Input your search keywords and press Enter.

’کشمیر میرا ہے‘ کے نام سے ورچوئیل سیمینار کا انعقاد

حافظ انیب راشد
یورپ میں قائم ’دا نیم ٹری‘ (The Neem Tree) نامی تنظیم کے زیر اہتمام، معروف ترقی پسند رہنما ڈاکٹر رشید حسن خان کی یاد میں ایک ورچوئیل سیمینار منعقد کیا گیا، سیمینار کا عنوان تھا ’کشمیر میرا ہےاس سیمینار میں شریک ممتاز دانش ور شخصیات نےمسئلہ کشمیر پر پاکستان بھارت اور کشمیریوں کے مؤقف کا کھل کر اظہار کیا۔

حسین عبد اللّٰہ ہارون کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے انڈس ویلی ٹریٹی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

او پی شاہ نے کہا کہ پاک، بھارت،جموں و کشمیر کے عوام اور دونوں اطراف کی حکومتوں کے مابین بات چیت بہت ضروری ہے جبکہ جسٹس ریٹائرڈ عبد المجید ملک نے تقریب کے دوران کا کہ جموں و کشمیر کے عوام مسئلہ کشمیر کے مرکزی فریق ہیں۔

تقریب کی میزبانی کے فرائض ممتاز صحافی، مصنف اورتجزیہ نگار زاہد حسین نے انجام دیئے، سمینار کے آغاز میں سابق طالبِ علم رہنما اور انسانی حقوق کے علم دار وقاص بٹ نے ڈاکٹر رشید حسن خان کی زندگی ان کے علمی سیاسی کام اور حقوق انسانی کے لیے جدوجہد پر روشنی ڈالی۔

سیمینارمیں سابق سینیٹر، وفاقی وزیر، فلم ساز، مصنف اور معروف سماجی شخصیت جاوید جبار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جموں و کشمیر میں پختون قبائل کے مسلح حملے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ کسی باقاعدہ منصوبے کے نتیجے میں رونما ہوا تھا درست نہیں ہے۔

انہوں نے بھارت کے اس وقت کے مقبول اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اخبار نے خود یہ خبر شائع کی کہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام کے رد عمل میں پختون قبائل نے ان بے گناہوں کی مدد کی خاطر وہ قدم اٹھایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1989ء میں اٹھنے والی تحریک نے پاکستان سمیت دنیا بھر کو حیرت میں مبتلا کردیا تھا جہاں تک جہادی عنصر کا تعلق ہے تو وہ دوسال بعد اس تحریک میں شامل ہوا۔

انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ جنر ل پرویز مشرف اور جناب واجپائی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں کہیں یہ بات شامل نہیں تھی کہ بھارت اور پاکستان کشمیر کو آپس میں بانٹ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس بات کی اس لیے تصدیق کرتا ہوں کہ میں ان تمام مراحل اور مذاکرات کے عمل کا حصہ رہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک عالمی انسانی المیہ ہے، جموں وکشمیر کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ یہ علاقہ صرف اورصرف جموں و کشمیر کے عوام کا ہے، شملہ معاہدے کے حوالے سے اس بات کو واضح کیا کہ اس معاہدے میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ مسئلہ کشمیر کوفریقین آپس میں حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں کہا کہ اس معاہدے کے وجود میں آنے سے لے کر آج تک یہ غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ کوئی دو طرفہ مسئلہ ہے جسے فریقین خود ہی حل کرلیں گے۔

انہوں نے آرٹیکل ون کی شق 2 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں واضح طور پر درج ہے کہ دونوں ممالک باہمی یا کسی بھی ایسے دوسرے ذرائع سے مسئلے کے حل کے لیے کوشش کریں گے کہ جس پر دونوں متفق ہوں۔

لہٰذا شملہ معاہدہ کہیں بھی کثیر الجہتی مکالمے کو خارج از امکان قرار نہیں دیتا، شملہ معاہدے کے آغاز ہی میں یہ طے کردیا گیا ہے کہ شملہ معاہدہ اقوامِ متحدہ کے اصولوں اور چارٹر کے مطابق ہی عمل پیرا ہوگا، بدقسمتی سے پاکستان دنیا کو یہ بات باور نہ کرا سکا کہ یہ بھارت تھا جس نے شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی، نہ کہ پاکستان نے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب جناب حسین عبد اللّٰہ ہارون نے کہا کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تقسیم کے وقت ہندوستانی فوج نے دو آزاد ریاستوں جونا گڑھ اور حیدر آباد پرفوج کے ذریعے قبضہ کیا یہ قبضہ کسی قبائل نے نہیں کیا۔

اس کے برعکس لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے حکم پر جنرل گریسی کو پاکستانی فوج کو جموں و کشمیر کے عوام کی مدد کرنے والے قبائل کو تعاون سے روکا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے زمانے میں جب کشمیر سلسلے میں پیش رفت ہو رہی تھی تو اس میں کہیں بھی کشمیریوں کو دور نہیں رکھا گیا بلکہ اس میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کشمیری رہنما پیش پیش تھے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے بارے میں دیگر مقررین کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے کشمیر کا حصہ نہیں تھے بلکہ ان کا ایک خود مختار معاہدے کے تحت ڈوگرہ حکومت کے ساتھ برطانیہ کے کہنے پر الحاق کیا گیاتھا تاکہ بیرونی طاقتوں بالخصوس روس اور چائنا کے حملوں سے محفوظ رہا جاسکے۔

انہوں نے بھارتی فوج اور پولیس کے ہاتھوں جموں و کشمیر کے عوام پر تشدد اور قتل‌عام پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور پانی کے حوالے سے بھارتی حکومت کی جانب سے انڈس ویلی ٹریٹی کی خلاف ورزی کی بھی نشان دہی کی۔

انہوں نے کہا کہ2010 ء میں اقوامِ متحد ہ نے ثالثی کمیٹی تشکیل دی لیکن بھارت ہمیشہ اس طرف جانے سے کتراتا رہا ہے، کشمیر کے سلسلے میں اس وقت کی برطانوی حکومت، اس کے وائسرائے اور دیگر نمائندوں کے مشکوک کردار کی بھی نشاندہی کی۔

انہوں نے دیگر مقررین کی اس بات سے اتفاق کیا کہ ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور نفرتوں کے بجائے محبتوں کے سلسلے کو بڑھانا ہوگا۔

چئیرمین آف دا سینٹرفارپیس اینڈپروگریس جناب او پی شا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان، پاکستان، جموں و کشمیر کے عوام اور دونوں اطراف کی حکومتوں کے مابین بامقصد بات چیت بہت ضروری ہے اور یہ بات چیت کا سلسلہ بغیر کسی شرائط کے جاری رکھنا ہوگا۔

ہم نے جنگیں تو لڑیں لیکن حاصل کچھ بھی نہ ہوا لہٰذا اب امن کو موقع ملنا چاہیے، اس کے لیے ہمیں اعتماد اور بھروسے کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔

معروف تاریخ داں، بی بی سی کے سابق نمائندے اور ایڈیٹر ورلڈ سروس، مصنف، اینڈریو وائٹ ہیڈ نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں 1947ء سے قبل اور اس کے بعد سے لے کر آج تک کی صورتِ حال پر تاریخی حوالوں کے ذریعے مختصر لیکن معلومات سے بھرپور خیالات کا اظہار کیا۔

سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ، جسٹس ریٹائرڈ عبد المجید ملک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا علاقہ بنیادی طور پروہاں کے باشندوں کا ہے اور وہاں کے عوام اس مسئلے کے مرکزی فریق ہیں، بدقسمتی سے جموں و کشمیر کے عوام قومی اور بین الاقوامی فورم پر آج تک اپنے اس مرکزی کردار کو ادا کرنے سے محروم ہی رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام معاہدوں، مذاکرات اور مشوروں میں جموں و کشمیر کے عوام کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب تک جموں و کشمیر کے عوام کو آزادانہ اور غیر جانب دارانہ طریقے اپنی قسمت کے فیصلے کا حق نہیں دیا جاتا اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

بی جے پی کے رہنماایشوانی کمار چھرنگو نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے لہٰذا ہمیں بات چیت کا راستہ ہی اپنانا ہوگا۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی رکن اورجموں و کشمیر ڈیموکریٹک لبریشن فرنٹ کے چئیرمین ہاشم قریشی نے کہا کہ جمو ں وکشمیر ریاست میں مقیم اس کے باشندوں کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ1947ء سے مسئلہ کشمیر برصغیر کے دو بلین لوگوں کے لیے ابھی تک دردِ سر بنا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جب دونوں ممالک میں لڑائیاں ہوتی ہیں تو مرتے تو کشمیری ہی ہیں، نقصان تو دونوں طرف سے ہمارا ہی ہوتا ہے۔

انہوں نےکہا کہ جب تک نفرت کی دیواریں گرائی نہیں جاتیں یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

سیمینارمیں میزبان زاہد حسین کو جناب ظہیر بابر اور یوسف ابراہیم نے ٹیکنیل معاونت فراہم کی۔

اس موقعے پریوسف ابراہیم نے امریکا میں مقیم ایک شاعر کی جانب سے ارسال کی گئی کشمیریوں کے ساتھ اظہاری یکجہتی پر لکھی ہوئی نظم بھی پڑھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے