اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے خطے میں دیر پا اور مستقل امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر منحصر ہے،اقوام متحدہ کی زیر نگرانی، آزادانہ استصوا ب رائے کے ذریعے کشمیریوں کا حق خود ارادیت انہیں دینا ہو گا،خطے میں ماحول کو ساز گار بنانے کی ذمہ داری بھی ہندوستان پر عائد ہوتی ہے،تنازعات کی بجائے باہمی تعاون ہما ری ترجیح ہے،ہم پر امن بقائے باہمی کے اصول کے حامی ہیں۔گزشتہ روز منعقدہ نیشنل سکیورٹی کانفرنس ا سلام آباد ڈائیلاگ سے خطاب میں وزیر خارجہ نے کہا دنیا بھر میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ہم تاریخ کے بدلتے ہوئے اس اہم موڑ پر کھڑے ہیں، نئی سکیورٹی پارٹنرشپس تشکیل پا رہی ہیں،پرانے اتحاد ازسر نو مستحکم ہو رہے ہیں۔گھیراؤ کی پالیسیاں ایک نئی سرد جنگ کے بیج بو رہی ہیں۔گذشتہ چند برسوں میں دنیا نے بہت سی نئی مسابقت، نئے تنازعات کو جنم لیتے دیکھا ہے۔یکطرفہ سوچ کے پنپنے سے عالمگیریت کو گزند پہنچی ہے۔ تمام ریاستوں کی سلامتی کے یکساں تحفظ کا نادر اصول رو بہ زوال ہے۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیاروں کی دوڑ میں روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ کل کے سائنسی افسانے آج حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔غلط اور جھوٹی خبروں کو ریاستی سطح پر آلہ کار کے طور پر پھیلایا جا رہا ہے۔سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت کی جا رہی ہے،ان تمام نامساعد حالات کے باوجود پاکستانی قیادت نے نئے ملک کے وژن کے تحت، لوگوں کی اقتصادی و معاشی ترقی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہم اپنے قومی سلامتی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ، اپنی اقتصادی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ پاکستان نے خطے میں تنازعات کا حصہ بننے کی بجائے امن و استحکام کیلئے کی جانیوالی کاوشوں میں حصہ دار بننے کا شعوری فیصلہ کیا۔ہم اپنی جغرافیائی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کو ایک اقتصادی مرکز کے طور پر دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔چین پاکستان کے مابین اقتصادی راہداری کا کایا پلٹ منصوبہ، نہ صرف دونوں ممالک کیلئے بلکہ پورے خطے کیلئے اقتصادی ترقی اور روابط کے فروغ کا موجب ہو گا۔کراچی اور گوادر پورٹس، وسط ایشیائی ریاستوں اور مغربی چین کیلئے عالمی سمندروں تک رسائی کا مختصر ترین راستہ کی فراہمی کا باعث بن سکتے ہیں۔افغانستان میں قیام امن سے پاکستان کو وسط ایشیائی ممالک کیساتھ روابط بڑھانے میں مدد ملے گی۔افغانستان میں قیام امن کا واحد راستہ افغانوں کی قیادت میں قابلِ قبول جامع مذاکرات ہیں۔ عالمی برادری نے افغانستان میں قیام امن کیلئے ہمارے مصالحانہ کردار کو سراہا،اب افغانوں پر منحصر ہے وہ اس نادر موقع سے مکمل استفادہ کریں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے کویت کے وزیر خارجہ اور کابینہ امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر احمد ناصر الصباح نے وزارت خارجہ میں ملاقا ت کی،جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلووں کا جائزہ لیا گیا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصب کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)بالخصوص اس کے خصوصی اقتصادی زونز کے معاشی ثمرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کویت کو دعوت دی پاکستان میں منافع بخش سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے استفادہ کرے، پاکستان کے دورے پر آئے کویت کے ہم منصب ڈاکٹر احمد ناصر الصباح اور ان کے وفد سے بات چیت میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کویت کے وزیر خار جہ کے طورپر دوبارہ تقرری پر انہیں مبارک بھی پیش کی جبکہ اپنی آمد کے بعد وزیرخارجہ احمد ناصر الصباح نے وزارت خارجہ کے صحن میں یادگاری پودا بھی نصب کیا جو وزارت آنیوالی شخصیات کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے۔ اس کے بعد دونوں وزرا خارجہ نے وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ اجلاس میں وزراخارجہ نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلووں کا جائزہ لیا جس میں سیاسی، معاشی، دفاعی، تجارتی،سرمایہ کاری اور افرادی قوت کی برآمد کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے عوام میں رابطوں کے فروغ کے لئے طریقہ ہائے کار پر غور کیاگیا۔ کثیرالقومی اداروں خاص طورپر اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی سطح پر قریبی اشتراک عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار اور اس کا اعادہ کیاگیا، شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی جیواکنامکس کی طرف تبدیل ہوتی توجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کویت کیساتھ تمام شعبہ جات میں متنوع دوطرفہ تعاون کو مزید تقویت دینے کے پاکستان کے پختہ عزم کو دوہرایا اور باہمی طے پانے والے اہداف کے حصول کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مشترکہ وزارتی کمیشن کی پانچو یں نشست جلد بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے علاوہ مقبوضہ خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے غیرقانونی اقدامات کے بارے میں خاص طورپر آگاہ کیا اورکہا تنازعہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل جنوبی ایشیامیں پائیدار امن وسلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔
