جدہ کی ڈائری
امیر محمد خان
مسئلہ کشمیر پر بیرون ملک سفارت خانے مسئلہ کشمیر کو مسلسل اجاگر کرنے کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں سعودی عرب میں سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز اس مشن پر پاکستانیوں کے مسئل کی حل انہیں بہتر خدمات پہنچانے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر پر بھی موجودہ صورتحال کی بناء ( کرونا ءکی احتیاطی تدابیر ) ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں گزشتہ دنوں انہوں حریت کانفرنس کے رہنماء یسین ملک کی اہلیہ کے ہمراہ اور بیرون ملک دیگر افراد و سعودی عرب میں موجود کشمیری اور فلاحی تنظیموں کے ساتھ ایک ویب مینار کا اہتمام کیا جس میں حریت رہنما یسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں گھناونی سازش میں مصروف ہے اور اس کی آئینی حیثیت کے قانون کو ختم کرنے کے بعد کشمیر کو بھارت کی ریاست کا درجہ دینے کے در پہ ہے جو کہ کشمیری عوام پر سب سے بڑا ظلم ہے اس موقعہ پر مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ بھارت پانچ اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ وادی میں کرفیو اور لاک ڈاون لگا کر کشمیری قوم کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کیے ہوئے ہے جس سے کشمیریوں کا جینا دوبھر ہوچکا ہے ریاستی کالے قوانین بے گناہ کشمیریوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج سنگین مظالم ڈھا رہی ہے اور انسانی حقوق کو غضب کیے ہوئے ہے کشمیریوں کی ازادی کی مانگ کو بندوق کی نوک تلے دبا دینا چاہتی ہے۔ مشعال ملک نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کے حوالے سے کہا انہوں نے لوک سبھا میں ایک متنازعہ بل پاس کروایا ہے جس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی ریاست بنانے کی سازش بنائی جا رہی ہے بھارت ایک غیر آئینی بل کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو دبا نہیں سکتا اور نا ہی تحریک ازادی کو کچل سکتا ہے۔ تاہم مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو عالمی برادری کو دیکھنا ہوگا اور کشمیری قوم کو بھارتی تسلط سے چھڑوا کر ان کی آزادی کی راہ ہموار کرنی ہوگی اپنے خاوند یسین ملک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یسین ملک کو بے بنیاد مقدمات کے زریعے کبھی تہاڑ جیل اور کبھی کسی دوسری جیل منتقل کیا جاتا ہے ان کی صحت کے معاملات کے حوالے سے بھی آگاہ نہیں کیا جاتا انسانی حقوق کی تنظیموں کو یسین ملک سمیت دیگر نظر بند حریت رہنما¶ں کے حوالے سے بھی آواز اٹھانی چاہئیےویبنار کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز نے کہا کہ بھارت کشمیر میں لاکھوں بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل دینے کے علاوہ بڑے بھارتی سرمایہ داروں پر کشمیر میں زمینیں الاٹ کر رہا ہے جس سے بھارت کے عزائم کھل کر سامنے آ رہے ہیں بھارت کشمیری قوم کے سوچ اور آزادی کے برعکس کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کر رہا ہے جو کہ کسی صورت درست نہیں ہے مقبوضہ کشمیر کا ایشو 73 سال پرانا ہے اور اس کے حوالے سے اقوام متحدہ میں قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کی امنگوں اور استصواب رائے کے ذریعے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے مگر بھارت اخلاقیات کا جنازہ نکالتے ہوئے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے سنگین جرائم کر رہا ہے جس کا اثر خطے کے حالات پر بری طرح پڑے گا بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور اب تک ہزاروں کشمیری بھارتی درندگی کا نشانہ بن چکے ہیں مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم سے انسانی المیے جنم لے رہے ہیں اس حوالے سے اب جہاں دنیا بھر کی حکومتوں کو جاگنا ہوگا وہیں دنیا بھر کے لوگوں کو بھی کشمیری قوم کو بھارتی تسلط سے چھڑوانا ہوگا تاہم پاکستان کشمیری قوم سے اظہار یکجہتی کے علاوہ سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا کانفرنس سے ویبنار کے آرگنائزر خرم خان کے علاوہ ندیم بھٹی سمیت دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔
