Input your search keywords and press Enter.

بھارت سے تجارت

بڑے عرصے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان خط وکتابت کے ذریعے رابطہ ہوا ہے، ویسے تو قیام پاکستان سے لیکر آج تک ان دونوں ایٹمی ملکوں کے درمیان کبھی بھی حالات اچھے تو کیا ہوتے اعتماد والے بھی نہیں رہے، بھارت کے بڑوں نے خواہ مخواہ اس بات کو دشمنی کی بنیاد بنا ڈالی کہ برصغیر کے مسلمانوں نے بھارت ماتا کو تقسیم کیا، یوں گویا بہت بڑا ناقابل معافی جرم کیا۔ اُن کی یہ بات اتنی بے معنی ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں، اس لئے کہ ہندوستان کبھی ایک متحد ملک تھا ہی نہیں۔ یہاں تو سینکٹروں راجواڑے تھے، شمال کے مسلمان فاتحین نے آکر بھارت کو ایک اکائی میں تبدیل کر کے ترقی کی راہ پر ڈال دیا لیکن پھر جب انگریز کی آمد کے بعد ہندوؤں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی منصوبہ بندی کردی تو مسلمانوں کے بڑوں نے بروقت اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی حفاظت کیلئے الگ وطن کا مطالبہ کر کے بہترین دوراندیشی کا ثبوت دیا۔
چار جنگوں کے علاوہ کھیل کود کے میدانوں اور تجارت میں ہندوستان کے حکمرانون نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تلخ ومعاندانہ تعلقات کی اصل وجہ مقبوضہ کشمیر ہے جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، معمول کے خوشگوار تعلقات کا قیام بس ایک خواب اور دیوانے کی بڑ ہی ہوسکتی ہے۔
ہندو کمیسٹری کی یہ خاص بات ہے اور نریندر مودی کے عہد میں تو اُس کے ہر ایکشن سے ظاہر ہے کہ اپنے مقصد ومفادات کیلئے گدھے کو ابا بنانے میں دیر نہیں لگاتے، یہی وجہ تھی پچھلے دنوں اچانک یوم پاکستان کی مبارکباد کیلئے پاکستان کے وزیراعظم کو خط لکھا گیا۔ میڈیا میں خبریں آنا شروع ہوئیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان سردمہری کی برف پگھلنے لگی ہے اور بہت جلد مذاکرات وغیرہ شروع ہوں گے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی اور لائن آف کنٹرول سے وابستہ تاجروں کے خیرمقدمی بیانات کو سامنے رکھا جائے تو مقبوضہ کشمیر میں بیروزگاری کے پس منظر میں پاک بھارت تجارت بحال کرنے کی ضرورت اُجاگر ہوتی ہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کی سازگار فضا پیدا کرنے کے لئے ازخود یا کسی دوسرے ذریعے سے دونوں ملکوں کی قیادتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کا اہتمام کرے۔
اس دوران یہ خبریں بھی آئیں کہ پاکستان بھارت سے کپاس اور چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ یار لوگ تبصرے کرنے لگے تھے کہ کیا عمران خان کشمیر پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے لگے ہیں کیونکہ اُنہوں نے کہا تھا کہ بھارت جب تک کشمیر کے حوالے سے دفعہ370 بحال نہیں کرے گا تب تک کوئی بات نہیں ہوگی۔
بہت اچھا ہوا کہ عمران خان کا نریندر مودی کو لکھا گیا جوابی خط میڈیا میں آیا جس کو کسی اچھے دانشور نے لکھا تھا۔ یہ دو جملے کمال کے تھے ایک یہ کہ ہمارے آبا واجداد کی دوربینی کو وقت نے صحیح ثابت کیا ہے کہ ہم نے الگ وطن حاصل کر لیا ہے، دوسری یہ کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بامعنی مذاکرات ہونے چاہئیں لیکن یہ تب ہوسکتے ہیں جب مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا اور اس مسئلے کیساتھ دیرپا امن منسلک ہے۔
پاکستانی عوام کی شدید خواہش ہے کہ اس خطے میں امن ہو اور دونوں ملک پڑوسی کی حیثیت سے یکساں ترقی کریں لیکن جب تک کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوگا تب تک چینی، کپاس درآمد نہیں ہوسکے گی۔ کپتان کے اس قسم کے فیصلے عوام کے دل جیتتے ہیں لیکن اے کاش! اس کیساتھ مہنگائی کو قابو کروائیں تو ان سے اب بھی کوئی مقبول لیڈر پاکستان میں نہیں ہے۔
اس حوالے سے بہت جلد فیصلے کروانے ہوں گے اور رمضان المبارک کے دوران مہنگائی کو قابو کر کے عوام کی دعائیں لینے کا بہترین موقع ہے۔ ہمارے بزنس مین اور صنعتکار ایک ذرا صبر کرلیں حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ تجارت اپنی جگہ لیکن ”غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ ودو میں” بھارت کیساتھ تجارت اب نہیں، بلکہ تب ہوگی جب مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے