بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر بلیک لسٹ کیا جائے
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر مقبوضہ علاقے کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ میں بطور ادارہ اقوام متحدہ کی ناکامی کی واضح مثال ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردار نمبر 47کی منظوری کے 73برس مکمل ہونے کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ عالمی ادارے نے 21 اپریل 1948 کی قرارداد سمیت متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا اور جموں وکشمیر میں رائے شماری کرانے پر زوردیا گیا ۔
انہوںنے کہا کہ اقوام متحدہ نے مشرقی تیمور ، کوسوو اور جنوبی سوڈان سمیت متعدد بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کردار ادا کیا ہے لیکن وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قراردادوں کے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کی حصوصی حیثیت ختم کرنے کے 5اگست2019کے بھارتی اقدام کا مقصد دراصل کشمیریوں کی اصل شناخت مٹانا ہے۔
ترجمان نے عالمی ادارے پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کی مشکلات دور کرنے کیلئے اپنی قرار دادوں پر مزید کسی تاخیر کے عملدرآمد کرائے اور مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت بحال کرانے کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے۔ ایک امریکی کمیشن نے اقلیتوں سے بدترین سلوک اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر بھارت کو مسلسل دوسرے سال بھی بلیک لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی ہے۔
کمیشن نے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک بد سے بدتر ہو گیا ہے ۔ کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل تنزلی کا شکار ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہندو قوم پرستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیںجس کے نتیجے میں منظم انداز میں مذہبی آزایوں کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہے۔ کمیشن نے گزشتہ برس نئی دلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں پولیس کے ملوث ہونے کی بھی نشاندہی کی ہے اور مودی کی طرف سے لائے گئے شہری قانون پر بھی تشویش کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون مسلمانوںکو غیر بھارتی قرار دیتا ہے۔
جموں وکشمیر پیپلزلیگ ، جموںوکشمیر ماس موومنٹ اور جموں وکشمیر یوتھ سوشل فورم اینڈ جسٹس لیگ نے اپنے بیانات میں کہا کہ فسطائی بھارتی حکمران مقبوضہ جموںوکشمیر کے لوگوں کو مذہبی اور دیگر حقوق سے محروم رکھ کر انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے صحافتی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کے بارے میں پیرس میں قائم تنظیم ’’رپورٹز ود آئوٹ بارڈرز‘‘ کی حالیہ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اظہار رائے کی آزادی کے حق کے بارے میں بڑھتا ہوا عدم برداشت باعث تشویش ہے ۔
انہوںنے کہا کہ مودی حکومت بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں جاری مظالم کے بارے میں سچ لکھنے پر صحافیوں کو ہراساں اور انکے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔ بھارتی فورسز نے سرینگر کے علاقوں امیرہ کدل، مگر مل باغ کراسنگ اور دیگر مقامات پر مزید بنکر قائم کیے ہیں جس سے رمضان کے مقدس مہینے میں کشمیریوںکی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ تحریک حریت جموںوکشمیر کے کنوینر غلام محمد صفی نے ایک بیان میں پارٹی کے غیر قانونی طورپر نظر بند چیئرمین محمد اشرف صحرائی کی جموں خطے کی ادھمپور جیل میں گرتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دریں اثنا ورلڈ کشمیر ایوائیر نس فورم کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر غلام نبی فائی نے واشنگٹن میں ایک بیان میں دنیا کو 1948میں کشمیریوں سے کیے گئے وعدے پر عملدرآمد کرانے پر زور دیا ہے۔
