مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے نہتے اور معصوم کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف سنگین جنگی جرائم پوری دنیا پر واضح ہوگئے ہیں ۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میںبھارتی فوج کے نہتے اور معصوم کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف سنگین جنگی جرائم پوری دنیا پر واضح ہوگئے ہیں ۔باضمیر عالمی راہنمائوں، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوام متحدہ انسانی حقوق کی رپورٹ ،اور عالمی میڈیا نے بھارتی نسل پرستی ،توسیع پسندی اورکشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے گھناونے منصوبے کو بے نقاب کردیا ۔ بھارت کے تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کے خلاف جعلی پروپیگنڈے کا عالمی نیٹ ورک ،افراد اور اداروں کی قلعی EU Disinfo labنے کھول دی ۔ جس سے یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ فاشسٹ بھارت امن نہیںجنگ چاہتا ہے۔ ان اقدامات نے غیر قانونی قابض بھارت کوبدحواس کے دورے پڑنے شروع ہوگئے ۔اپنے جرائم کو چھپانے کیلئے قابض بھارتی حکومت نے اکتوبر 2020ء سے فروری2021ء تک تین باراپنے غیر ملکی تجارتی پارٹنرز کے بھارت نوازسیاستدانوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے تین دورے کروائے ۔ جن میں اپنے مہمانوں کو خفیہ ایجنسیوں کے لوگوں اور نئے کٹھ پتلی ایجنٹوں سے ملوایا گیا ۔نہ کسی معتبر بھارت نواز سیاستدان نہ ہی کسی آزادی پسندکشمیری راہنما سے اس بارے میںامریکہ کی ریاست نیوجرسی کی یونیورسٹی میں جنوبی ایشیاء کی تاریخ کی پروفیسر حفصہ کینجوال نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ میری نظر میں اس دورے کی کوئی ساکھ نہیں میں اسے محض پروپیگنڈہ ٹور سمجھتی ہوں کیونکہ مودی حکومت کو سخت عالمی دبائو اور مذمت کا سامنا ہے جو کچھ اس نے کشمیر میں کیا ۔ دنیا اس پر ششدر ہے ۔
مواصلات منقطع کردی گئی بھاری تعداد میں لوگوں کو بلا جواز گرفتار کیاگیا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیا ںجاری ہیں امریکی کانگریس کی قرار داد نمبر 745میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارتی اقدامات کی شدیدالفاظ میں مذمت کی گئی۔ جس سے بھارتی حکومت مکمل طورپر بدحواس ہوچکی ہے ۔ اسے امریکہ کانگریس سے یہ امید نہ تھی ۔اس لئے وہ دکھاوے کے طور پر دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے دکھاوے کے اقدامات کررہا ہے ۔ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں کشمیر میں طاقت کے زور پر امن دکھانا چاہتی ہے تاکہ عالمی دبائو کم کیاجاسکے ‘‘
پروفیسر کینجوال نے بھارتی حکومت کے چنیدہ ،پسندیدہ لوگوں کے، اس دورے کو محدود ،مخصوص ،سکرپٹڈ اور پابند قرار دیتے ہوئے کہاکہ پروفیسر کینجوال نے بھارتی حکومت کی دعوت پر اکتوبر، جنوری اور فروری میں اپنے ہمدرد اور تجارتی پارٹنر ممالک کے مخصوص ممبران پارلیمنٹ کے محدود ، اور پابند دورے کے بارے میں حقائق بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ ایک سکرپٹڈ دورہ تھا وفد کو رات دیر گئے کشمیر میں داخل کیا گیا ، ان کے قافلے کو سخت پابندیوں میں سیدھا فوجی ہیڈکوارٹر لے جایا گیا جہاں 15کور کمانڈر اور سکیورٹی افسران نے انہیں سکیورٹی بریفنگ دی گئی، بعد میں ایک او ر مخصوص مقام پر لے جایاگیا جہاں حکومت نے انہیں اپنے منتخب کردہ لوگوں اور مخصوص انتہا پسند نظریات کے بھارتی صحافیوں اور خفیہ ایجنسیوں کے لوگوں کو سول سوسائٹی کے ارکان طورپر ملوایا ۔ یہ وفد ،عوام ، معتبر سیاستدانوں ، نامور سول سوسائٹی کے ارکان جو مقبوضہ جموں وکشمیر میں سخت پابندیوں میں کام کررہے ہیں ، کل جماعتی کانفرنس اور دیگر آزادی پسند راہنمائوں سے نہیں ملنے دیا گیا ۔ ‘‘
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام اور حکومت تمام عالمی فورمز پر بھر پور انداز میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرتے ہوئے اسے پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں ۔جبکہ بھارتی حکومت اور میڈیا اپنا نسل پرستانہ اقتدار قائم رکھنے ، مقبوضہ جموں وکشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کیلئے ،پاکستان کے خلاف جنگی جنون پیدا کررہے ہیں ۔
بھارتی میڈیا کا ایک بڑا مخصوص حصہ ہندوتوا کی پیروی کرتے ہوئے بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف اقدامات کو ہوا دے رہا ہے ۔ وہ بھارتی عوام میں ہندوتوا اور پاکستان دشمنی کے جذبات بھڑکانے میں پیش پیش ہے ۔ پوری دنیا جان چکی ہے کہ بھارتی میڈیا مودی مافیاء کی زیر نگرانی نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں افواہوں کی جعلی فیکٹریاں چلا رہا ہے ۔جن کے بے نقاب ہونے سے وہ پاگل پن کاشکار ہے ایک تاریخی اور عبرتناک شکست کی راہ پر گامزن ،غیر قانونی قابض بھارتی کشمیریوں کے خلاف فوجی ،عدالتی ،ریاستی دہشت گردی کی انتہا کررہے ہیں ، مسئلہ کشمیر پرپاکستان سے بات چیت سے انکاری کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والے قابض ،بھارتیوں کو بھارت نواز کشمیری سیاستدان بار بار امن کی تلقین کررہے ہیں۔
پی ڈی پی مقبوضہ جموں وکشمیر کی سربراہ کو تو بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ایک پاکستانی کے طورپر پیش کررہا ہے، وہ آج بھی بھارت نواز ہیں لیکن کشمیر کی خود مختاری کی بات کرتے ہوئے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور ان کے قتل عام کے سخت خلاف ہیں ۔ ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے کہاتھا کہ ’’ آج معلوم ہوا کہ ہمارے بزرگوں نے قائد اعظم ؒ کی بات نہ مانتے ہوئے بھارتیوں پر اعتماد کرکے کتنی بڑی غلطی کی ہے ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں کشمیریوں پر مظالم اور قتل عام پر پردہ ڈالنے کیلئے ہمیشہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا ہے ۔ اور اس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر ڈا ل دیتا ہے ۔بھارت کہتا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں امن وامان خراب کرنے کا ذمہ دار پاکستان ہے ۔ لیکن وہ پاکستان سے بات چیت کی میز پر بیٹھنے سے ہمیشہ گریز کرتا رہا ۔وقت کی ضرورت یہ کہ کشمیر میں امن اور اس مسئلے کے حل کیلئے تینوں فریق ،کشمیری ،بھارتی اور پاکستانی مل کر بیٹھیں اور بامقصد بات چیت کرکے اس مسئلے کا ٹھوس حل ڈھونڈیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہو۔‘‘
مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے خواب دیکھنے والا قابض بھارت آزادی کی تاریخوں سے نابلد ہے ۔شکست کے خوف سے مکمل طور پر بدحواس ہے ۔ وہ اپنے عالمی تجارتی پارٹنر ز کے خواہ کتنے ہی دورے کروالے ،اپنی بدحواسی کے دورے کا علاج نہیں کرواسکتا۔ جب تک وہ صاف نیت سے بامقصد اور پرامن بات چیت کا راستہ اختیار نہیں کرتا ۔آزادی کشمیریوں کا مقدرہے ۔ اگر بھارتی انتہا پسندوں نے جنگ کا راستہ اختیار کیا تو تاریخ میں ، ’’ ایک تھا بھارت ‘‘ کا جملہ ضرور تحریر ہوگا ۔ یہی نوشتہ دیوار ہے ۔ان شااللہ
بھارتی بدحواسی ،دورے اور امن؟
