سنبھال لیا۔
چین: قریباً 16 فیصد کشمیر چین کے پاس ہے جس میں اکسائی چن اور وادی شاکسگم شامل ہیں۔اکسائی چن وہ علاقہ ہے جو چین نے 1962ء کی جنگ میں انڈیا سے لیا تھا۔ یہ علاقہ چین اور انڈیا میں اسی طرح متنازع ہے جس طرح جموں و کشمیر کا علاقہ پاکستان اور انڈیا کے مابین متنازع ہے۔اکسائی چن کا رقبہ قریباً 36 ہزار 813 مربع کلومیٹر ہے۔
اکسائی چن انڈیا کے ساتھ متصل ہے جبکہ اس کا ایک کونا پاکستان کے زیرانتظام گلگت بلتستان کو بھی چھوتا ہے۔تاریخی طور پر یہ علاقہ لداخ کا حصہ تھا۔لداخ 19ویں صدی میں ریاست کشمیر کا حصہ بنا تھا۔ الگ تھلگ اور ویران علاقہ ہونے کی بنا پر 1950ء کی دہائی تک یہ علاقہ عملی طور پر کسی ملک کے زیرانتظام نہیں تھا البتہ چین اور انڈیا دونوں اس پر اپنا دعویٰ کرتے تھے۔
چین نے اس علاقے میں سڑک بنا کر اپنی فوج بھیجی تو انڈیا نے اس پر اعتراض کیا۔ نتیجتاً 1962ء میں دونوں ملکوں میں اس مسئلے پر جنگ ہوئی جس میں چین نے پورے اکسائی چن پر قبضہ کر لیا۔اب یہ علاقہ چین کے صوبے سنکیانگ کا حصہ ہے۔
چین کے زیرانتظام وادی شاکسگم یا ماورائے قراقرم علاقہ علاقہ پاکستان کی سرحد سے متصل ہے۔ اس علاقے کا مجموعی رقبہ قریباً 2700 مربع کلومیٹر ہے۔ پاکستان نے 1963 میں ایک معاہدے کے تحت یہ علاقہ چین کو دے دیا تھا۔ اس کے بدلے میں چین نے بھی اپنا کچھ علاقہ پاکستان کو دیا جس کا رقبہ ایک ہزار 942 سے پانچ ہزار 180 مربع کلومیٹر کے درمیان ہے۔
انڈیا اس معاہدے اور اس کے نتیجے میں علاقوں کے تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔
سیاچن گلیشیئر: سیاچن گلیشیئر کوہ ہمالیہ میں مشرقی سلسلہ قراقرم میں اس جگہ واقع ہے جہاں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کی کنٹرول لائن کا اختتام ہوتا ہے۔ سیاچن گلیشیئر کی لمبائی 76 کلومیٹر ہے اور قطبی علاقوں سے ہٹ کر یہ دنیا میں دوسرا سب سے بڑا گلیشیئر ہے۔
1984ء میں انڈیا نے سیاچن پر فوجی کارروائی کے ذریعے قریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر پر تسلط جما لیا تھا۔اس کے بعد سے پورے سیاچن گلیشیئر اور اس کے تمام بڑے دروں پر انڈیا کا قبضہ ہے۔سیاچن میں سالتورو نامی پہاڑی ڈھلانوں سے مغرب کی جانب برفانی وادیاں پاکستان کے پاس ہیں۔
سیاچن میں دونوں ممالک کے مابین حدود کا تعین نہیں ہو پایا اور طرفین کی فوجیں سالہا سال سے آمنے سامنے کھڑی ہیں۔
کشمیر کی آبادی کتنی ہے؟
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پورے کشمیر کی مجموعی آبادی قریباً ایک کروڑ 85 لاکھ ہے۔اس میں انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ جبکہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی شامل ہے۔اس طرح دیکھا جائے تو کشمیر آبادی کے اعتبار سے دنیا کے 133 ممالک سے بڑا ہے۔
پاکستان میں آزاد کشمیر کے مردم شماری کمشنر کے مطابق 2017ء میں اس علاقے کی آبادی قریباً 40 لاکھ 45 ہزار 366 تھی۔1998ء کی مردم شماری میں گلگلت بلتستان کی آبادی87 ہزار 347 ریکارڈ کی گئی جو اب قریباً 20 لاکھ ہے۔
انڈیا میں 2011ء کی مردم شماری کے مطابق وادی کشمیر کی آبادی 68 لاکھ 88 ہزار 8475، جموں کی آبادی 53 لاکھ 78 ہزار 538 اور لداخ کی آبادی دو لاکھ 74 ہزار 289 نفوس پر مشتمل ہے۔
چین کے زیرانتظام اکسائی چن اور شاکسگام کا شمار غیر آباد علاقوں میں ہوتا ہے۔یہاں عموماً خانہ بدوش پائے جاتے ہیں جو ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کی تعداد کے حوالے سے معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
یوں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی مجموعی آبادی 60 لاکھ 45 ہزار 366 جبکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آبادی ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار 302 ہے۔
کشمیر میں کتنے مسلمان رہتے ہیں؟
پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی 99 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے تین حصوں یعنی جموں، وادی کشمیر اور لداخ کو دیکھا جائے تو وادی کشمیر میں 95 فیصد آبادی مسلمان اور 4 فیصد ہندو ہے۔
جموں میں مسلمانوں کی تعداد 30 فیصد ہے جبکہ 66 فیصد آبادی کا تعلق ہندو اور 4 فیصد کا دیگر مذاہب سے ہے۔
لداخ میں 46 فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ 50 فیصد بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔بقیہ 3 فیصد کا تعلق دیگر مذاہب اور عقائد سے ہے۔
انڈیا میں 2011ء میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج کی رو سے جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی موجودہ تعداد 68 فیصد کے لگ بھگ ہے۔
جس طرح پاکستان جموں و کشمیر پر اپنا دعویٰ کرتا ہے اسی طرح انڈیا بھی آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور چین کے زیرانتظام علاقوں سمیت پورے کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ تاہم مسئلہ کشمیر کا اہم ترین فریق کشمیری عوام ہیں جن سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ اپنے خطے کو کس شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
