Input your search keywords and press Enter.

کشمیری رہنما اشرف صحرائی کی موت پرغم وغصہ

کشمیری علحیدگی پسند رہنما اشرف صحرائی بدھ کو کورونا کے سبب جموں کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر اٹہتر برس تھی۔

اشرف صحرائی ایک سال سے جموں کشمیر کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تھے۔ انہیں پچھلے ہفتے دوران حراست کورونا انفیکشن ہوگیا تھا، جس کے بعد انہیں شہر کے میڈیکل ہسپتال منتقل کیا گیا۔ لیکن بدھ کی صبح وہاں ان کی حالت مزید بگڑ گئی اور انہیں بچایا نہ جا سکا۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس نے ان کی موت کے لیے انتظامی غفلت اور حکومتی لاپرواہی کو ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

ایک بیان میں علحیدگی پسند پارٹیوں کے اتحاد نے کہا کہ بھارتی حکومت سے بارہا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ کورونا کے خطرات کے مدنظر تمام سیاسی قیدیوں کو انسانی بنیادوں پر رہا کرے لیکن حکام ان کی جانوں کو داؤ پر لگانے سے باز نہیں آرہے۔

ادھر پاکستان میں بھی عوامی سطح پر مختلف رہنماؤں نے اشرف صحرائی کی موت پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کو ایک بیان میں وزیراعظم عمران نے کہا کہ "بھارت کا کشمیریوں پر ظلم و ستم بین الاقوامی برادری کے اجتماعی ضمیر پر ایک دھبہ ہے۔ ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں اہلِ کشمیر کی حق خودارادیت کے لیے منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے