Input your search keywords and press Enter.

میں جب فلسطین کی صورتحال دیکھ رہا تھا تو مجھے کشمیر یاد آرہا تھا، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد میں ملتان سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین سے ملاقات میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آج فلسطینی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ہمارے گھروں سے جبراً نکال رہے ہیں اور کشمیری بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔ فلسطینی آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کے خطرات کا اظہار کر رہے ہیں اور بھارت بھی کشمیر میں آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کیلئے غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کر رہا ہے۔
اسلام ٹائمز۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فلسطین میں سیزفائر ایک پہلا قدم ہے، اگر چنگاری سلگتی رہی تو مشرق وسطیٰ میں امن نہیں آئے گا اور اسی طرح اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ایشیاء میں امن نہیں ہوسکتا۔ میں جہاں فلسطین کا مقدمہ لڑ کر آیا ہوں، وہیں میں کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ عالمی سطح پر اجاگر کرکے آیا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ مدینے کے تاجدار کی نسبت اللہ نے مجھ ناچیز سے کام لیا۔ میں پاکستانی قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ بین الاقوامی سطح پر میں آپ کی ترجمانی کرتا رہوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت خارجہ میں ملتان سے تحریک انصاف کے پارلیمنٹیریز اور کارکنان سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 27 رمضان المبارک کو ہم عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب میں تھے۔ وہاں ہمیں پتہ چلا کہ اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں عبادت میں مشغول نمازیوں پر حملہ کیا ہے۔ پورے غزہ میں کرونا کی ایک ٹسٹنگ لیبارٹری تھی، اسے تباہ کر دیا گیا۔ جب فلسطینیوں پر تشدد کے واقعات میڈیا پر رپورٹ ہونا شروع ہوئے تو وزیراعظم عمران خان صاحب نے فوری فیصلہ کیا کہ ہمیں مسجد اقصیٰ کے تقدس کی پائمالی اور فلسطینیوں پر جارحیت کے خلاف او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کیلئے متحرک کرنا چاہیئے۔

چنانچہ 28 رمضان المبارک کو ہی ہم نے روابط شروع کیے، الحمدللہ او آئی سی وزرائے خارجہ ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ میں نے اس اجلاس میں پاکستانی قوم کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی۔ او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں ہم نے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا۔ چین کے وزیر خارجہ کی صدارت میں سلامتی کونسل کے چار اجلاس بلائے گئے لیکن اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ آخری اجلاس میں 15 میں سے 14 اراکین ایک طرف تھے جبکہ ایک رکن نے ویٹو کر دیا۔ امن و امان کے قیام کی ذمہ داری اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ہے، جب سلامتی کونسل میں کچھ نہ بن پڑا تو ہم نے دوسرے آپشنز پر غور شروع کر دیا۔ ترک وزیر خارجہ نے مجھ سے رابطہ کیا اور اقوام متحدہ جنرل اسمبلی جانے کی تجویز پیش کی، میں نے ان کے ساتھ اتفاق کیا۔ میں نے وزیراعظم صاحب کو اعتماد میں لیا، ان کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ ہم نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس بلانے کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔

میں نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی روانگی سے قبل اپنی پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا۔ میں قرارداد لیکر پارلیمنٹیرینز کے پاس گیا اور قرارداد ان کے سامنے رکھی، الحمدللہ سب نے اس قرارداد پر اتفاق کیا اور متفقہ طور پر اسے منظور کیا۔ میں اس قرارداد کو لے کر ترکی پہنچا، ترک وزیر خارجہ کے سامنے 22 کروڑ پاکستانیوں کی جانب سے متفقہ قرارداد رکھی، ترک وزیر خارجہ نے اس سے اتفاق کیا۔ میں نے ترکی میں ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کی، میں نے وہ قرارداد ان کے سامنے بھی رکھی اور انہوں نے بھی اتفاق کیا۔ ہم نے فلسطین کے وزیر خارجہ کو ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے اپنی روانگی موخر کی، کیونکہ انہیں مشکلات کا سامنا تھا۔ انہیں ہم نے ساتھ لیا اور نیویارک کیلئے روانہ ہوئے۔ اس دوران تیونس کے وزیر خارجہ سے ہمارا رابطہ ہوا، انہوں نے ہمارے ساتھ جانے پر آمادگی ظاہر کی، ان کو بھی ہم نے ہمراہ لیا۔ انڈونیشیا کی وزیر خارجہ سے میرا رابطہ ہوا، انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پہنچیں گی۔

مجھے علم ہوا کہ آٹھ وزرائے خارجہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک پہنچ چکے ہیں۔ میں نے نیویارک مشن میں مشاورت کیلئے تمام وزرائے خارجہ کو عشائیے کی دعوت دی اور مشاورت کے بعد اگلے دن کیلئے لائحہ عمل طے کیا۔ ہمارا پہلا مقصد یہ تھا کہ فلسطینیوں پر مظالم کا سلسلہ فوراً بند ہو۔ ہماری اس تحریک کی بدولت دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں زبردست مظاہرے شروع ہوگئے۔ اس ماحول میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں بحث شروع ہوئی۔ میری تقریر اقوام متحدہ کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ جب صدر جنرل اسمبلی کے زیر صدارت خصوصی اجلاس چل رہا تھا تو فلسطین کے وزیر خارجہ کو مصر کے وزیر خارجہ نے "سیز فائر” پر مبارکباد دی۔

میں جب فلسطین کی صورتحال دیکھ رہا تھا تو مجھے کشمیر یاد آرہا تھا۔ آج فلسطینی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ہمارے گھروں سے جبراً نکال رہے ہیں اور کشمیری بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔ فلسطینی آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کے خطرات کا اظہار کر رہے ہیں اور بھارت بھی کشمیر میں آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کیلئے غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کر رہا ہے۔ کشمیر میں بھی یہی ہو رہا ہے، نوجوانوں کو بلاسبب گھروں سے اٹھا کر تشدد کیا جاتا ہے۔ تشدد میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کو خاموشی سے دفنا دیا جاتا ہے۔ میری جب سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں بتایا کہ اقوام عالم کا جو وزرائے خارجہ کا اگلا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا، اس میں سمٹ لیول کی قیادت وزیراعظم عمران خان کریں گے اور اس کا ایجنڈا کشمیر ہوگا۔ صدر جنرل اسمبلی 27 تاریخ کو اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں۔ ان شاء اللہ اس اجلاس کے بعد بغداد روانہ ہوں گا اور دو برادر ملکوں کے مابین تلخیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے