غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی فورموں پر اجاگر کرنے کیلئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کوششوںکا خیرمقدم کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پر قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف فوری کارروائی کیلئے اقوام متحدہ کے ساتھ معاملہ اٹھانے کی ضرورت پر زوردیا ۔
حریت ترجمان نے کہاکہ پاکستان کوتنازعہ کشمیر کے ایک اہم فریق کی حیثیت سے یہ جائز حق حاصل ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کے جنگی جرائم پر بھارت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرے ۔حریت رہنمائوں جاوید احمد میر اور محمد یوسف نقاش نے بھی اپنے بیانات میں جموںوکشمیرمیں آبادی کا تناسب بگاڑنے کے بھارت کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرنے پرپاکستان کی کوششوںکو سراہا ہے ۔
انہوں نے اقوام متحدہ پر زوردیاکہ وہ تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے اپنا اہم کردار اد ا کرے۔ جموںوکشمیرسول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے ایک بیان میں مزدوروں سمیت غیر کشمیریوں کو کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے بغیر مقبوضہ علاقہ آنے کی اجازت دینے پر بھارتی قابض انتظامیہ پرکڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس اقدام سے بھارت میں پھیلنے والی کورونا وائرس کی مہلک قسم سے مقامی لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ ، جموںوکشمیر فریڈم فرنٹ اور جموںوکشمیر نیشنل فرنٹ نے کشمیرمیں بھارتی فوجیوںکی طرف سے تلاشی اور محاصرے کی مسلسل کارروائیوں، قتل عام اور نوجوانوںکی گرفتاریوںپر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔
انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ علاقے کی بگڑتی ہوئی سیاسی اور انسانی صورتحال کا نوٹس لیں۔ جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ نے ایک متفقہ قراردادکے ذریعے پارٹی کے اس موقف کا اعادہ کیاہے کہ تنازعہ کشمیر کا قابل عمل، پائیدار اور منصفانہ حل استصواب رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔جموںوکشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے جموں سے جاری ایک بیان میں میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کو ان کی شہادت کی برسیوں کے موقع پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
مقبوضہ جموںوکشمیر کی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں فلسطینی عوام کو درپیش مشکلات کاادراک کرنے اور ان کے خاتمے کے لئے بروقت مداخلت کرنے پر بین الاقوامی برادری کا شکریہ ادا کیاہے۔
بار ایسوسی ایشن کے ترجمان ایڈوکیٹ جی این شاہین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعہ کشمیر پر بھی اسی طرح کا موقف اپنائے اور کشمیریوں کو درپیش مشکلات کو ختم کرنے اور تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے اسی طرح سیاسی عزم اور سفارتکاری کا مظاہرہ کرے جس طرح اس نے فلسطینیوں کے معاملے میں کیا۔بھارت، امریکہ اور برازیل کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے جہاں کورونا وباکی وجہ سے 3 لاکھ سے زائد اموات ہوئی ہیں
