Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی بربریت سے 14 کشمیری شہید ہو گئے

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی بربریت سے 14 کشمیری شہید ہو گئے۔ زخمی ہونیوالوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ایک ماہ میں 211 کارروائیوں کے دوران 125 کشمیریوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ 5 اگست 2019 ء کو بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے کشمیری شدید غم و غصے اور اشتعال کی حالت میں ہیں۔ وہ کسی بھی طور پر بھارتی جارحانہ ، متعصبانہ اور ظالمانہ فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔ ان کی طرف سے شدید احتجاج کو بھارتی فورسز سفاکیت سے کچلنے کی کوشش کررہی ہیں مگر کشمیریوں کے جذبے ماند نہیں پڑ رہے۔ بھارت نے مزید دو لاکھ سفاک سپاہ وادی میں تعینات کر دی جہاں پہلے سے ہی ہر طرح کی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ کشمیریوں کو انسانی تاریخ کے طویل ترین کرفیو کا سامنا ہے جس سے انسانی بحران بدترین صورت اختیار کر چکا ہے۔ کورونا کے دوران بھی بھارت نے کشمیریوں سے کوئی رعایت نہیں کی۔ کئی رہنما جیلوں میں کورونا میں مبتلا ہوئے۔ جیلوں میں تشدد بھی بدستور جاری ہے۔ گزشتہ ماہ حریت لیڈر اشرف صحرائی جیل میں بہیمانہ تشدد سے شہید ہوئے۔ کشمیری کسی بھی صورت کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستان ، ایران ، چین ، ترکی اور ملائیشیا کی طرف سے بار بار بھارت سے کشمیر کا سپیشل سٹیٹس بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ باقی دنیا بھی کشمیر میں بدترین شکل اختیار کرتے ہوے ا نسانی المیہ پر تشویش کا اظہار اور مذمت کر رہی ہے۔ یہ مسئلہ تشویش اور مذمت سے حل نہیں ہو گا اب عالمی برادری کی طرف سے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسے آخری کشمیری کے خاتمے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت کو نہ چاہتے ہوئے بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنا ہو گی۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے تک برصغیر میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے کی ہرممکن کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان آج بھی مسئلہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کے لیے سرگرم ہے۔ 5 اگست کے بعد سے سفارتکاری فعال اور متحرک کی گئی ہے۔ ایسی کوششوں میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ آج فلسطین ایشو پر او آئی سی متحد اور متحرک ہوئی ہے۔ مسلم ممالک کے مابین انتشار سمٹ رہا اور اتحاد و یگانگت کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ اسے فلسطین کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے