اسلام آباد۔18اپریل (اے پی پی):انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اورنئے قوانین کے نفاذ کے بھارتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی سیاسی شمولیت میں کمی آ سکتی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تشویش کا اظہاراقوام متحدہ کے پانچ خصوصی نمائندوں کی طرف سے10 فروری کو بھارتی حکومت کے نام ایک خط میں کیاگیا جس سے ہفتے کے روز شائع کیا گیا۔
یہ خصوصی نمائندے اقلیتوں کے مسائل، اظہار رائے کی آزادی کے حق کے تحفظ اور فروغ، پرامن اجتماع اور ایسوسی ایشن کی آزادی کے حق،نسل پرستی، نسلی امتیازی اور اس سے متعلق تشددکی موجودہ صورتحال اورر مذہب یا عقیدے کی آزادی کے حق سے متعلق ہیں۔ خصوصی نمائندوں نے اپنے خط میں کہاکہ کشمیری، ڈوگری، گوجری، پہاڑی، سکھ، لداخی اور دیگر اقلیتوں جیسے مقامی گروپوںکوعلاقائی حکومت اور اس کے قانون سازی کے اختیارکے خاتمے کی وجہ سے سیاسی نمائندگی اور شرکت کی کمی کا سامنا ہے ۔5 اگست 2019 سے پہلے مقبوضہ جموں و کشمیرکا اپنا آئین اور قانون سازی کے لئے ایک اسمبلی تھی۔ ایک اور آئینی شق اے۔ 35 کو بھی ختم کیاگیا جس کے تحت غیر ریاستی باشندے نہ تو علاقے میں جائیداد خرید سکتے تھے اور نہ سرکاری نوکریوں کے لئے درخواست دے سکتے تھے۔
بھارت نے نہ صرف ان شقوں کو ختم کیابلکہ ریاست کو لداخ اور جموں و کشمیر کے دو الگ الگ علاقوں میں تقسیم کیا ۔خصوصی نمائندوں نے کہا کہ شہریت کا نیا قانون علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل ہونے کا سبب بن سکتا ہے اور جموںوکشمیر کے عوام کے لسانی اور ثقافتی حقوق اور مذہب یا عقائد کی آزادی کے حقوق کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے جن کی 1947میں قائم کئے گئے خود مختار علاقے کے لوگوں کو ضمانت دی گئی تھی ۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ نئے ڈومیسائل قوانین سے مقامی باشندوں کے مقابلے میں ایک غیر کشمیری شخص کے لئے رہائشی سرٹیفکیٹ کا حصول آسان بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان قوانین سے سرکاری ملازمتوں تک مقامی باشندوں کی رسائی کو کم کردیاگیا ہے ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ شدیدتشویش کا معاملہ ہے کہ بھارتی حکومت مقامی آبادی سے مشاورت کے بغیر رہائشی قوانین میں ترمیم کرسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندوںنے بتایا کہ رہائشی سندوں کے اجراءکے عمل کو تیز کرنے اور مقامی باشندوں کے رہائشی حقوق پر نظرثانی سے خطے میںاقلیتوں کے مجموعی انسانی حقوق کی صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔خط میں کہاگیا ہے کہ علاقے میں فوج کی موجودگی میں اضافے کا بھی خدشہ ہے جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
بھارتی حکومت کی توجہ ماضی کے خطوط کی طرف بھی مبذول کرائی گئی ہے جن میں انٹرنیٹ کی بندش ، اجتماع اور اظہار رائے کی آزادی کے حقوں پرپا بندیوں اور صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور ہراساں کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیاگیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ان اقدامات سے جموں و کشمیر کے لوگوں کو سیاسی عمل میں بھرپور شرکت کا موقع نہیں مل سکے گا۔
ماہرین نے بھارتی حکومت کو یاددلایا کہ اگست 2019 کے بعد سے کئی خصوصی نمائندوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال اوربھارت میں اقلیتوں بالخصوصی کشمیری مسلمانوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پانچ بار خطوط کے ذرےعے تشویش کا اظہار کیاتھا۔
