Input your search keywords and press Enter.

کشمیر کا تنازع، حقائق کی روشنی میں(قسط 4)

ڈاکٹر جمیل احمد میر

شیخ عبداللہ کا، جواہر لعل نہرو سے ملاقات سے پہلے، پریم ناتھ بزاز سے میل جول بڑھ چکا تھا۔ پریم ناتھ بزاز، شیخ عبداللہ کے ہم عمر کشمیری پنڈت اور بڑے معاملہ فہم ہندو برہمن تھے۔ گریجویٹ تھے اور شیخ عبداللہ کی طرح وہ بھی سیاسی افق پر نئے نئے نمودار ہوئے تھے۔ گلینسی کمیشن کے ممبر رہے تھے اور اس کمیشن کی سفارشات مرتب کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ وہ ہندوانہ تعصب سے مبرا، مسلمانوں کے جائز مطالبات کے حق میں تھے، لہٰذا مسلمان ان سے خوش اور ان کی اپنی پنڈت برادری ان سے نالاں تھی۔

وہ غیر مذہبی بنیادوں پر سیاست اور کشمیریوں کے بلا تفریق نسل و مذہب، حقوق اور کشمیر کی آزادی کے علم بردار تھے۔ بزاز کے نزدیک کشمیریوں کا اصل مسئلہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی تعصب یا منافرت نہیں بلکہ یہ ظالم و مظلوم، حاکم و محکوم اور مال دار و محروم کے درمیان اختیارات سے تجاوز، عدم انصاف اور سلب حقوق کا معاملہ ہے۔ بزاز شیخ عبداللہ، مولانا محمد سعید اور بخشی غلام محمد کو 1932ء میں اپنے خیالات کا ہمنوا بنا چکے تھے۔

وہ شیخ عبداللہ کو اس بات پر پوری طرح قائل کر چکے تھے کہ ریاست کی سیاست یا آزادی کی تحریک غیر مذہبی، ترقی پسندانہ رجحان اور جمہوری بنیادوں پر استوار ہونی چاہیے۔ چناں چہ شیخ عبداللہ 1932ء سے ہی یہ سوچنا شروع ہو گئے تھے کہ انہیں صرف مسلمانوں کا ہی ترجمان نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنی سیاست کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوتے ریاست کے ہر طبقہ کی ترجمانی کرنی چاہیے۔ یہ ان کے نزدیک صحت مندانہ سوچ تھی۔ مسلم لیگ ان دنوں موجود تو تھی مگر کانگریس کے مقابلے میں کہیں ناتواں تھی۔

محمد علی جناح مسلم لیگ کی کارکردگی سے بد دل ہو کر برطانیہ میں بیٹھ رہے تھے۔ انہیں 1934ء میں ہندوستان میں واپس آ کر، قائداعظم بننے کے لئے ابھی چار سال کا عرصہ درکار تھا۔ ایسے میں کشمیر کے ایک مسلم سیاسی رہنما شیخ عبداللہ کا جواہر لعل نہرو سے 1934ء میں ملاقات کرنا اچنبھے کی بات نہیں لگتی۔ لیکن اس ملاقات نے آگے چل کر ریاست کے مستقبل پر انمٹ نقوش چھوڑے اور اسے ہمیشہ کے لئے مخدوش بنانے میں خاصا کردار ادا کیا۔

شیخ عبداللہ، پریم ناتھ بزاز کے ساتھ مل کرایک حکمت عملی ترتیب دے چکے تھے، اب اسے بروئے کار لانے کا مرحلہ تھا۔ ریاست کے سیاسی حالات، پے درپے واقعات کی وجہ سے 1931ء سے غیر یقینی چلے آرہے تھے۔ مسلمان چوں کہ عدم تحفظ کا شکار تھے اور ان میں مذہب کے حوالے سے حساسیت زیادہ تھی، اس لئے شیخ عبداللہ کے لئے عوامی اجتماعات میں اپنے تبدیل شدہ خیالات کا اظہار مشکل ہو رہا تھا۔ 1935ء میں پریم ناتھ بزاز نے شیخ عبداللہ کی حمایت اور تعاون سے ایک ہفتہ وار جریدے ’ہمدرد‘ کا اجراء کیا۔

یہ رسالہ ہندو مسلم، دونوں، کے جمہوری حقوق کا پاس دار تھا۔ اس میں بڑی باقاعدگی سے دونوں قوموں کے مل کر آزادی کی جدوجہد کرنے اور اس کے فوائد و ثمرات پر مدلل مضامین چھپنے لگے۔ شیخ عبداللہ نے بھی برسر عام، ہندو مسلم اتحاد کی بات کرنے لگ پڑے۔ الغرض ’ہمدرد‘ نے مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں تبدیل کرنے کی راہیں ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا (یوسف صراف۔ کشمیریز فائٹ فار فریڈم)۔

چوہدری غلام عباس ایک مسلم سیاسی جماعت کو سیکولر جماعت میں تبدیل کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا استدلال تھا کہ ایک طرف ہم ان قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہی جن کی رو سے ریاست میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے اور ایک ہندو کے مسلمان ہونے پر اسے اپنی جائیداد سے محروم کر دیا جاتا ہے اور دوسری طرف اسی ہندو کے ساتھ، جو انہی قوانین کے نفاذ پر مطمئن اور تسلسل پر بضد ہے، کے ساتھ ایک ہی سٹیج پر جمع ہو کر باہمی حقوق کی بات کریں۔ کیا ایسا کرنے سے ہم ظاہری تضاد کے مرتکب نہیں ہوں گے، کیا ہمارے مطالبات کو زک نہیں پہنچے گی اور وہ کہیں پس منظر میں نہیں چلے جائیں گی؟

ان تحفظات کے باوجود، مسلمانوں میں ہم آہنگی اور یگانگت برقرار رکھنے کے لئے، چوہدری غلام عباس کے سبھی ساتھی سوائے چوہدری حمیداللہ کے، مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں تبدیل کرنے پر راضی ہو گئے۔ چناں چہ یہ کام مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل کے 10 جون 1939ء کے اجلاس، منعقدہ سری نگر، میں انجام پا گیا۔ اب شیخ عبداللہ اپنے تئیں پوری ریاست جموں و کشمیر کے رہنما بن گئے تھے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈوگرہ اور خالصہ راج سے قبل ریاست میں ہندو اور مسلمان امن سے رہتے چلے آرہے تھے۔ ان میں مذہبی منافرت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اگر تھی بھی تو بیرونی تسلط کی وجہ سے کہیں پس منظر میں چلی گئی تھی۔ بیرونی تسلط کے خلاف دونوں کے احساسات ایک جیسے تھے۔ دونوں ہی اپنے بنیادی حقوق کی بحالی اور جبری تسلط سے رہائی چاہتے تھے۔ یعنی دونوں کے مفادات قدرے مشترک اور ایک دوسرے سے متصادم نہیں تھے۔ لیکن خالصہ راج میں جب مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو تالہ بند کیا گیا اور ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی گئی تو یہاں سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے مفادات میں تفاوت سامنے آنا شروع ہو گیا۔ڈوگرہ راج میں تو ہندو اقلیت ایک غالب قوت تھی۔ اب ان کے مفادات کی راہیں مسلمانوں کے مفادات سے الگ ہی نہیں ہوئیں بلکہ ان میں ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گئی۔ مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی بحالی سے ہندوؤں کی مراعات پر زد پڑتی تھی۔ جو ان کے لئے قابل قبول نہیں تھی۔ گائے کے ذبیحہ پر پابندی اور اس پر سزا، ہندو دھرم کی پاس داری تو ہو سکتی ہے لیکن یہ قانون مسلمان اکثریت کے لئے بیزاری، دل آزاری اور لاچاری کا باعث تھی۔

اسی طرح کسی ہندو کا اپنا مذہب چھوڑ کے اسلام میں داخل ہونے پر اپنی جائیداد سے محروم ہو جانا، ہندوؤں کے لئے باعث تسکین ہو سکتا ہے لیکن کسی مسلمان کے لئے نہیں۔ مسلمانوں کی مساجد اور خانقاہوں کو ریاست کا اپنی تحویل میں لے کر انہیں مقفل کر دینا اور مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت، مسلمانوں کے لئے باعث تشویش بات تھی۔ یہ معاملات ہندوؤں کے لئے اگر باعث اطمنان نہیں بھی تھے، تب بھی ان کی طرف سے ان معاملات پر کسی ردعمل کا سامنے نہ آنا حکمرانوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف تھا۔

ڈوگرہ راج کے آغاز 1846ء سے 1931ء تک مسلمانوں کا ہندو اقلیت سے مصالحانہ رویہ، ہندو اقلیت کے جذبہ خیر سگالی یا ان کے حسن سلوک کی وجہ سے نہیں تھا۔ مسلمان، ہندو حاکموں کے جبر اور انہی کی شہ پر ہندو اقلیت کے غلبے اور ان کی چیرہ دستیوں اور اپنے حقوق کی پامالی پر بے بس تھے اور خاموشی اختیار کرنے کے علاوہ ان کے لئے اور کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ یہ صورت حال ہندو حاکم اور اقلیت، دونوں کے لئے اطمینان بخش تھی۔ 1931ء میں سری نگر میں 22 مسلمانوں کے قتل پر جب مسلمان سراپا احتجاج تھے تو سری نگر اور جموں میں ہندوؤں نے اپنی ہندو سرکار کی حمایت میں اور مسلمانوں کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔

ان مظاہروں میں مزید کچھ مسلمان، ہندوؤں کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔ اسی طرح گلینسی کمیشن کی سفارشات سامنے آنے پر سری نگر میں ہندوؤں نے شدید احتجاج کیا تھا اور اس تحریک کو ’روٹی‘ احتجاج کا نام دیا تھا۔ گویا وادی میں 95 فی صد مسلمانوں کے حقوق کی بحالی کی سفارشات، 5 فی صد ہندوؤں کی روزی پر لات مارنے کے مترادف تھی۔ اگر گلینسی کمیشن کی سفارشات پر نظر ڈالی جائے تو ان سفارشات میں، جن میں مسلمانوں کے حقوق کی بحالی کی بات کی گئی ہے، ہندوؤں کے خلاف کوئی بات نظر نہیں آتی:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے