اسلام آباد(نمائندہ جنگ) پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کے جموں و کشمیر سے متعلق اس بیان کو خطے کی متنازع حیثیت کے برعکس قرار دیا ہے جس میں بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کیلئےʼبھارت کا وفاقی علاقہʼ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلے کے طورپر طویل عرصے سے موجود ہے، غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق معمول کی بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بھارت کی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کا حوالہ ʼبھارتی وفاقی علاقےʼ کے الفاظ سے دیا، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ اس خطے کے بارے میں امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے،ہم جموں و کمشیر میں ہونے والی پیشرفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ روز معمول کی بریفنگ کے دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان چوہدری نے نیڈ پرائس کے تازہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ہی امریکہ کو آگاہ کر چکے ہیں کہ جموں و کشمیر کے بارے امریکی دفتر خارجہ کا بیان خطے کی متنازع حیثیت کے برعکس ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی برداری تسلیم کرتی ہے۔ ترجمان کے بقول کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلے کے طورپر ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ زاہد حفیظ نے مزید کہا کہ کہ جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی و اقتصادی ترقی ان کے بقول اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ان کے حق خودارادیت کے حصول سے منسلک ہے۔
جموں و کشمیر پر امریکی بیان خطے کی متنازع حیثیت کے برعکس ہے، پاکستان
