اسلام آباد۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشال حسین ملک نے اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت سے اپیل کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں طبی سہولتیں فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ فاشسٹ ہندوستانی حکومت کورونا وائرس کی آڑ میں کشمیریوں کے خلاف ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے ، اشرف صحرائی کی اچانک شہادت سے بھارتی کھیل بے نقاب ہو گیا ہے ۔۔اتوار کے روز ایک بیان میں ، پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئر پرسن مشال حسین ملک نے واضح کیا کہ اشرف صحرائی کی اچانک موت خطرناک بھارتی کھیل کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے جیلوں میں قید کشمیری رہنماوں سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے کہا کہ بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں یاسین ملک ، آسیہ اندرابی ، الطاف شاہ اور دیگر حریت رہنماں کی جان کو خطرہ ہے۔ حریت رہنما الطاف شاہ کی بیٹی رووا شاہ نے بھی اپنے ٹویٹ میں ایسے خطرے کا اشارہ کیا ۔ رووا شاہ نے نے لکھا ہے کہ میں نے تہاڑ جیل میں قید اپنے والد سے آج مہینوں کے بعد پانچ منٹ سے بھی کم وقت تک بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر روز کم از کم دو افراد کرونا وائرس سے تہاڑ جیل میں مر رہے ہیں۔ تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنماوں کے خاندان اس صورت حال سے پریشان ہیں،تہاڑ جیل میں 250 سے زائد افراد کا کرونا ٹسٹ مثبت آیا ہے ۔
لیکن اس جیل کے قیدیوں کو وہاں سے منتقل کرنے کے بجائے مزید کشمیریوں کو وہاں منتقل کیا جارہا ہے تاکہ وہ مہلک کورونا وائرس کا شکار ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک اور دیگر حریت رہنماں کی صحت ذہنی اور جسمانی اذیتوں کی وجہ سے بگڑ رہی ہے۔ جیل میں کروناوائرس نے ان کی پریشانیوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حریت رہنماں کو طبی امداد فراہم نہیں کی جا رہی ہے جو کہ کافی تشویشناک ہے۔مشعل نے اپیل کی کہ یو این او اور ڈبلیو ایچ او مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو طبی سہولتیں
